عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک پاورپلانٹ میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بغداد سے ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پرواقع شہر سامرا میں ایک پاورپلانٹ میں گرنیڈ اور بارودی بیلٹ پہنے تین حملہ آور داخل ہوئے اور دھماکوں سے 7 افراد ہلاک اور12 زخمی ہوگئے، ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملے داعش نے کئے ہیں۔

اسی طرح آج صومالیہ میں بھی  خودکش حملے میں 7فوجی ہلاک 10زخمی ہوگئے ،حملہ الشاب کے جنگجوں نے کیا ،عسکریت پسند فوجی مرکز کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوے ،جھڑپ دو گھنٹوں جاری رہی۔

عراق اور صومالیہ کے علاوہ آج میانمار میں دو دھماکوں اور فائرنگ میں خاتون سمیت متعدد روہنگیا مسلمان زخمی ہوگئے۔ دھماکے بنگلادیش کی سرحد کے قریب پچاس میٹر دور میانمار کی سرحدی حدود میں ہوئے۔ بنگلادیشی فوجی کے مطابق دھماکوں کے بعد فائرنگ بھی ہوئی۔ اس وقت نوے ہزار روہنگیا مسلمان سرحد پر موجود تھے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ نہتے افراد پر خود کش حملے کرنے والا کوئی بھی  جہادی گروہ  برما کے مسلمانوں کی حفاظت کا اعلان نہیں کر  رہا دوسری طرف  سعودی قیادت میں بنایا جانے والا فوجی اتحاد بھی میانمار کے مسلمانوں کے حوالے سے بالکل خاموش ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ  خود کش جہادیوں اور سعودی فوجی اتحاد  کو کسی ایک ہی مرکز سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اپنے ایک  کھلےخط میں میانمار (برما) میں مسلمانوں پر جاری تشدد اور فوج کے ذریعے جبری ملک بدری کی پر زور مذمت کی ہے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور ترکی کے صدر کے نام بھیجے گئے اپنے علیحدہ علیحدہ خطوط میں قتل عام رکوانے کے لیے فوری اقدامات اور موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔

یاد رہے کہ اسی طرح کا ایک خط مولانا سمیع الحق بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام لکھ چکے ہیں۔

رپورٹ: وائس آف نیشن

 

 


افکار و نظریات: عراق, صومالیہ اور میانمار میں خود کش دھماکے