ذرا سوچیں !

ایم اے راجپوت

محرم الحرام یا عید میلادالنبی کے ایّام ہوں، زمینی و آسمانی آفات ہوں، زلزلے اور سیلاب ہوں یا ملک میں الیکشن کرانا ہو، ہر مشکل گھڑی میں پاک فوج اپنی قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
ذرا سوچیں کہ اگر ہمارے فوجی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہ کرتے تو یہ دہشت گرد ہمارے نہتے عوام کا کیا حشر کرتے ۔نہ عوام کے جان و مال محفوظ رہتے اور نہ ہی ناموس۔یقین نہ آئے تو چند سال پہلے عراق اور شام میں داعش،القاعدہ اور النصرہ فرنٹ نے جو خون کی ہولی کھیلی اور جس طرح لوگوں کی ماوں بہنوں بیٹیوں کو کنیز بنایا اس کا مطالعہ کر لینا یا جس طرح امریکی دھشت گرد فوجیوں نے عراقی و افغانی قوم کی عزتیں لوٹیں اس پر نظر دوڑا لینا۔

لہذا ہم تو کہتے ہیں کہ ہمارے لاکھوں سلام ہوں ان پاک شھیدوں پر جنھوں نے اپنی جانیں دیکر ہماری جان و مال اور ناموس کو بچا لیا۔اور ہمارے ہزاروں درود ہوں ان جان بکف جوانوں پر جو 24 گھنٹے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہماری حفاظت کی خاطر آمادہ باش رہتے ہیں ۔
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی کے اس چیلنج کو سامنے رکھتےہوئے ہمیں ان سیاسی لیڈروں اور سیاسی جماعتوں پر بہت افسوس اور دکھ بلکہ غصہ ہوتا ہے جو یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہتے ہیں کہ ہمیں افغان طالبان کے ساتھ نرم رویہ رکھنا چاہئے ۔کبھی کہتے ہیں افغان مہاجرین کو واپس ان کے وطن بھیجنے پر ہمیں تحفظات ہیں۔

افغان طالبان مولانا فضل الرحمان صاحب کے ہم مسلک اور ان کے مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں ۔ مولانا صاحب ان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے اور انھیں دہشتگردی سے باز آنے کی تلقین کے بجائے الٹا ان کی سپورٹ کرتے ہیں۔

میاں نواز شریف صاحب تکفیری و دہشت گرد ٹولے کے سرغنوں کو ن لیگ میں شامل کر کے ٹکٹ دیتے ہیں اور آصف علی زرداری صاحب بدنام زمانہ دھشت گرد سے ملاقات کرتے ہیں ۔عوام کی تو خواہش یہ تھی کہ یہ پارٹیاں اپنی صفوں میں موجود تکفیری سوچ کے حامل اور دہشتگردوں کی سرپرستی کرنے والے عناصر کو نکال باہر پھینکیں تاکہ وطن عزیز میں امن،اخوت اسلامی اور عام طور پر رواداری کی فضا قائم ہوتی لیکن یہ سیاسی جماعتیں چند ووٹوں کی خاطر ملک ،قوم اور ریاستی اداروں کے دشمنوں کو اپنی گود میں بٹھانے والے کام کر رہی ہیں ۔
خدارا پاکستان کو پاکستان ہی رہنے دیں اسے عراق ،شام یا افغانستان بنانے سے پرہیز کریں ۔لوگوں کی جان مال اور ناموس پر رحم کریں۔پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کی قدر کریں ۔ان شھید فوجیوں کی بھی مائیں ہوتیں جن کی گودی اجڑ جاتی ۔ان کے بھی بھی بچے ہوتے جو یتیم ہو جاتے ۔ان کی بھی بیویاں ہوتیں جو بیوہ ہو جاتیں۔
فوج اتنی قربانیاں دے کر ملک میں امن و سلامتی کی فضا بحال کرتی ہے جسے تکفیری اور دھشت گرد ٹولے پھر خراب کرنے کی کوشش کرتے ۔

یہاں ہماری قومی سیاسی جماعتوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور دہشت گرد افراد ،گروہوں اور ٹولوں کو خود سے دور رکھنا چاہئے ۔ تکفیریوں اور دہشتگردوں کے ہاتھ کل بڑے بڑے سیاسی لیڈروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔لہذا ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں اپنی صفوں میں شامل کرنے کے بجائے فوج کے حوالے کریں تاکہ وہ ان کا مناسب علاج کرے۔

مقبول ترین


افکار و نظریات: news, daily, media, police