اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ آج ایک دوست کے ہاں مجلس ترحیم میں جانا ہوا۔بعض احباب سے کچھ عجیب سننے کو ملا۔اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا قیام پاکستان کی وجہ سے ہوا۔پاکستان بھی مذہب کے نام پہ وجود میں آیا اور اسرائیل بھی مذہب کے نام پر ۔پاکستان 1947 میں اور اسرائیل ایک سال بعد 1948 میں۔وہ یہ بھول رہے تھے کہ پاکستان متحدہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے اپنے مطالبے اور سعی و کوشش سے وجود میں آیا جبکہ اسرائیل بین الاقوامی استعمار کی سازش کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

ایم اے راجپوت
پاکستان کے قیام سے پہلے دنیا کے نقشے پر بڑے بڑے مسلمان ممالک ہونے کے باوجود ،ان مسلم یا غیر مسلم ممالک نے برصغیر کے مسلمانوں کے جدا اور مستقل وطن کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی ۔کوئی تحریک نہیں چلائی ۔کوئی اجلاس نہیں بلایا جبکہ یہودیوں کے قاتل ملکوں نے بین الاقوامی استعمار خصوصا برطانیہ کی قیادت میں ہر وہ جائز و ناجائز کام کیا جو یہودیوں کے ایک جدا اور مستقل ملک کیلئے لازم تھا جبکہ یہ ممالک یہودی بھی نہیں تھے۔
پاکستان دو قومی نظریے( متحدہ ہندوستان میں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلم آباد ہیں ۔جن کے آداب و رسوم بالکل ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔اور ان کا ملکر اکٹھے رہنا مشکل ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک جدا ملک ہونا چاہئے جس میں وہ آزادی سے اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں)کے تحت وجود میں آیا جبکہ اسرائیل ہولو کاسٹ والے مظالم کے بدلے میں یہودیوں کو نوازنے کیلئے بنایا گیا۔
پاکستان متحدہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو وہاں کے ہندووں کے مظالم و تعصبات سے بچانے اور مذہبی آزادی کیلئے وجود میں آیا چونکہ مسلمان لیڈروں نے درک کر لیا تھا کہ انگریز وں کے جانے کے بعد ہندو مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیں گے ۔ ان کا یہ ادراک درست بھی تھا چونکہ آج مودی سرکار اور ہندو متعصب گروہوں نے واقعا ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں جبکہ فلسطین کے یہودیوں کو فلسطینیوں کی طرف سے کوئی مشکل نہ تھی اور نہ ہی اسرائیل فلسطین کے مقامی یہودیوں کیلئے بنا۔اسرائیل تو پوری دنیا کے صہیونیوں کیلئے بنایا گیا ہے۔
پاکستان متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے دو قومی نظریے کے تحت ہندوستان کی اپنی سرزمین پر ہی بنا جبکہ اسرائیل جرمنی یا برطانیہ کی اپنی سرزمین پر نہیں بنا ۔اسرائیل تو فلسطین میں آکر بنایا گیا۔ ہولوکاسٹ اگر سچ مچ ہوا بھی ہو تو وہ فلسطینیوں کا جرم نہیں تھا ۔اگر واقعا نازیوں نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا اور اب ان کیلئے جدا ملک بنانا تھا تو جرمنی میں بناتے۔اگر ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا تو امریکہ کی ایک ریاست یہودیوں کو دے دیتے۔اگر برطانیہ یہودیوں کا اتنا ہی خیر خواہ تھا تو اپنی سرزمین کے دروازے یہودیوں پر کھول دیتا۔
پاکستان بننے کے بعد آج تک پاکستان کا صدر ،وزیر اعظم ،آرمی چیف ،چیف جسٹس یا کسی بھی اور مہم عہدے کا ذمہ دار کسی دوسرے ملک حتی مسلمان ملک کا رہائشی نہیں بنا ۔قائد اعظم محمد علی جناح صاحب سے لیکر آج تک سب اسی مٹی کی پیداوار تھے جبکہ اسرائیل کے تمام مسئولین ابتدا سے لے کر آج تک سب کے سب مختلف ممالک سے آئے ہوئے صہیونی ہیں ۔
پاکستان قرارداد کے مطابق ان علاقوں پر مشتمل ایک ملک بنناتھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی ۔جس میں انگریز سرکار نے خیانت کی اور بعض مسلمان اکثریتی علاقے ہندوستان کو دے دئیے اور کشمیر کا مسئلہ بیچ میں چھوڑ دیا۔لیکن یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جن جن علاقوں پر مشتمل پاکستان بنا تھا وہاں کے رہائشی مقامی لوگ تھے ،دوسرے اسلامی ملکوں سے مسلمانوں کو نہیں لایا گیا تھا۔بنگال میں سب بنگالی مسلمان تھے۔پنجاب میں سب پنجابی مسلمان ۔سندھ میں سب سندھی مسلمان سرحد میں سب سرحدی مسلمان اور بلوچستان میں سب بلوچی مسلمان یعنی سب مقامی مسلمان تھے سب ہندوستان کے رہائشی تھے۔جبکہ اسرائیل مقامی یہودیوں نے نہیں بنایا اور نہ ہی سارے یہودی فلسطینی ہیں۔چونکہ مقامی یہودی تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھے۔اسرائیل بنانے کا جب منصوبہ پاس ہوا اور اس کیلئے بیچارے فلسطین پر قبضے کا انتخاب ہوا تو مختلف یورپی ممالک سے یہودیوں کو لاکر یہاں آباد کیا گیا۔ ان کے پاس دوہری شہریت ہے یعنی اسرائیلی یہودیوں نے اپنے اپنے اصلی وطن کو بھی خدا حافظ نہیں کہا۔
ممکن ہے آپ کہیں پاکستان کے بعض شہروں میں بھی مہاجر ہیں تو عرض یہ ہے کہ یہ مہاجر دنیا کے مختلف اسلامی ممالک سے نہیں لائے گئے ۔یہ مہاجر متحدہ ہندوستان ہی کے رہائشی ہیں، اسی مٹی کی پیداوار ہیں۔جب ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو اس وقت فیصلہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں میں سے جو مسلمان پاکستان جانا چاہیں جا سکیں گے اور اسی طرح پاکستان میں رہنے والے ہندووں اور سکھوں میں سے بھی جو ہندوستان جانا چاہیں جا سکیں گے۔اس معاہدے کے تحت ہندوستان سے کچھ مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور اسی طرح پاکستان سے کچھ ہندو اور سکھ ہندوستان چلے گئے۔چونکہ پہلے یہ ایک ملک تھا لہذا اس نقل مکانی کو فلسطین میں یہودیوں کے لائے جانے سے نہیں جوڑا جا سکتا ۔وہاں تو پوری دنیا سے یہودیوں کو لاکر آباد کیا گیا اور انھیں لالچ دیا گیا کہ اس جنت نظیر علاقے میں تمہارے لئے ایک ملک بنائیں گے جو امن کا گہوارہ ہو گا ۔
پاکستان سے ہندوستان جانے والے ہندو اور سکھ اپنی مرضی سے ہندوستان کی حکومت یا اپنے رشتہ داروں کی خواہش سے پاکستان چھوڑ کر چلے گئے جبکہ فلسطین سے ہجرت کر جانے والے فلسطینی مسلمان دیگر ہمسایہ ملکوں اور پورپی ممالک میں جاکر پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔انھیں گھروں سے نکال دیا گیا۔ان کے گھر چھین لئے گئے یا گرا دئیے گئے۔بہت سارے فلسطینی تو آج 75 سال بعد بھی خیموں میں زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ ہندوستان میں تو ایسا کوئی کیمپ نہیں ۔پاکستان سے ہندوستان جانے والے ہندووں کو بہترین گھر دئیے گئے ۔جو گھر اور جائیدادیں مسلمان چھوڑ آئے تھے ان جانے والوں کو دئیے گئے اور اسی طرح ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مسلمانوں کو پاکستان میں گھر اور جائیدادیں الاٹ کی گئیں جبکہ فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپوں پر بھی بم برسائے جاتےہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کیلئےپاکستان بنا تو ساتھ ہی ہندووں کیلئے ہندوستان بھی بن گیا لیکن فلسطینی مسلمانوں کیلئے 75 سال گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک فلسطین نام کا ملک نہیں بنایا گیا ۔اسرائیل بن گیا اور فلسطین ختم کردیا گیا ۔آج بہت سارے بین الاقوامی اداروں میں اسرائیل کی نمائندگی ہے لیکن فلسطین کی نہیں چونکہ اسرائیل فلسطین کی سرزمین پر قابض ہے۔
پاکستان بننے سے پہلے بھی مسلمانوں کے بہت سے ممالک تھے ۔اسلامی سرزمین پر کسی نہ کسی رنگ میں مسلمانوں ہی کی حکومت تھی اور ان ملکوں سے مسلمانوں کو ہندوستان لاکر آباد نہیں کیا گیا۔جبکہ اسرائیل بننے سے پہلے دنیا کے نقشے پر یہودیوں کا کوئی ملک نہ تھا اس لئے انھیں مختلف ملکوں سے لاکر فلسطین میں آباد کیا گیا۔پس پاکستانی مسلمان مقامی لوگ ہیں جبکہ اسرائیلی یہودی مقامی لوگ نہیں ۔باہر سے لائے گئے لوگ ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چند بار جنگ ہو چکی ہے لیکن کسی جنگ میں بھی یورپی یا مسلم ممالک نے ہندوستان کے خلاف پاکستان کی حمایت میں فوجیں ،اسلحہ ،ڈراؤن ،بحری بیڑے اور ہوائی جہاز نہیں بھیجے جبکہ اسرائیل اور فلسطینی مجاہدین کے درمیان جب بھی جنگ چھڑتی امریکہ اور یورپی ممالک سب کچھ اسرائیل کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں گویا جنگ اسرائیل سے نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ سے ہو رہی ہو۔ایسا سمجھنا درست بھی ہے چونکہ اسرائیلی انھیں ملکوں سے آئے ہوئے ہیں ۔ان ملکوں کے اپنے باشندے ہیں۔
آخری فرق یہ بھی ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کر کے ان کے علاقوں پر قبضہ نہیں کیا جبکہ اسرائیل نے ایک طرف 82 فی صد فلسطین پر اور دیگر اپنے ہمسایہ ممالک کے بھی بہت سارے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔
مصر ،اردن اور شام کے بڑے بڑے علاقے اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔جنوبی لبنان پر بھی اسرائیل کا قبضہ تھا جو حزب اللہ نے بزور بازو چھڑوایا۔کیا پاکستان نے بھی اپنے قیام کے بعد ہندوستان کے اکثر اور چین ،ایران و افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر قبضہ کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان اور قیام اسرائیل کے درمیان کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی۔جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ یا تو دانستہ یا نا دانستہ طور پر یہودیوں کے ایجنٹ ہیں یا پھر نہ ہی انھیں قیام پاکستان کے عوامل و اہداف کا علم ہے اور نہ اسرائیل کے قیام کے عوامل و اہداف کی خبر۔نہ ہی قیام پاکستان کے وقت اور اس سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات کی اطلاع اور نہ ہی فلسطین کے غیور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا مطالعہ۔بس پروپیگنڈہ کرتے ہیں یا پروپیگنڈے کے شکار ہو جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے پروپیگنڈے کو نظریہ سمجھ کر اس کی ترویج شروع کر دیتے ہیں۔
افکار و نظریات: police, army, pakistan, amrica
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں