جنابِ وزیراعظم !این چہ بوالعجبی است!
تحریر: منظوم ولایتی

ایم ڈبلیو ایم شعبہ قم نے ایک مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ویسے بھی ایران کا شہر قم المقدس علم اور اہلِ علم کا شہر ہے۔اسے علم کے سمندر سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس خصوصی نشست میں اہلِ فکر و نظر نےمفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؓ اور بابائے قوم محمد علی جناحؓ کے نظریات کی روشنی میں مسئلہ فلسطین و کشمیر پر سیرحاصل گفتگو کی۔یہاں علامہ اقبال ؓکی نظم " فلسطینی عرب کے نام" بھی زیرِ بحث آئی اور قائد اعظمؓ کی فلسطین وکشمیر پالیسی کے بھی مختلف زاویے بیان کئے گئے۔


ایم ڈبلیو ایم شعبہ قم کے صدر محترم سید شیدا حسین جعفری صاحب نے مقدماتی گفتگو میں مسلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے مضمرات کا جائزہ لیا۔ ان کے بعد فاضل محقق محمد علی شریفی کا کہنا تھا کہ لاہور میں فلسطینی رہنما نے بڑی پتے کی بات کی ہے کہ پاکستان اگر کھل کر فلسطینیوں کی حمایت نہیں کرسکتا ہے تو 'بجائے دو ریاستی حل ' کے خاموشی اختیار کرے یہی بہتر ہے۔ اس موقع پر محترم استاد حوزہ جناب عادل مہدوی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبالؓ بحیثیت ایک قوم کے لیڈر ہونے کے ہمارے باپ ہیں لہذا علامہؓ اور بابائے قوم کے بیانیہ سے ہٹ کر بات کرنے پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ صاحب کا قانونی محاکمہ ہونا چاہیے اور اس کے پسِ منظر کو جانچا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ساری قوم کو قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان چاہیے نہ کہ کاکڑ صاحب کا پاکستان۔
اس موقع پر محترم محمد بشیر دولتی صاحب بھی شاملِ گفتگو ہوئے اور انہوں نے بابائے قوم محمد علی جناحؓ کا مسئلہ فلسطین کے متعلق موقف حتیٰ پاکستان کی تشکیل سے پہلے کے بیانات بھی حوالہ جات کے ساتھ پیش کئے۔
مجلس مذاکرہ کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے محترم سکندر حیدری نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چئیرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیراعظم صاحب نے اپنے قد وکاٹھ سے بڑھ کر بیان دیا ہے۔ حیدری صاحب کا کہنا تھا کہ کاکڑ صاحب کے بیان کے خلاف کورٹ میں جانا چاہیے اور پاکستان عوام کو سڑکوں پر نکلنا چاہیے جائے۔
ایم ڈبلیو ایم قم کے آفس سیکرٹری حجۃ الاسلام علی محمد رضوانی صاحب نے نگران وزیراعظم کے بیان کو قرآن و سنّت سے عدمِ آشنائی نیز قائداعظم کی شخصیت اور ان کےنظریات کی اہمیت سے لا علمی کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'بصیر' آدمی وہ ہے جو حق اور باطل میں تشخیص دے کر حق کے کھڑا ہوتا ہے۔ جس شخص میں اتنی بصیرت بھی نہ ہو اُس کے ہاتھوں میں عنانِ اقتدار دے دینا یہ خود بڑی بے بصیرتی ہے۔
مجلسِ مذاکرہ میں جاری موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم قم کے سیکرٹری تربیّت سید قمر شاہ صاحب نے اپنے تجزیے میں کہا کہ جو آدمی بابائے قوم اور بانی ریاست کے نظریات سے متفق نہیں اُسے اُسی ریاست میں وزارتِ عظمی ٰ کے عہدے پر کیسے فائز کیاجا سکتا ہے؟ یہ ایک بہت خطرناک عمل ہے۔
اُن کی گفتگو کے دوران مجھے علامہ اقبال ؓ کی یاد آئی۔ جناب علامہؓ کے اشعار کی ایک کتاب "ارمغانِ حجاز" کے نام سے ہے۔اس میں علامہ نے برصغیر کی ایک نامور شخصیت اور دارالعلوم دیوبند کے شیخ الالسلام مولانا حسین احمد مدنی صاحب کو مخاطب کر کے کہا تھا:
عجم ہنوز نداند رموزِ دیں، ورنہ
ز دیوبند حُسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است
ہمارے موجودہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ صاحب نے جب سے مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؓ اور بابائے قوم محمد علی جناحؓ کے نظریات کی مخالفت کرنے کی بات کی ہے تب سے میری زبان پر بھی یہی جملہ ہے کہ جنابِ وزیراعظم !' این چہ بوالعجبی است' کہ قائداعظم کی کشمیر پالیسی کو لے کر پوری دنیا میں کشمیریوں کی وکالت کرنے والے ملک کا وزیر اعظم کس طرح یہ کہہ رہا ہے قائداعظم کے نظریات کی مخالفت کوئی کُفر نہیں ہے۔
یہاں ہم پاکستان کے حکمرانوں کو دیکھ کر علامہؓ کی بے تاب روح سے معذرت کرتے ہوئے کچھ یوں کہنا چاہیں گے:
وزیراعظم ہنوز نداند رموزِ سیاست، ورنہ
از انوار الحق کاکڑ،ایں چہ بوالعجبی است!

متعلقہ موضوعات


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face