پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ
ایم اے راجپوت

آج ایک دوست کے ہاں مجلس ترحیم میں جانا ہوا۔بعض احباب سے کچھ عجیب سننے کو ملا۔اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا قیام پاکستان کی وجہ سے ہوا۔پاکستان بھی مذہب کے نام پہ وجود میں آیا اور اسرائیل بھی مذہب کے نام پر ۔پاکستان 1947 میں اور اسرائیل ایک سال بعد 1948 میں۔وہ یہ بھول رہے تھے کہ پاکستان متحدہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے اپنے مطالبے اور سعی و کوشش سے وجود میں آیا جبکہ اسرائیل بین الاقوامی استعمار کی سازش کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
پاکستان کے قیام سے پہلے دنیا کے نقشے پر بڑے بڑے مسلمان ممالک ہونے کے باوجود ،ان مسلم یا غیر مسلم ممالک نے برصغیر کے مسلمانوں کے جدا اور مستقل وطن کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی ۔کوئی تحریک نہیں چلائی ۔کوئی اجلاس نہیں بلایا جبکہ یہودیوں کے قاتل ملکوں نے بین الاقوامی استعمار خصوصا برطانیہ کی قیادت میں ہر وہ جائز و ناجائز کام کیا جو یہودیوں کے ایک جدا اور مستقل ملک کیلئے لازم تھا جبکہ یہ ممالک یہودی بھی نہیں تھے۔
پاکستان دو قومی نظریے( متحدہ ہندوستان میں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلم آباد ہیں ۔جن کے آداب و رسوم بالکل ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔اور ان کا ملکر اکٹھے رہنا مشکل ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک جدا ملک ہونا چاہئے جس میں وہ آزادی سے اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں)کے تحت وجود میں آیا جبکہ اسرائیل ہولو کاسٹ والے مظالم کے بدلے میں یہودیوں کو نوازنے کیلئے بنایا گیا۔
پاکستان متحدہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو وہاں کے ہندووں کے مظالم و تعصبات سے بچانے اور مذہبی آزادی کیلئے وجود میں آیا چونکہ مسلمان لیڈروں نے درک کر لیا تھا کہ انگریز وں کے جانے کے بعد ہندو مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیں گے ۔ ان کا یہ ادراک درست بھی تھا چونکہ آج مودی سرکار اور ہندو متعصب گروہوں نے واقعا ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں جبکہ فلسطین کے یہودیوں کو فلسطینیوں کی طرف سے کوئی مشکل نہ تھی اور نہ ہی اسرائیل فلسطین کے مقامی یہودیوں کیلئے بنا۔اسرائیل تو پوری دنیا کے صہیونیوں کیلئے بنایا گیا ہے۔
پاکستان متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے دو قومی نظریے کے تحت ہندوستان کی اپنی سرزمین پر ہی بنا جبکہ اسرائیل جرمنی یا برطانیہ کی اپنی سرزمین پر نہیں بنا ۔اسرائیل تو فلسطین میں آکر بنایا گیا۔ ہولوکاسٹ اگر سچ مچ ہوا بھی ہو تو وہ فلسطینیوں کا جرم نہیں تھا ۔اگر واقعا نازیوں نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا اور اب ان کیلئے جدا ملک بنانا تھا تو جرمنی میں بناتے۔اگر ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا تو امریکہ کی ایک ریاست یہودیوں کو دے دیتے۔اگر برطانیہ یہودیوں کا اتنا ہی خیر خواہ تھا تو اپنی سرزمین کے دروازے یہودیوں پر کھول دیتا۔
پاکستان بننے کے بعد آج تک پاکستان کا صدر ،وزیر اعظم ،آرمی چیف ،چیف جسٹس یا کسی بھی اور مہم عہدے کا ذمہ دار کسی دوسرے ملک حتی مسلمان ملک کا رہائشی نہیں بنا ۔قائد اعظم محمد علی جناح صاحب سے لیکر آج تک سب اسی مٹی کی پیداوار تھے جبکہ اسرائیل کے تمام مسئولین ابتدا سے لے کر آج تک سب کے سب مختلف ممالک سے آئے ہوئے صہیونی ہیں ۔
پاکستان قرارداد کے مطابق ان علاقوں پر مشتمل ایک ملک بنناتھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی ۔جس میں انگریز سرکار نے خیانت کی اور بعض مسلمان اکثریتی علاقے ہندوستان کو دے دئیے اور کشمیر کا مسئلہ بیچ میں چھوڑ دیا۔لیکن یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جن جن علاقوں پر مشتمل پاکستان بنا تھا وہاں کے رہائشی مقامی لوگ تھے ،دوسرے اسلامی ملکوں سے مسلمانوں کو نہیں لایا گیا تھا۔بنگال میں سب بنگالی مسلمان تھے۔پنجاب میں سب پنجابی مسلمان ۔سندھ میں سب سندھی مسلمان سرحد میں سب سرحدی مسلمان اور بلوچستان میں سب بلوچی مسلمان یعنی سب مقامی مسلمان تھے سب ہندوستان کے رہائشی تھے۔جبکہ اسرائیل مقامی یہودیوں نے نہیں بنایا اور نہ ہی سارے یہودی فلسطینی ہیں۔چونکہ مقامی یہودی تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھے۔اسرائیل بنانے کا جب منصوبہ پاس ہوا اور اس کیلئے بیچارے فلسطین پر قبضے کا انتخاب ہوا تو مختلف یورپی ممالک سے یہودیوں کو لاکر یہاں آباد کیا گیا۔ ان کے پاس دوہری شہریت ہے یعنی اسرائیلی یہودیوں نے اپنے اپنے اصلی وطن کو بھی خدا حافظ نہیں کہا۔
ممکن ہے آپ کہیں پاکستان کے بعض شہروں میں بھی مہاجر ہیں تو عرض یہ ہے کہ یہ مہاجر دنیا کے مختلف اسلامی ممالک سے نہیں لائے گئے ۔یہ مہاجر متحدہ ہندوستان ہی کے رہائشی ہیں، اسی مٹی کی پیداوار ہیں۔جب ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو اس وقت فیصلہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں میں سے جو مسلمان پاکستان جانا چاہیں جا سکیں گے اور اسی طرح پاکستان میں رہنے والے ہندووں اور سکھوں میں سے بھی جو ہندوستان جانا چاہیں جا سکیں گے۔اس معاہدے کے تحت ہندوستان سے کچھ مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور اسی طرح پاکستان سے کچھ ہندو اور سکھ ہندوستان چلے گئے۔چونکہ پہلے یہ ایک ملک تھا لہذا اس نقل مکانی کو فلسطین میں یہودیوں کے لائے جانے سے نہیں جوڑا جا سکتا ۔وہاں تو پوری دنیا سے یہودیوں کو لاکر آباد کیا گیا اور انھیں لالچ دیا گیا کہ اس جنت نظیر علاقے میں تمہارے لئے ایک ملک بنائیں گے جو امن کا گہوارہ ہو گا ۔
پاکستان سے ہندوستان جانے والے ہندو اور سکھ اپنی مرضی سے ہندوستان کی حکومت یا اپنے رشتہ داروں کی خواہش سے پاکستان چھوڑ کر چلے گئے جبکہ فلسطین سے ہجرت کر جانے والے فلسطینی مسلمان دیگر ہمسایہ ملکوں اور پورپی ممالک میں جاکر پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔انھیں گھروں سے نکال دیا گیا۔ان کے گھر چھین لئے گئے یا گرا دئیے گئے۔بہت سارے فلسطینی تو آج 75 سال بعد بھی خیموں میں زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ ہندوستان میں تو ایسا کوئی کیمپ نہیں ۔پاکستان سے ہندوستان جانے والے ہندووں کو بہترین گھر دئیے گئے ۔جو گھر اور جائیدادیں مسلمان چھوڑ آئے تھے ان جانے والوں کو دئیے گئے اور اسی طرح ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مسلمانوں کو پاکستان میں گھر اور جائیدادیں الاٹ کی گئیں جبکہ فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپوں پر بھی بم برسائے جاتےہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کیلئےپاکستان بنا تو ساتھ ہی ہندووں کیلئے ہندوستان بھی بن گیا لیکن فلسطینی مسلمانوں کیلئے 75 سال گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک فلسطین نام کا ملک نہیں بنایا گیا ۔اسرائیل بن گیا اور فلسطین ختم کردیا گیا ۔آج بہت سارے بین الاقوامی اداروں میں اسرائیل کی نمائندگی ہے لیکن فلسطین کی نہیں چونکہ اسرائیل فلسطین کی سرزمین پر قابض ہے۔
پاکستان بننے سے پہلے بھی مسلمانوں کے بہت سے ممالک تھے ۔اسلامی سرزمین پر کسی نہ کسی رنگ میں مسلمانوں ہی کی حکومت تھی اور ان ملکوں سے مسلمانوں کو ہندوستان لاکر آباد نہیں کیا گیا۔جبکہ اسرائیل بننے سے پہلے دنیا کے نقشے پر یہودیوں کا کوئی ملک نہ تھا اس لئے انھیں مختلف ملکوں سے لاکر فلسطین میں آباد کیا گیا۔پس پاکستانی مسلمان مقامی لوگ ہیں جبکہ اسرائیلی یہودی مقامی لوگ نہیں ۔باہر سے لائے گئے لوگ ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چند بار جنگ ہو چکی ہے لیکن کسی جنگ میں بھی یورپی یا مسلم ممالک نے ہندوستان کے خلاف پاکستان کی حمایت میں فوجیں ،اسلحہ ،ڈراؤن ،بحری بیڑے اور ہوائی جہاز نہیں بھیجے جبکہ اسرائیل اور فلسطینی مجاہدین کے درمیان جب بھی جنگ چھڑتی امریکہ اور یورپی ممالک سب کچھ اسرائیل کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں گویا جنگ اسرائیل سے نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ سے ہو رہی ہو۔ایسا سمجھنا درست بھی ہے چونکہ اسرائیلی انھیں ملکوں سے آئے ہوئے ہیں ۔ان ملکوں کے اپنے باشندے ہیں۔
آخری فرق یہ بھی ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کر کے ان کے علاقوں پر قبضہ نہیں کیا جبکہ اسرائیل نے ایک طرف 82 فی صد فلسطین پر اور دیگر اپنے ہمسایہ ممالک کے بھی بہت سارے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔
مصر ،اردن اور شام کے بڑے بڑے علاقے اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔جنوبی لبنان پر بھی اسرائیل کا قبضہ تھا جو حزب اللہ نے بزور بازو چھڑوایا۔کیا پاکستان نے بھی اپنے قیام کے بعد ہندوستان کے اکثر اور چین ،ایران و افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر قبضہ کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان اور قیام اسرائیل کے درمیان کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی۔جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ یا تو دانستہ یا نا دانستہ طور پر یہودیوں کے ایجنٹ ہیں یا پھر نہ ہی انھیں قیام پاکستان کے عوامل و اہداف کا علم ہے اور نہ اسرائیل کے قیام کے عوامل و اہداف کی خبر۔نہ ہی قیام پاکستان کے وقت اور اس سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات کی اطلاع اور نہ ہی فلسطین کے غیور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا مطالعہ۔بس پروپیگنڈہ کرتے ہیں یا پروپیگنڈے کے شکار ہو جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے پروپیگنڈے کو نظریہ سمجھ کر اس کی ترویج شروع کر دیتے ہیں۔

ہمیں جوائن کیجئے


افکار و نظریات: police, army, pakistan, amrica