کیا عوام اتنے بیوقوف ہیں؟
ایم اے راجپوت


چند ماہ پہلے ہی میاں شہباز شریف کی حکومت ختم ہوئی ہے۔میاں شہباز شریف صاحب اپنے سارے فیصلے اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف صاحب کے دستور کے مطابق ہوا کرتے تھے ۔اسٹیبلشمنٹ بھی ان کے ساتھ تھی ،ملک کی 13 سیاسی و مذہبی جماعتیں ان کی پشت پر تھیں ، اپوزیشن نہ ہونے کے برابر تھی ، یعنی ان کی حکومت بڑی مضبوط تھی۔
عام طور پر کسی حکمران کی حکومت کے پہلے 100 دنوں میں اس کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے۔شہباز صاحب اپنے بڑے بھائی نواز صاحب کی سرپرستی،زرداری صاحب کی فراست اور مولانا فضل الرحمان صاحب کی دیانت کے سائے میں ایک سال 4 ماہ تک ملک کے وزیر اعظم رہے ۔ہر قدم ن لیگ کے قائد نواز شریف کے مشورے اور راہنمائی سے اٹھاتے تھے۔محترمہ مریم نواز صاحبہ ان کے حق کے میدان گرم رکھنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں ۔ابتدا میں دو صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی لیکن بعد میں تو ان دو صوبوں میں بھی پی ڈی ایم کی مرضی کی حکومتیں بن گئیں ۔بس پورا پاکستان یک مشت نواز شریف صاحب ،شہباز شریف صاحب اور مریم نواز صاحبہ کی گود میں تھا حتی آرمی چیف بھی شہباز شریف صاحب نے اپنی مرضی کا لگا لیا تھا۔سولہ ماہ تک ایک ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن جانا معمولی بات نہیں۔
لیکن ان سولہ ماہ میں شہباز شریف صاحب نے ایک دن بھی مہنگائی کو کنٹرول نہیں کیا۔نہ مریم صاحبہ نے غریبوں کیلئے کچھ کیا۔ اور نہ ہی بڑے میاں نواز شریف صاحب نے وہ نسخہ شہباز شریف صاحب کو بتایا کہ جس کی امید پر اب عوام ان سے کوئی بھلائی کی امید رکھیں۔ لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ اب بڑے میاں کو چوتھی مرتبہ وزارت عظمی تک پہنچا دیں تاکہ وہ ملک میں دودھ نہریں جاری کر یں۔
4 دسمبر2023 کی صبح میاں شہباز شریف صاحب کا ایک بیان دیکھنے کو ملا جس میں وہ فرما رہے تھے کہ ن لیگ مہنگائی کو کم کرنے کیلئےجنرل الیکشن2024 میں حصہ لے گی۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں کیوں کہ جھوٹ بہت بری بلا ہے اور نہ ہی یہ کہتے ہیں کہ وہ قوم کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں چونکہ اب قوم باشعور ہو چکی ہے اور کسی کے دھوکے میں آنے والی نہیں۔
آپ اندازہ لگائیں جب شہباز صاحب وزیر اعظم بنے تو ڈالر 180 پر تھا۔پٹرول 140 روپے لیٹر تھا ۔لیکن شہباز صاحب نے بڑے میاں نواز صاحب کی سرپرستی میں یوں مہنگائی کو کنٹرول کیا کہ ان کی حکومت کے دوران ڈالر اور پٹرول 300تک پہنچ گئے۔سابقہ قرضہ اتارنے کی بجائے ملک کو مزید مقروض کر دیا گیا۔کرائے اتنے بڑھ گئے کہ ٹریفک ہڑتالیں شروع ہو گئیں۔چنگی رکشوں پر دھیاڑی لگا کر بچوں کا پیٹ پالنے والوں نے مجبور ہو کر موٹر سائیکل کی جگہ رکشے کے آگے گدھا باندھ لیا ۔مکان اتنے مہنگے ہوگئے کہ لوگوں کیلئے مکان کا کرایہ دینا ممکن نہ رہا لہذا کئی فیملیوں نے اجتماعی خود کشی کر لی۔بجلی گیس دستیاب نہ تھی لیکن پھر بھی بل اتنا آتا تھا کہ لوگوں نے پلوں سے چھلانگیں لگا کر خودکشیاں کیں۔سونے چاندی گوشت وغیرہ جیسی مہنگی چیزوں کی بات نہیں کرتے ۔دال سبزی وغیرہ جو غریب آدمی خرید کر ہانڈی بنا لیتا تھا شہباز صاحب کی حکومت میں وہ بھی اتنی مہنگی کر دی گئیں کہ غریبوں کے چولہے بند ہو گئے۔غریب آدمی کا آخری چارہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اسے روٹی مل جائے تو کچی مرچوں ،پیازوں یا لسی وغیرہ کے ساتھ روٹی کھا کر پیٹ بھر لیتا ہے اور بھوکا نہیں مرتا۔لیکن شہباز شریف صاحب کو بڑے میاں نے کوئی ایسا نسخہ بتایا تھا کہ غریب آدمی کو روٹی کیا آٹا ہی نہیں ملتا تھا۔آٹا اور گندم اتنی مہنگی کردی گئی تھی کہ غریب کیا متوسط طبقہ کے لوگ بھی تنگ آگئے تھے ۔غریب تو بھوک سے مرنے لگے اور متوسط طبقے کے لوگ آٹے کی لائنوں میں سخت دھوپ میں کھڑے ہو کر جب تھک جاتے اور پھر اچانک آٹے کی تقسیم شروع ہوتی تو بہت سارے اس رش میں پاؤں کے نیچے آکر روند دئیے جاتے اور اپنے بھوکے بیوی بچوں کے پاس آٹا لانے کی بجائے اپنے خالق حقیقی سے جا ملتے ۔پھر نہیں معلوم خالق کی بارگاہ میں جا کر چھوٹے میاں کے متعلق کیا کہتے ہوں ؟بڑے میاں کے متعلق کیا بولتے؟اور مولانا فضل الرحمان صاحب کے متعلق کیا شکایت کرتے؟لیکن آٹے کی لائنوں میں لگی ہماری مائیں بہنیں خصوصا وہ بوڑھی عورتیں جن کے پاس کوئی مرد نہیں ہوتا تھا اور مجبور تھیں کہ پیٹ کی خاطر خود پی آکر لائن میں لگیں۔رش اور بھگ دڑ میں جو ان بیچاریوں کا حشر ہوتا تھا تنگ آکر سر سے دوپٹہ اتار کر شہباز صاحب کو خصوصی بد دعائیں دیتی تھیں ۔اور جن کو آٹا ملتا تھا وہ جب گھر لے جاکرپکانے لگتے تو آٹا خراب ہوتا تھا ۔اللہ جانے کتنے خاندان ،کتنے بچے اور کتنی خواتین شہباز صاحب کی حکومت کی اس نالائقی کی وجہ سے دنیا سے چل بسیں اور کتنے دھیاڑی دار مرد اپنے بیوی بچوں کے سامنے شرمندہ ہوئے اور تحمل نہ کر سکنے کی وجہ سے خود کشی کر گئے۔
اب یہ میاں شہباز شریف صاحب چاہتے ہیں کہ مزید پانچ سال پاکستان اور پاکستانی قوم پر حکومت کریں ۔شاید ان کا دل ہے بڑا بھائی وزیر اعظم بن جائے ۔خود صدر بن جائیں ۔مریم وزیر اعلی پنجاب بن جائے۔بیٹا حمزہ اسپیکر اسمبلی یا کوئی وزیر مشیر بن جائے۔آرمی چیف بھی مرضی کا ہے ۔پی ٹی آئی جیل میں ہے اور باقی سارے کسی نہ کسی طرح جھک ہی جائیں گے ۔لہذا ہمیں خوب موقع ملے گا ۔ ہمارا خیال ہے کہ اب عوام کو سمجھ آ چکی ہے ، لوگ دھوکہ کھانے والے نہیں، اب بچہ بچہ سمجھتا ہے کہ موروثیت پر مبنی نااہل لوگوں کی کرپٹ لیڈر شپ آگے چل کر ملک و قوم کو نقصان تو دے گی لیکن فائدہ نہیں۔

پسندیدہ

ہمیں جوائن کیجئے

ہمارا یو ٹیوب چینل


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face