غزہ اور ایمان کا تقاضا
ایم اے راجپوت

برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت انگلستان نے ختم کی۔ انگریز سالہا سال ہمارے منطقے پر قابض رہا اور جاتے ہوئے جو غیر منصفانہ تقسیم کر کے گیا اس کا خمیازہ آج بھی ہمارے کشمیری بہن بھائی بھگت رہے ہیں۔غزہ میں ظلم کی آندھی تھم نہیں رہی۔ کئی سالوں سے امریکہ و پورپ کی بہت مذمت ہو چکی۔مردہ باد امریکہ ،مردہ باد اسرائیل ،مردہ باد انگلستان اور مردہ باد فرانس جیسے نعرے اپنی جگہ بہت اچھے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جن ممالک میں عوام یہ نعرے لگاتے ہیں وہاں کے حکمرانوں سمیت وہاں کی ساری ٹیکنالوجی ہی میڈن ان یورپ اور میڈ ان امریکہ ہے۔
امریکہ نے جو کچھ افغانستان اور عراق میں کیا اس کے زخم بھی ابھی تازہ ہیں۔ایٹمی اسلحے کا بہانہ بنا کر عراق کو تباہ کر دیا جبکہ عراق کے پاس ایٹمی اسلحہ نہیں تھا ۔ویسے ایٹمی اسلحہ تو بھارت اور اسرائیل کے پاس بہت زیادہ ہے لیکن خود انھیں ایٹمی اسلحہ امریکہ ہی دیتا ہے ۔
جب سے طوفان الاقصی شروع ہوا ہے ، اس دوران امریکہ و یورپ کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ہر قسم کا جدید اسلحہ اسرائیل کو دیا جا رہا ہے۔ امریکہ و یورپ اسرائیل کو پیسہ دے رہے ہیں۔ میڈیا نیز اطلاعات و معلومات کے میدان میں تعاون کر رہے ہیں ۔پروپیگنڈہ کرنے میں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔گزشتہ ایک دن میں غاصب اسرائیل نے سات سو انسانوں کو شہید کردیا اور امریکہ نے کہا اسرائیل کوشش کر رہا ہے کم لوگ مارے جائیں؟!
ترکی کی حکومت اب بھی غاصب اسرائیل کے ساتھ لین دین جاری رکھے ہوئے ہے۔حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے غاصب اسرائیلی صدر کی میزبانی کی ہے۔ اسرائیلی سفارتی عملہ متعدد مسلمان ممالک میں موجود ہے۔امریکہ اور برطانیہ کے سفارت خانے تقریبا تمام اسلامی ممالک میں کھلے ہوئے ہیں۔بعض اسلامی ممالک میں امریکی وفود بھی آجا رہے ہیں ۔بعض مسلم حکمرانوں سے امریکی صدر ،بعض سے وزیر خارجہ اور بعض سے دیگر یورپی ممالک کے مسئولین ملاقاتیں کر رہے ہیں ۔
اب تک مسلمانوں کے مرکز حجاز(سعودی عرب) سے ایک فتوی بھی جہاد کا نہیں آیا۔ مراکش جیسے بعض ملکوں کے مسلم حکمرانوں نے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کو جرم قرار دے کر گرفتاریاں بھی کی ہیں۔
اب اس صورت حال میں خاموش تماشائی بنا جائے یا ابھی بھی کچھ کیا جا سکتا ہے؟ کیا امّت مسلمہ خود آٹھ کھڑی ہو ؟ جیسے لبنان پر بھی غاصب اسرائیل کا قبضہ تھا لیکن لبنان کی شیعہ سنی بلکہ حتی مسیحی عوام نے کھڑے ہو کر حزب اللہ کی قیادت میں اپنا ملک آزاد کرا لیا ۔یاد رہے حزب اللہ کوئی حکومت نہیں بلکہ ایک عوامی تنظیم ہے جو آج بھی فلسطینی مسلمانوں کے شانہ بشانہ دشمنوں کے ساتھ لڑ رہی ہے۔اسی طرح یمن پر جب سعودی اتحاد نے حملہ کیا تو یمن کے عوام نے انصار اللہ کی قیادت میں دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنے ملک پر سعودیوں کو قبضہ نہیں کرنے دیا۔ ہمارے ہاں کے غدار ،خائن اور بکے ہوئے میڈیا نے یمنیوں کو باغی ہی پکارا اور باغی ہی لکھا لیکن وہی یمنی آج فلسطین کے مسلمانوں کی حمایت میں میدان میں اترے ہوئے ہیں۔باغی کہنے اور لکھنے والے ضمیر فروش آج غاصب اسرائیل کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ قابل توجہ نکتہ ہے کہ انصار اللہ والے بھی کسی ایک خاص فرقے یا قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے۔انصاراللہ کے اندر زیدی شیعہ(ہاتھ باندھ کے نماز پڑھتے ہیں) ہیں تو شافعی سنی بھی ہیں ۔ انصاراللہ میں جہاں حوثی ہیں تو غیر حوثی یمنی بھی ہیں۔
امریکہ اور انگلستان اس وقت کھل کر غاصب اسرائیل کے شانہ بشانہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں(جبکہ دعوی یہ کرتے ہیں کہ ہم جنگ کا دائرہ کار پھیلنے کے مخالف ہیں) ۔اب اگر ہمارے حکمران اور سیاستدان تو کچھ کرنے والے نہیں البتہ مسلم امہ کو ہی اپنے کاندھوں پر اپنی ایمان کی طاقت سے فلسطینیوں کی مدد کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ قرآن کریم کا وعدہ ہےکہ (قیام کرنے میں) سستی نہ دکھاو اور( اسلحہ کم ہونے کا ) غم نہ کھاو تم سربلند ہو اگر تم صاحب ایمان ہو۔(سورہ آل عمران ،آیت 139)

پسندیدہ ترین

ہمیں جوائن کیجئے


افکار و نظریات: ​ ​   pakistan, islam, thinking, Voice