خوش گمانی

کسی بھی ریاستی ادارے کی بنیادی اساس اس کے ملکی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے وطن عزیز میں ہر ادارہ اس اساسی جزو کے علاوہ سب کچھ کرتا نظر آتا ہے۔ ریاستی امور کی تقسیم دراصل ذمہ داریوں کی تقسیم ہے، مگر ادارہ جاتی مفادات کے اس جھگڑے میں عوامی مفاد کہیں چھپ کے رہ جاتے ہیں بلکہ اکثر اوقات ملکی ترقی و تعمیر بھی پس پشت نظر آتی ہے۔ اور آئے روز اتھارٹیز قانون و آئین کی آڑ میں اپنے ذاتی مقاصد اور ایجنڈے کیلئے ان اداروں کو استعمال کرتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سمت ابتری کا ساماں ہے۔ اور ریاست کی بنیادی اکائی یعنی شہری حیران و پریشاں اس ساری صورتحال میں اپنے حقوق کی پائمالی کو دیکھ دیکھ کڑھتا رہتا ہے۔ جو ریاست پر عدم اعتماد کی وجہ ہے۔ ایسے میں ملکی سلامتی کے عسکری ادارے عوام کیلئے ایک ڈھال اور ڈھارس تھے۔ لیکن پچھلے کم و بیش دو سالوں سے قوم کی یہ آخری امید بھی دم توڑنے لگی۔ چونکہ ہم سب پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں۔ راقم سمیت لگ بھگ سب کے ساتھ یقیناً ایسا ہوا ہو گا کہ خاکی وردی میں چھپے ان جاں فروشوں نے جب جب اپنا لہو پیش کیا قوم نے بھی تب تب ڈبڈباتی آنکھوں سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ یہ نذرانے محض اس وجہ سے رہے کہ قوم ان وردی پوشوں کو خود سے زیادہ احترام، خود سے زیادہ عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان کو صرف پاکستان کے محافظ ہی نہیں بلکہ امت کے درد کا درماں، پروقار اور قدرے اوتار سمجھتی ہے ۔مگر جب جب اس ادارے کی ساکھ کسی بھی وجہ سے مجروح ہوئی ، اسی جذباتی قوم کی حالت اس مور جیسی ہوتی رہی جس کے بدصورت پاؤں اسے گہنائے حسن کا احساس دلا دیتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ پچھلے دو سالوں سے ملک میں لاقانونیت کو دوام حاصل ہوا۔ آئین و قانون کی دھجیاں بکھریں، سیاست، عدالت و انتظامی اداروں کی رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہی۔ من چاہے فیصلے ہوئے، اخلاقیات و روایات شکنی عام ٹھہری، الیکشن کمشن، پولیس، FIA, NAB, ضلع جات انتظامیہ، نظام ہیلتھ، میڈیا، نادرا سب سے زیادہ عوامی تنقید کا ہدف رہے، اور چونکہ عوام پاکستان عسکری ادارے سمیت اس کے زیر انتظام ایجنسیز کو ملکی سلامتی اور وقار کے اعلیٰ ترین سنگھاسن پر دیکھتی آ رہی تھی، اس لئے عساکر کو زیر بحث ادارہ جاتی لاقانونیت یا قانون کی آڑ میں برتی جانے والی قانون شکنی کو روکنے، لگام ڈالنے اور حد میں رکھنے کی زمہ دار بھی سمجھتی تھی، اسی لئے آج جا بے جا غصہ بھی اسی ادارے پر نکلتا نظر آتا ہے۔کہ آخر ملٹری اس قدر خاموش تماشائی یا اس قانون شکنی، عوامی جذبات و احساسات کے بر خلاف کیوں نظر آتی ہے۔ اسے تو ان اداروں کو لگام دینا چاہئے تھی، کیونکہ ملکی سلامتی کیلئے بہرحال یہی ادارہ سزاوار ہے۔ راقم بھی بہت دیر سے انہیں عوامی جذبات و احساسات کے زیر اثر رہا اور سوچا کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ فوج جیسے منظم ادارے نے چند موقع پرست عناصر کے مفادات کی خاطر خود کو داؤ پر لگا کر اپنی قیمتی ترین شے "ساکھ " کو کھو دیا۔ آج بیٹھے بٹھائے ایک نئی جہت نے آن دستک دی تو جیسے سوچ کا نیا در ہی کھل گیا۔ سوچا آپ سے شیئر ہی کر لوں، سن 2020 کے اوائل میں کسی صاحب حال کی زبانی سنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی گند کو سمیٹنے کیلئے اگلے چھ ماہ میں کوئی پلان اپنی تمام تر جزیات سمیت تشکیل پا سکتا ہے، جو وطن عزیز کی ترقی و سلامتی کیلئے تجدید نو کے مترادف ہو گا۔ لیکن وقت کی گرد نے اس خبر کو کسی کباڑ خانے کی نذر کر کے اوجھل کر دیا، آج کباڑ خانے کا در و ہوا تو سالوں کی مٹی جھاڑ وہ مناظر سامنے آ گئے جب یہ ملاقات وارد ہوئی تھی کہ تانے بانے بُننے اور بننے میں دیر نہیں لگی، فوجی بھلے سپائی ہو یا افسر اعلیٰ، اس کے خمیر میں وطن پرستی شامل ہوتی ہے، اسے علی الاعلان حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ مادر وطن کی نظریاتی سرحدوں کی ہر حال میں حفاظت کرنی ہوگی، اس کے اندرونی دشمنوں سمیت بیرونی مخالفین کی سرکوبی کا جوکھم ضرور اٹھانا ہو گا۔ اس کے وقار، تعمیر وترقی کی ضمانت بننا ہو گا۔ اور اگر اس راہ میں کبھی اسے اپنی نقد جاں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو دریغ نہیں کرے گا، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ملکی سیاسی و انتظامی اداروں کی تطہیر کا موقع آئے تو فوج خاموش تماشائی بنی پھرے، نہیں ہر گز نہیں، چونکہ اول تو ہم جذباتی قوم ہیں اور دوم ان باریکیوں سے بھی ناواقف جو قوم کے ان بیٹوں کی پیشہ وارانہ زندگی سے متعلق ہیں، اسلئے خواہ مخواہ کی بد گمانیوں کا شکار ہو کر اپنی اس ریڈ لائین کو خود نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے ہیں، اور یہی اب تک ہوا ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام! میرا غالب گمان ہے کہ موجودہ وقت کے جنرلز کم از کم ان ٹاٹ سکولوں کے پڑھے لکھے ہیں جہاں کے اساتذہ کرام نے ہر ممکن ایک آزاد خطے کی ضرورت کے پس منظر و پیش منظر سے متعلق حالات و واقعات انہیں سنائے بلکہ INJECT کروائے ہونگے، انہیں اس آزادی کے حقیقی علم سے روشناس کیا ہوگا، انہیں قربانیوں کی وہ داستانیں ضرور یاد کروائی گئی ہونگی جن کی بدولت ہم اس وقت اس خطۂ ارضی میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں، انہیں یقیناً یاد ہو گا کہ کیسے ماؤں نے ان کے مستقبل کیلئے خون کے دریا عبور کئے تھے، انہیں اجڑے سوہاگ ضرور یاد ہونگے کہ بالوں میں چاندی اتری مگر وفا کا عہد یاد رہا، سینوں پہ سجے یہ تمغے انہیں کب بھولنے دیتے ہونگے کہ وہ کروڑوں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے سر پر رکھا ہاتھ ہیں، انہیں آج بھی یاد ہوگا کہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم یہ ملک اللہ کی امانت ہے جس کی حفاظت کی زمہ داری کیلئے انہیں چنا گیا ہے۔اور اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چھت بھی فراہم ہونی لازم ہے، تئیس ساڑھے تئیس کروڑ افراد کا یہ ملک محض کسی نالائق سیاست داں، چاپلوس خاندان اور موقع پرست گروہ کی نہ تو جاگیر ہے اور نہ ان سازشی عناصر کو تادیر اس قوم کے سیاہ و سفید کا مالک بنا کر بٹھایا جا سکتا ہے۔انہیں کیسے بھول سکتا ہے کہ قومی رازوں کے نام نہاد امین کچھ بیوپاری اس قوم کی ذلت کا باعث بنتے رہے، کیسے کیسے شعبدہ باز اس کاروبار سیاست کو پراگندہ کرتے رہے، کیسے کیسے سیاسی ہجڑوں نے وطن عزیز کی ساکھ کو مجروح کیا، عالمی دنیا میں کن کن کرداروں نے اسلام کے اس قلعے کو بے توقیر کیا، کون اندرونی سازشوں کے ذریعے جڑوں کو کاٹتا پھرا اور کون اس کی اجتماعی حمیت کیلئے سوداگر ٹھہرا، عساکر یقیناً جانتے ہیں کہ وطن کی شان کس کس کے دم سے ہے، کس کس نے سیاست کو عبادت خیال کیا اور ملکی وسائل کو وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کیلئے استعمال کیا، انہیں ازبر ہو گا کہ ریاستی طاقت کس کم ذات کا ہتھیار بن کر استعمال ہوتی رہی، رشوت، سفارش، اقربا پروری کیونکر وجود میں آئی، عوام کی رگ جاں سے کس جونک نے کتنا لہو کشید کیا، کون اختیارات کے ناجائز اور بلا مقصد استعمال کا رسیا رہا، انہیں اندازا ہے کہ عوامی شعور اس قوم کیلئے کتنا ضروری ہے، اور ماضی کی اسی بے شعوری نے وطن پرستوں کو کیسے نقصان پہنچایا، انہیں مافیاز کے وجود کا نہ صرف علم ہے بلکہ اس کی تمام تر ریسیپیز سے بھی واقفیت ہے، وہ تطہیر کے عمل سے قبل پورے نظام کی کمزوریوں پر قوم کو گواہ بنانا چاہتے تھے تاکہ کل کسی بھی موقع پر جب نظام کی کثافتوں کو علیحدہ کیا جائے تو ناواقفیت کی بنیاد پر جذباتی قوم انہیں معتوب نہ ٹھہرائے، اسے یہ نہ لگے کہ ان سرفروشوں نے اپنے ہی وطن باسیوں پر زمین تنگ کر دی، انہیں داغدار چہرے اور کردار دکھانے کیلئے یہ آخری معرکہ عملاً دکھانا ناگزیر تھا، جس میں اب تک سرنگوں نظام عدل، انتظامیہ کی "چ" چالاکیاں، سیاسی جماعتوں کا لچر پن، سیاسی کرداروں کے رسوا ہوتے اور مسخ چہرے، مذھبی سیاسی شخصیات کی بد کرداریاں، محلاتی سازشیں اور ہوس اقتدار و ذاتی مالی و وقتی اغراض کیلئے انا، خودداری، قومی غیرت و حمیت، حتیٰ کہ شریعت و روایات کی پامالی سمیت وطنیت جیسے آفاقی جذبے کی بھینٹ چڑھانے والوں کی نقاب کشائیاں ایک تواتر کے ساتھ دکھانا مقصود تھیں، ہم نے دو سال سے یہ تماشا دیکھا کہ کیسے گدھ محب وطن افراد، حلقوں، جماعتوں کو نوچنے کے در پے ہیں، کیسے ان مفاد پرستوں کی مذموم کاروائیوں میں ملکی ادارے سہولت کاری کرتے ہیں، قانون میں کیا کیا کمزوریاں ہیں جنھوں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے، جمہوریت کے نام پر کس کس سیاسی مائنڈ سیٹ نے وطن عزیز میں طاقت کا ننگا ناچ کروایا ہے، پچھہتر سال ہم نے کن لوگوں کو عزت و احترام کے اونچے سنگھاسن پر براجمان رکھ کر شرک کیا، ہمارے ادارے کیسے برباد ہوئے، ان میں موقع پرست کیسے داخل ہوئے، کیسے ان کی ہوس پرستی نے ناتواں قوم کے وجود کو کھایا، ادارہ جاتی اساس کیسے ہوس پرستوں کے ہاتھوں مجروح ہوئی، کون کون اپنی چرب زبانی کی بدولت پروان چڑھا اور کس کس نے قوم کی آنکھوں سے خواب چھین کر اسے مایوسی کا شکار کیا۔ یہ دیکھنا اور دکھانا ایک لمبے اور صبر آزما مرحلے کا متقاضی تھا، جس کا بہرحال فیصلہ ہوا اور رجیم چینج آپریشن سے آغاز ہوا، غیر ملکی سازش نہ صرف عیاں ہوئی بلکہ قوم کے ہر مرد وزن کو بھی پتہ چل گیا کہ عالمی طاقتیں کیسے سازشیں کرتی آ رہی ہیں، سیاست دانوں کی کمزوریاں، ناپائیدار سیاسی تعلق، نظریات کے نام پر کی گئی لفاظیوں کی حقیقتیں کھلیں، کیسے عارضی دباؤ کے سامنے قوم کو راہ دکھانے والے نام نہاد لیڈر سرنگوں ہوئے، البتہ جنھوں نے وفا نبھانی تھی ان کا بام پر آنا بھی مقدر ہوا، مردار پر ڈھے جانے والے مکروہ چہروں کی نقاب کشائی ہوئی، سیاسی منظر نامہ اس قدر عریاں کیا گیا کہ بچہ بچہ ایسے تمام کرداروں کے چیچک زدہ وجود پر گواہ ہو گیا،دو سالہ عمل تطہیر آئندہ پچاس سالوں کیلئے قوم کو ماضی کے حصار سے نکال باہر کر گیا۔ راقم کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ ابھی کچھ عالمی تصویروں میں ریگ بھرنا باقی ہے ہاں البتہ اندرون ملک یہ پاکی 90 فیصد تک انجام پا چکی ہے۔ غالب گمان ہے کہ ماضی کی تمام بڑی جماعتیں ٹھوکر کھا کر اس گڑھے میں جا چکی ہیں جو ان کا مقدر تھیں، اور کسی بھی مہذب معاشرے میں ان کا وجود ملکی و قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا تھا لیکن پاکستان میں یہ بت شکنی کسی پر امن انتقال اقتدار کے ذریعے ممکن نہ رہی تھی کیونکہ یہاں مافیاز کی شکل میں پنپ چکی تھیں۔ اگرچہ دو سالہ شورش نے اب تک بہت حد تک اس جذباتی قوم کو مایوس کر دیا ہے تو خاطر جمع رکھیں اللہ تعالیٰ کے بعد ہماری عسکری قوت اس ملک کے وجود کی ضامن ہے، آج جس تناسب سے پاکستان تحریک انصاف عوامی مقبولیت کو چھو رہی ہے وطن کی سلامتی کے ادارے اس سے غافل نہیں انہیں قوم کی ترجمانی کا ہنر آتا ہے، وہ جانتے ہیں کہ جھوٹے اور مکار کرداروں کی بیخ کنی کے بعد حقیقی راہنماؤں کو کیسے پذیرائی دینی ہے، یاد رہے کہ افواج پاکستان ملکی سالمیت کے تحفظ کا پہلا اور آخری ادارہ ہے جس نے چومکھی لڑائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو چاروں شانے چت کیا، اس کا طرۂ امتیاز ہے کہ نہ صرف تئیس چوبیس کروڑ پاکستانیوں کو عالمی ساہو کاروں، تھانے داروں اور خدا بن بیٹھے عیار دشمنوں سے اب تک بچائے رکھا بلکہ یہی وہ ادارہ ہے جو اغیار کے سینے میں پیوست خنجر ہے، اسی کی بدولت ہماری کچھ نہ کچھ ساکھ برقرار ہے وگرنہ سول بیوروکریسی سمیت سیاست دانوں میں کوئی ہے جو بیرونی یلغار کو روک سکے، ہاں البتہ عمران خان، جسے آج بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہے، کی سیاسی ٹریننگ بھی ضروری تھی، اسی لئے اسے اور اس کی ٹیم کو ایک سخت مرحلے سے گزار کر کندن بنانا مقصود تھا، اس کے ساتھیوں کو ہر طرح کے کمزور دل، بزدل، کمینے، قدر نا شناس اور دیگر جماعتوں کے احمق در اندازوں سے پاک کرنا تھا، اسے ملکی نظام کی کمزوریوں سے آشنا کرنا مقصود تھا، اسے روایتی سیاسی گند سے پاک کیا جاتا رہا، وہ ضرور بر ضرور جانتے ہیں کہ اس قائد اعظم ثانی کا وجود کتنا قیمتی ہے، اس کے تدبر، سیادت و سفارت کے ہنر کو مہمیز کیسے کرنا ہے، اور پھر ملک وقوم کی حقیقی قیادت کا تاج کیسے پہنانا ہے۔ یاد رہے کہ بادل ضرور چھٹیں گے، وطن میں نکھار ضرور آئے گا، غلاظت و تعفن کی سیاست ضرور اپنے انجام کو پہنچے گی، امامت ملت کسی بے وقوف کو نہیں دی جاسکتی، زمام اقتدار کیلئے ہوش مند، پر عزم، خواب دیکھنے والا، خوابوں کو تعبیر سے روشناس کرنے والا، قوم کی عزم و ہمت کی دلیل اور اغیار کے درمیان ایک عالی ظرف ہمیں میسر ہے، اگر قوم اسے ضائع نہیں ہونے دے رہی تو قوم کے ضامن اسے کیونکر برباد ہونے دیں گے، وہ تو ان کا مربّی، ان کا وکیل اور ان کے وجود کی دلیل ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

پسندیدہ ترین


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv