اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ایک فوجی کی نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل جب ایک نوجوان بڑے ذوق و شوق سے فوج میں بھرتی ہوتا ہے،برس ہا برس کی محنت، مشقت اور ریاضت سے فوجی بنتا ہے،وردی پہن کر بندوق اٹھاتا ہے،پھر جنگ کا انتظار کرتا ہے،جنگ شروع ہونے پر محاذ پر جاتا ہے،اور ایک دن،اپنے دشمن کو اپنے سامنے دیکھتا ہے،بندوق اٹھا کر لبلبی پر انگلی رکھتا ہے،تو کیا وہ لبلبی دبا کر دشمن کو قتل کر دیتا ہے؟ وہ جان گئے کہ فوجیوں کا کسی دہشت گرد اور کسی ٹیررسٹ کو قتل کرنا کسی نیک انسان کو مارنے سے آسان ہےچنانچہ اس فیصلے کے بعد امریکی جرنیلوں نے دشمن کوجانور، دہشت گرد، انسانیت کا دشمن اور غدار جیسے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا۔ اس طرح فوجیوں کے لیے ان کو قتل کرنا آسان ہو گیا۔فوجی ٹریننگ میں ان نفسیاتی حربوں کے استعمال کا امریکی جرنیلوں کو یہ فائدہ ہوا کہ دوسری جنگ عظیم میں دشمن پر گولی چلانے والوں کی تعداد پندرہ فیصد تھی تو کوریا کی جنگ میں وہ تعداد پچپن فیصد ہو گئی اور ویت نام کی جنگ میں وہ بڑھ کر پچانوے فیصد ہو گئی۔ ساری دنیا میں بہت سے فوجی جو نوجوانی میں بڑے ذوق و شوق سے فوج میں شامل ہو گئے تھے اور جنگ میں محاذ پر گئے تھے ان میں سے بہت سے فوجی بڑھاپے تک پہنچتے پہنچتے احساس ندامت و خجالت کا شکار ہو گئے۔ میں نے ایسے بوڑھے فوجیوں کے حوالے سے کئی برس پیشتر ایک نظم لکھی تھی جو آپ کی خدمت میں حاضر ہے مجھے ہر جنگ میں ہر معرکے میں فخر تھا اس کا مری اس آگہی کے بعد مجھ پر اک قیامت ہی تو گزری تھی
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

یا کچھ سوچ کر بندوق نیچے رکھ دیتا ہے؟یہ وہ سوال تھے جن کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک امریکی فوجی اور ماہر نفسیات لیفٹیننٹ کرنل ڈیو کروسمین نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے" ON KILLING "یہ کتاب فوجیوں کی نفسیات پر ایک مستند تصنیف ہے۔
اس کتاب میں ڈیو کروسمین نے بہت سے محققین کی آرا کو یکجا کیا ہے۔ میں اس کالم میں اس کتاب کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ڈیو کروسمین لکھتے ہیں کہ جب دوسری جنگ عظیم کے بعد فوجی محقق مارشل نے ہزاروں فوجیوں کے انٹرویو لیے تو انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان فوجیوں میں سے صرف پندرہ فیصد نے وقت آنے پر گولی چلائی۔ اپنی تمام تر تیاری اور ٹریننگ کے باوجود جب دشمن ان کے سامنے آیا تو وہ اس پر گولی نہ چلا سکے۔ ان کے اندر کوئی ایسی طاقت تھی جس نے انہیں دشمن کو قتل کرنے سے روک دیا۔ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک پراسرار طاقت ہے جو اسے کسی دوسرے انسان کی جان لینے سے روکتی ہے۔ بعض ماہرین اسے زندگی سے محبت کی جبلت کہتے ہیں، بعض انسانی ہمدردی اور بعض اسے ضمیر کا نام دیتے ہیں۔
امریکہ میں جب جنگ کے ماہرین اور جرنیلوں کو اس حقیقت کا پتہ چلا تو انہوں نے اسے اپنی ٹریننگ کی ناکامی جانا۔انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم نے اپنے فوجیوں کی اعلیٰ ٹریننگ نہیں کی کیونکہ اگر کامیاب ٹریننگ کی ہوتی تو وقت آنے پر وہ دشمن کو مار ڈالتے کیونکہ ان جرنیلوں کی نگاہ میں جنگ کا مقصد دشمن کر ہرانا اور ان کے سپاہیوں کو مارنا ہی تو ہوتا ہے۔
اس آگہی کے بعد ماہرین جنگ نے یہ نفسیاتی تحقیق کی کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو فوجیوں کو دشمن کو قتل کرنے سے روکتے ہیں۔ ان کی تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ دشمن جتنا فوجی کے قریب ہوتا ہے وہ جتنا اس کا چہرہ اور آنکھیں دیکھ سکتا ہے اس کے لیے گولی چلانا نفسیاتی طور پر مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جنگ کی تیاری کرنے والوں نے یہ کوشش کی کہ دشمن کو دور سے مارا جائے تا کہ اس کا چہرہ دکھائی نہ دے۔ماہرین جنگ نے جانا کہ دشمن کو پانچ فٹ کے فاصلے سے گولی مارنا مشکل ہے لیکن اس پر پانچ سو فٹ دوری سے بم پھینکنا آسان ہے۔
فوجی جرنیلوں نے اپنی ٹریننگ کے اصول و ضوابط بھی بدلے۔ ایک تبدیلی یہ تھی کہ فوجیوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ سمجھیں کہ وہ کسی انسان کو نہیں بلکہ ایک، ٹارگٹ، پر گولی چلا رہے ہیں۔ کسی انسان کو ٹارگٹ کہنے سے اس میں سے اس کی انسانیت ختم ہو جاتی ہے۔ کسی ٹارگٹ پر گولی چلانا کسی انسان کو قتل کرنے سے آسان ہے۔
فوجی ماہرین نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اگر وہ دشمن کو ایسا غیر انسانی منفی نام دیں جس سے نفرت کرنا آسان ہو تو اسے قتل کرنا بھی آسان ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد انہوں نے دشمن کو شدت پسند، اور دہشت پسندکہنا شروع کیا۔
فوجی جرنیل تو اس تبدیلی سے بہت خوش تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کی ٹریننگ کامیاب ہوئی ہے لیکن وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھے کہ اس قتل و غارت کی بھاری قیمت ان فوجیوں نے ادا کی۔وہ قیمت کیا تھی؟
وہ امریکی فوجی جنہوں نے ویت نام کی جنگ میں دشمنوں کو قتل کیا یا اس قتل میں مدد کی ان کی بھاری اکثریت کو
"PTSD…POST TRAUMATIC STREE DISORDER"
کا سامنا کرنا پڑا۔پی ٹی ایس ڈی کے نفسیاتی مسئلے کے شکار فوجیوں کو نہ دن کو چین آتا ہے
نہ راتوں کو نیند۔نیند آئے بھی تو ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔اور وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس عارضے سے وہ فوجی خود بھی اور ان کے خاندان بھی بڑی اذیت سے گزرتے ہیں۔
ویت نام کے فوجیوں کو ایک اور مسئلے کا سامنا کرنا پڑا اور وہ سماجی رد عمل تھا۔ چونکہ بہت سے امریکی ویت نام کی جنگ کے خلاف تھے اس لیے جنگ کے بعد جب وہ ان فوجیوں کو گلیوں بازاروں سڑکوں اور بسوں میں دیکھتے تھے تو ان کے منہ پر تھوکتے تھے اور نعرے لگاتے تھے۔تم قاتل ہو،تم جابر ہو،تم ظالم ہو۔۔۔بہت سے امریکی فوجی اس رد عمل کے لیے تیار نہ تھے۔
عراق کی جنگ میں جو امریکی فوجی پی ٹی ایس ڈی کا شکار ہوئے ان کی کہانیاں پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ نہتے اور معصوم شہریوں کو قتل کریں۔ نہتے شہریوں پر گولی چلانا جلد یا بدیر فوجیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بوڑھا فوجی
زمانہ اس کو بیتا ہے
میں فوجی تھا
میں اپنے دیس کا ادنیٰ سا خادم تھا
میں اپنے ملک و مذہب کا بہت مخلص سپاہی تھا
بہت سی جنگوں میں میں جان کی بازی لگا کر لوٹ آیا تھا
بہت سے معرکوں میں موت کو چھو کے آیا تھا
حقیقت کا میں پیرو تھا
صداقت کا مبلغ تھا
محبت میرا مذہب تھا
مجاہد بن کے زندہ تھا
شہادت میرا مقصد تھا
مگر پھر رفتہ رفتہ مجھ کو اپنے ساتھیوں کے حکمرانوں کے
چھپے منصوبوں اور ہر راز درپردہ سے آگاہی ہوئی حاصل
ہوا معلوم یہ مجھ کو
صداقت تھی کہاں کشور کشائی کا جنوں تھا اک
حقیقت جو بظاہر تھی سراپا اک تعصب تھا
محبت نام تھا۔ فرعونیت تھی اس کے پردے میں
مرے دل میں مرا احساس کانٹا بن کے چبھتا تھا
مرے دل میں سوالوں کا عجب طوفان اٹھتا تھا
میں خود سے پوچھتا یہ تھا کہ میری اصلیت کیا ہے؟
سپاہی ہوں کہ ظالم ہوں؟
مجاہد ہوں کہ قاتل ہوں؟
اسی احساس کا اس سوچ کا اب یہ نتیجہ ہے
کہ اپنی فوج کو چھوڑے ہوئے عرصہ ہوا لیکن
مرا ماضی مرے کاندھوں پہ بھاری بوجھ ہے اب تک۔
افکار و نظریات: police, army, pakistan, amrica
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں