نہیں ہے ناامید اقبالؔ
ایم اے راجپوت

میاں صاحب کی چار سالہ خودساختہ جلا وطنی کے بعد واپسی ہو گئی۔ان کا علاج معالجہ ہو گیا ہے۔اپنے سگے بھائی کی وزارت عظمی کے 16 ماہ بھی انہوں نے بیرون ملک گزارے۔ پی ڈی ایم حکومت درحقیقت میاں صاحب کی اپنی حکومت تھی۔ہر فیصلہ میاں صاحب کے آرڈر کے مطابق ہوتا تھا حتی پوری پوری کابینہ اسلام آباد کے بجائے لندن میاں صاحب کے حضور جاکر میٹنگ کرتی تھی ۔تمام اہم فیصلے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد کی بجائے میاں صاحب کے دفتر لندن میں ہوتے تھے ۔ بہر حال جو ماحول 2018 والے الیکشن کے وقت خان صاحب کیلئے بنایا گیا تھا اب بڑے میاں صاحب کیلئے بنایا گیا ہے ۔
بس میاں صاحب کے آنے کی دیر تھی۔جو انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے تھے یکا یک ان کا اعلان بھی ہو گیا۔ اور ن لیگ اور نئی کنگ پارٹی نے الیکشن کمپین بھی شروع کردی۔خان خود اگرچہ جیل میں ہے لیکن اس کی فکر جیل سے باہر گردش میں ہے ۔اب لوگوں کو سوچنے کا مرض لگ چکا ہے۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ وہی نواز شریف صاحب ہیں جو گزشتہ 35 سال سے حکومت کرتے آرہے ہیں۔پہلے پنجاب کے وزیر اعلی اور پھر تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ میاں صاحب ہر دفعہ ایک نئے بیانیے، نئے چہرے اور نئے نعرے کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں۔

ایک زمانے میں میاں صاحب نے "قرض اتارو ملک سنوارو"کا دلفریب نعرہ لگایا ۔لوگوں نے خوب چندہ دیا ۔ اندرون و بیرون ملک سے ہر پاکستانی محب وطن نے دل کھول کر مدد کی حتی کہ خان صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی میاں صاحب کا ساتھ دیا لیکن اس چندے کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا، اُس کا سب کو پتہ ہے۔
جب تیسری بار انہیں وزارت عظمی سے ہٹایا گیا تومیاں صاحب نے وقتی طور پر جرائت دکھائی اور ہر جگہ کہتے تھے کہ "مجھے کیوں نکالا "۔پھر میاں صاحب نے ایک زبردست قسم کا بیانیہ بنایا جس کے مطابق میاں صاحب کا نعرہ تھا"ووٹ کو عزت دو "۔ اب آنے والے انتخابات کی نسبت عام آدمی یہی سمجھ رہا تھا کہ نون لیگ اسی بیانیے اور نعرے کی بنیاد پر الیکشن لڑے گی لیکن میاں صاحب اور ان کی جماعت اب اس بیانیے سے بھی پھر گئے ہیں۔اور نیا کوئی دلفریب بیانیہ ابھی تک نہیں بنا سکے۔
پھر بعض لوگوں کو زعم تھا کہ چھوٹے میاں بہت اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں ۔پنجاب کی وزارت اعلی بہت اچھے انداز میں کی ہے ۔لہذا جب یہ وزیراعظم بنیں گے تو پورے پاکستان کو لاہور بنا دیں گے ۔ہواکچھ یوں کہ نا امنی عروج پہ چلی گئی،مہنگائی آسمان کو چھونے لگی،لوگ بھوکے مرنے لگے، بل اتنے زیادہ کہ لوگ خودکشیاں کرنے لگے،تکفیری بل کٹھ پتلی اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہونے لگے۔۔۔
بہرحال اس وقت تک نون لیگ چار مرتبہ پورے ملک پر حکومت کر چکی ہے۔ بڑے میاں کے لئے ہمارے دو بڑےمشورے ہیں ۔ایک اپنے امور میں منصوبہ بندی اور جرائت سے کام لیا کریں اور دوسرے اپنے بیانئے نہ بدلا کریں۔ چھوٹے میاں کی تو حالت یہ ہے کہ انھیں ڈھنگ سے مانگنا بھی نہیں آتا ۔وزارت عظمی کے شوق میں صرف ملک کو ہی تباہی کے دہانے تک نہیں لائے بلکہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بھی بنے۔کہنا کچھ ہوتا تھا اور کہہ کچھ اور دیتے تھے۔
ہمارا دونوں کیلئے یہ بھی مشورہ ہے کہ اب بڑے یا چھوٹے میاں نہیں کسی اور کو موقع دیا جائے ۔ہمارا مقتدر اداروں کو بھی یہ مشورہ ہے کہ آپ نے کرنی تو اپنی ہی مرضی ہے البتہ ملک و قوم کی مصلحت یہ ہے کہ آپ کوئی دیانت دار، محنتی اور مخلص آدمی تلاش کریں ۔ بقولِ اقبال

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

کاپی پیسٹ کے بجائے ہمیں جوائن کیجئے

کلک کریں

اداریہ جات

پسندیدہ ترین: کلک کریں