اقوام متحدہ ، پھرتیاں اور سستیاں
تحریر:محمد بشیر دولتی


پوری دنیا ایک لمبے عرصے سے یورپی جارحیت کی لپیٹ میں ہے ۔جنگ اول 28جولائی 1914 سے 11 نومبر 1918تک ،جنگ دوم یکم ستمبر 1939 سے 2ستمبر 1945تک، جن میں لاکھوں انسانوں کا قتل عام ہوا۔یہ جنگیں ہمیں عالمی جنگ اول اور عالمی جنگ دوم کے نام سے درسی کتابوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ جب کہ یہ عالمی جنگیں نہیں بلکہ در اصل یورپی جنگیں تھیں جن کا اصل نقصان مسلمانوں کو ہوا کیونکہ یہ بڑی مسلم سلطنتوں ،سلطنت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خاتمے کا سبب بنیں۔
دنیا کو ہر طرح سے لوٹنے حتی کہ ایٹمی حملوں کے بعد مغرب اور یورپ نے صلح، امن اور معاشی ترقی کے نام پر اکھٹے ہوکر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی۔ یہ اقوام متحدہ خود یورپی استعمار کا ایک دفاعی ادارہ ہے۔ ۲۵ اپریل ۱۹۴۵سے ۲۶ جون ۱۹۴۵ تک امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں تقریبا پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا نتیجتا اقوام متحدہ کا منشور مرتب کیا گیا۔ اقوام متحدہ کا نام 1941 میں سب سے پہلے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے استعمال کیا تھا۔ موجودہ شکل میں اقوام متحدہ 24 اکتوبر 1945 میں وجود میں آئی۔ بدقسمتی سے 24 اکتوبر 1945 سے اب تک اڑھائی سو سے زیادہ جنگیں ہوچکی ہیں۔ان میں سے اکثرجنگوں میں امریکہ ،اسرائیل،برطانیہ اور فرانس باالواسطہ یا بلا واسطہ شامل رہے ہیں۔
دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کا فائدہ فقط یہ ہوا ہے کہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہو سکی لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان جن میں چین،امریکہ،روس،برطانیہ اور فرانس شامل ہیں، چین کے علاؤہ باقی چار ممالک دنیا میں یک طرفہ بڑی جنگوں کا سبب بنے ہیں جن میں کورین جنگ، ویتنام پر امریکی حملہ اور امریکہ و دیگر ممالک کی سرپرستی میں ایران پر حملہ جو آٹھ سال تک جاری رہا۔ ان جنگوں میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے۔بدقسمتی سے ان جنگوں کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ نے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا۔پہلی یورپی جنگ (عالمی جنگ کہنا بالکل بھی درست نہیں) کے بعد مسلم سلطنتوں کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا، نہ فقط ٹکڑوں میں تقسیم کیا بلکہ ان ممالک میں پہلے استعمار پھر استحمار پھر استثمار کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یورپ اور امریکہ باہمی اتفاق یا معمولی اختلافات کے ساتھ مسلم مملکتوں کو آپس میں مال غنیمت کے طور پر تقسیم کر کے ان پر عملا قابض ہوگئے ۔
سلطنت عثمانی پر مشتمل مسلم مملکتوں کو برطانیہ اور فرانس نے آپس میں تقسیم کر کے قبضہ جمایا۔ یوں شام اور لبنان فرانس کے ماتحت آگئے جبکہ اردن، عراق، کویت اور فلسطین پر برطانیہ یا انگلستان قابض ہوگیا۔پہلی و دوسری نام نہاد عالمی جنگ کا اصل فائدہ یہودیوں نے سمیٹا۔ پہلی یورپی جنگ کے بعد یہودی یورپ سمیت دنیابھر سے فلسطین آنے لگے ۔
چونکہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد فلسطین مکمل برطانیہ کے ہاتھ میں تھا ۔برطانیہ میں پہلے سے ہی چار ہزار یہودی بستے تھے۔ برطانیہ نے ان یہودیوں کے ذریعے ہجرت کرکے فلسطین آنے والے یہودیوں کی ہرقسم کی مدد کرنا شروع کی جبکہ مقامی فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔ یوں یہودی برطانیہ کی سرپرستی میں جنگی ٹریننگ حاصل کرنے لگے۔ 1943 میں عربوں کے بیدار ہونے تک برطانیہ یہودیوں کو بہت کچھ دے چکا تھا۔
دوسری یورپی جنگ کے بعد فلسطین ایک بنیادی مسئلے کے عنوان سے عالمی منظر نامے میں ابھرا۔ اقوام متحدہ کی مداخلت سے فلسطین میں عرب و عبری یا یہودی و مسلمان کے عنوان سے دو الگ ریاستیں قائم کرنے کی باتیں شروع ہوئیں ۔1947 میں برطانیہ نے فلسطین چھوڑا اور جاتے جاتے اپنے پاس موجود اسلحہ اور دیگر حکومتی اثاثہ جات یہودیوں کو دے گیا۔
اقوام متحدہ کی طرف سے ابھی کوئی فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا کہ 16 مئی 1948 کو اسرائیل کے حق میں قرارداد پیش ہوئی۔قرارداد پیش ہونے کے تین منٹ بعد امریکہ اور آٹھ منٹ بعد سویت یونین نے اسرائیل نامی غاصب ریاست کو تسلیم کیا۔ یہودی فلسطین کے مسلمانوں کو جبراً اپنے گھروں سے بےدخل کرنے لگے جس کے نتیجے میں
14 مئی 1948 ہی میں برطانیہ کے نکلتے ہی عرب ممالک فلسطین میں داخل ہوگئے ان میں مصر،شام،اردن اور عراق شامل تھے۔ اس جنگ کو عرب جنگ نکبت یعنی مصیبت جبکہ یہودی جنگ استقلال کہتے ہیں۔اس جنگ کے شروع میں عرب ممالک اکثر فلسطین پر قابض ہوچکے تھے ۔
یہ جنگ 14 مئی 1948 تا جون 1949 تک یعنی ایک سال سات ماہ اور بیس دن جاری رہی۔اس دوران برطانیہ ، امریکہ، یورپی ممالک سمیت اقوام متحدہ نے اسرائیل کا بھر پور ساتھ دیا اور یکے بعد دیگرے عرب ممالک کو نکیل ڈالنے لگے۔دوسری جنگ 1956 میں مصر اور اسرائیل کے درمیان ہوئی اس جنگ میں معروف مصری رہنما جمال عبدالناصر کی سربراہی میں اسرائیل کو نہر سوئز سے بےدخل کیا گیا۔
اس کے بعد تیسری چھے روزہ جنگ 1967 میں ہوئی۔عالمی طاقتوں کی زیر سرپرستی اس جنگ سے اسرائیل اور بھی وسیع ہوگیا۔ اب اس کی ناجائز سرحدیں صحرائے سینا،غرب اردن،اور گولان کی پہاڑیوں سے مشرقی یروشلم تک پھیل گئیں۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 242 جسے زمین برائے امن کہا جاتا ہے یعنی جنگ کے دوران قبضہ شدہ زمین کو جنگ بندی کے بعد واپس کرنا ہوتا ہے اسرائیل نے آج تک اس پر عمل نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کی اسی قرارداد کے مطابق امریکہ نے پاکستانی فوج کو کارگل سے واپس پلٹنے پر مجبور کیا جبکہ 1971 کی جنگ میں بلتستان کے بعض علاقے جو بلتستان کا ہی حصہ تھے وہ ابھی تک بھارت کے قبضے میں ہیں مگر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اس پر مکمل خاموش ہیں ، اب اس علاقے کو نہ آئینی حقوق حاصل ہیں نہ ہی متنازعہ عالمی حقوق میسر ہیں۔
مسئلہ کشمیر جسے بھارت خود اقوام متحدہ میں لے گیا اور اقوام متحدہ نے وہاں عوامی ریفرنڈم کا فیصلہ کیا جو ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ۔وہی بھارت جموں کشمیر کو ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کرکے وہاں مظلوم کشمیریوں پر ہرطرح کے مظالم ڈھا رہا ہے جس پر اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔آج تک کشمیر میں ریفرنڈم کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
جرمنی اور یورپ سے ہم سب کچھ لٹا کر آئےہیں ہمیں اپنے ہاں پناہ دو کے بینئر اور نعرے کے ساتھ آنے والے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے ساتھ اسرائیل جیسا غاصب ملک دیا گیا اور فلسطینیوں کو اپنے ہی گھروں اور زمینوں سے بےدخل کیا گیا۔
1993 سے 1995 تک اوسلو امن معاہدے کے نام سے دو ریاستی نظرئے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی۔اس معاہدے کے سبب اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن،یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر خارجہ کو نوبل امن ایوارڈ سے نوازا گیا مگر علاقے میں عملا آج تک امن نہیں آسکا۔
جنونی یہودیوں نے اوسلو امن معاہدے کے پاداش میں اسحاق رابن کو گولی ماردی اور نتن یاہو جیسے شدت پسند نے اوسلو امن معاہدے کی دھجیاں اڑا دیں۔ فلسطینیوں کے جبری انخلا اور یہودی آبادکاروں کو بسانے کا سلسلہ اسی جنونی نتن یاہو نے ہی تیزی سے شروع کیا۔اس کے نتیجے میں حماس نے بھی غاصب اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں پی ایل او کی حکومت تو قبول کی مگر غزہ اور حماس کےگرد گھیرا تنگ کیا گیا۔تاہم اسرائیل کی طرف سے غیر انسانی گھیراؤ اور بدترین ظلم پر اقوام متحدہ اب تک خاموش تماشائی ہے۔


مشرقی تیمور کے عیسائیوں نے جب انڈونیشیا سے آزادی کا مطالبہ کیا تو اسی اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے 1999 میں عوامی ریفرنڈم کے زریعے مشرقی تیمور کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ سوڈان کی ریاست دارفور کے عیسائیوں نے جب الگ اور آزادانہ ریاست کے لئے بغاوت شروع کی تو سوڈان کی حکومت پر اس لئے پابندیاں لگائی گئیں کہ وہ دارفور کے عیسائیوں پر وحشت ناک مظالم ڈھا رہی ہے۔ باالآخر 2011 میں عوامی ریفرنڈم کے ذریعے الگ ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
یہی اقوام متحدہ جس نے لبنان کی دعوت پر ، لبنانی شہریوں کی حفاظت کے لئے شام کے سابق صدر حافظ الاسد کی فوج کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جبکہ کشمیر میں لاکھوں ہندوستانی فوج مظلوم کشمیریوں پر زندگی تنگ کئے بیٹھی ہے اس بارے میں خاموشیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
مارچ 2015 میں سعودیہ و عرب امارات اور اتحادیوں نے جمہوری اور قانونی طرز حکومت کا مطالبہ کرنے والی انصار اللہ یمن بر وحشتناک فضائی حملے شروع کئےجسے "فیصلہ کن طوفان" کا نام دیا جو اب تک سعودی اتحاد کے لئے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔
اس یک طرفہ جنگ میں نام نہاد اسلامی اتحاد نے اسکول و ہسپتالوں سے لے کر جیلوں تک پر وحستناک فضائی حملے کئے مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں نہ فقط خاموش رہیں بلکہ پس پردہ سعودی اتحاد کو میزائل و جدید جنگی ساز و سامان سے نوازتی رہیں۔
یورپی یونین اور نیٹو اتحاد کی چودھراہٹ کو روکنے کے لئے روس نے جب 24 فروری 2022 کو یوکرائن پر حملہ کیا تو اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں چیخ پڑیں۔
ویت نام، افغانستان،عراق،یمن اور لیبیا پر حملہ کر کے اجاڑنے والے امریکہ کو پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی غرض و غایت یاد آگئی۔ امریکی سفیر نے یوکرائن پر روسی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اقوام متحدہ کی تشکیل کا مقصد اس طرح کے حملوں کو روکنا تھا۔
صرف یہی نہیں آج سے تقریبا ایک سال قبل خود اسرائیلی چینل 7 کے مطابق سکیوریٹی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل کا نمائندہ فلسطینیوں کے مظالم بےنقاب کرنے کے لئے اینٹ کا وہ ٹکڑا لے آیا جو یہودی آباد کاروں کی طرف پھینکا گیا تھا۔یہ تصویر آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔مگر آج غزہ میں تاریخی بمباری کے ذریعے محلوں،گلیوں،ہسپتالوں اور اسکولوں پر بھی کیمیکل بم برسائے گئے ہیں اس کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں آنکھ بند کر کے بیٹھی ہیں۔یہ وہ تاریخی پھرتیاں اور سستیاں ہیں جسے اقوام متحدہ اور نام نہاد عالمی طاقتیں مسلسل انجام دے رہی ہیں ۔
ایسے میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں اور مختلف قراردادوں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی ایمانی اور اجتماعی طاقت پر بھروسہ کریں تاکہ اپنے جائز حقوق حاصل کرسکیں۔ طوفان الاقصیٰ دراصل اسی ایمانی جذبے کا اظہار ہے۔

پسندیدہ ترین

ہمیں وٹس ایپ پر جوائن کیجئے


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv