شہید علی ناصر صفوی
ایک شخصیت، ایک تحریک
ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

ضیاء الحق کا دور ہماری تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش عہد ہے۔ اس دور میں ایک طرف افغانستان پر روس نے چڑھائی کی اور دوسری طرف امریکہ کی سربراہی میں جہاد افغانستان کے نام پر پاکستان میں بیرونی عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کی وطن عزیز میں کھلے عام مداخلت شروع ہوئی۔ اس زمانے میں ایک چار جہتی اتحاد تشکیل پایا۔ جس میں امریکہ ، سعودیہ، ضیاء الحق کی اسٹیبلشمنٹ اور دیوبندی و وہابی لیڈرشپ شامل ہوئی۔ اس اتحاد کے نتیجے میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں منظم جہادی گروہ تشکیل پائے اور دنیا بھر سے جہاد افغانستان میں شریک ہونے کے لئے انتہا پسندوں کے لئے بھی راستہ کھول دیا گیا۔ امریکہ نے اس پراجیکٹ کی انجینئرنگ و کمانڈ اور اسلحہ وامداد کے لیے اپنے دروازے کھول دئیے ۔ سعودی عرب نے بھی وہابیت کی تبلیغ وتشہیر اور وہابی طرز فکر کے جہاد کی ترویج وتقویت کے لئے خزانوں کے منہ کھول دئیے۔ اسکی مدیریت ضیاء الحق کا نظام اور افرادی قوت فراہم کرنے کے لئے دیوبندی وہابی لیڈرشپ سرگرم عمل ہوگئی۔ دھڑا دھڑ انتہا پسندی کی ترویج کیلئے مدارس ومراکز ومساجد واداروں کا جال ملک کے طول عرض میں بچھا دیا گیا۔

وہابیت نے تکفیریت کوجنم دیا۔ ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی سوچ سے پورے ملک میں اجتماعی تعلقات وروابط کا فطری نظام متاثر ہوا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے سوسائٹی کے افراد کے مابین غیر مرئی بلند و بالا دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ جہاد افغانستان کی ناقص پالیسیوں سے ہمارا معاشرہ مذہبی ومسلکی اعتبار سے کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ نفرت انگیز سوچ کو ہوا دی جاتی ہے۔ شہر شہر میں کافر کافر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔ تکفیری نعروں کی وال چاکنگ اور غلیظ لٹریچر وافر مقدار میں چھاپا جاتا ہے۔ منبروں سے تقریریں ہوتی ہیں ۔ کافر کافر کے جلوس نکلتے ہیں بڑے بڑے اجتماعات اور مظاہرے ہوتے ہیں۔ شیعہ مذہب کے پیروکاروں کے خلاف کفر اور بریلوی مسلک کے پیروکاروں کو مشرک وبدعتی ہونے کے فتوے دئیے جاتے ہیں اور تکفیر کے فتوے دینے والے مفتیان ارباب اقتدار کے چہیتے اور بیرونی طاقتوں کے منظور نظر ہونے کی وجہ سے بلا خوف و خطر شرانگیزی پھیلاتے رہتے ہیں۔

ملک کے امن وامان کی حفاظت کے ضامن ریاست کے بااختیار اور مقتدر لوگ ڈالروں ریالوں اورعیاشیوں میں مست ہوتے ہیں۔ انکے بنائے ہوئے تکفیری اثاثے ملک کو جڑوں کو کھوکھلا کرنے پر مامور ہوتے ہیں اور ارباب اقتدار انہیں کھلی چھٹی دیتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ریاستی سرپرستی اور غیر ملکی امداد سے سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی جیسے متعدد جہادی گروہ مذہب شیعہ کے پیروکاروں کے خلاف بعض علاقوں میں لشکر کشیاں اور شہر شہر میں ٹارگٹ کلنگ شروع کر دیتے ہیں ۔ عزادرای کے جلوسوں اور نماز جمعہ وجماعت کے اجتماعات میں بم دھماکے کرتے ہیں۔
پاکستان کی تشکیل کی بنیادی اکائی شیعہ مسلمان جو کہ ملک کے تقریبا ایک تہائی یا کم از کم ایک چوتھائی حصے پر مشتمل ہیں اور جن کی تعداد کروڑوں میں ہے، ان کی تکفیر شروع کی گئی۔ تکفیری تنظیموں کے مسلح جتھوں نے کھلم کھلا شیعہ مذہب کے خلاف اعلان جنگ اور جنگی کاروائیاں شروع کر دیں۔ قانون حرکت میں آیا اور نہ ہی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے پر مامور حکومتی مشینری اور اداروں نے انہیں گرفتار کیا۔ اور اگر کوئی گرفتار ہو بھی جاتا تو عدالتیں اسے سزا دینے سے قاصر نظر آتیں۔ ججز خوف اور مقتدر طبقات کے پریشر کی وجہ سے انہیں رہا کر دیتے ۔

ایسی صورتحال کا فطری نتیجہ یہی نکلا کہ عوام خود اپنے وجود کا ، زندہ رہنے کے حق کا اور اپنے دین و مذہب اور دینی شعائر ومراکز ومساجد وعبادت گاہوں اور مذہبی شخصیات کی خود سے حفاظت کرنے کا سوچیں۔ انسان کُش تکفیری فتنے کی آگ کے شعلے پہلے جھنگ شہر سے اٹھے اور پھر پورے ملک میں پھیلا دئیے گئے۔ ان شعلوں نے پہلے اہل جھنگ کو اپنی لپیٹ میں لیا اور پھر پورے ملک کے بے گناہ عوام اس ظلم اور بربریت کا نشانہ بنے۔
اس پیدا کردہ صورتحال کے نتیجے میں ملت جعفریہ کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ لوگوں کو ملک دشمن عناصر کو جواب دینے کی فکر لاحق ہوئی۔ یہ فکر کرنے والے ایک جوان ضلع جھنگ کی تحصیل چنیوٹ کے باسی علی ناصر صفوی بھی تھے۔ شہید علی ناصر ایک اعلی تعلیم یافتہ شخصیت تھے۔ انکا تعلق ایک دیندار گھرانے سے تھا۔ انکی تربیت بھی ایک مذہبی اور پاکیزہ ماحول میں ہوئی تھی۔ جب 5 اگست 1988 کو ملت جعفریہ پاکستان کے قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کو پشاور میں نماز فجر کے وقت شہید کر دیا گیا تو اتنی بڑی شخصیت کے قتل کے بعد بھی قانون بے بس نظر آیا ۔ کسی نے نہ قاتل پکڑے اور نہ ہی ہماری عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں سنجیدہ نظر آئیں۔ اس شہید مظلوم کے ناحق خون کا انتقام لینے اور ملک کے امن دشمن عناصرکو کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ قوم کی آواز اور وقت کی ضرورت تھا۔ مشہور یہی ہے کہ وقت کی آواز پر لبیک کہنے والے جوان کا نام شہید علی ناصر صفوی تھا۔ شہید علی ناصر انتہائی درجے کے ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متقی پرہیزگار اور شب زندہ دار مجاہد تھے۔ فہم وفراست میں اپنی مثال آپ تھے۔ وہ زمانے حالات ، خطے اور پاکستان میں بدلتے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے، وہ انقلابی و مقاومتی طرز تفکر کے حامل تھے۔ وہ ایسے دشمن شناس تھے کہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ امریکہ واسرائیل شر مطلق ہیں، وہ امت مسلمہ کے خیر خواہ نہیں اور وہ ہمیشہ مسلمانوں کو باہمی طور پر لڑانے اور کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے دشمن یہ تنخواہ دار وہابی تکفیری نہیں بلکہ ہمارے اصل دشمن امریکہ واسرائیل اور انکے اتحادی ہیں۔ یہ بیچارے فقط ان اصلی دشمنوں کے آلہ کار ہیں۔ اپنی سوچ اور نظریے کی وجہ سے وہ پاکستان میں امریکی و مغربی مفادات کے لئے خطرہ بن چکے تھے۔ اس لئے امریکیوں کی ایماء پر انہیں 25 نومبر 2000 کو جوہرآباد میں اپنی شریک حیات کے ساتھ گولیوں کی بوچھاڑ سے شہید کر دیا گیا۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور شہداء کربلاء کے ساتھ محشور فرمائے۔

پسندیدہ

ہمیں جوائن کریں


افکار و نظریات: police, army, pakistan, amrica