قائد یا کاکڑ
سید علی کمیل گردیزی


آج ۲۵ دسمبر ہے۔ یعنی قائد کا یومِ ولادت۔ آئیے کچھ دیر کیلئے اپنے ملک اور اپنی قوم کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم قم نے گزشتہ دنوں قائد کے نظریات پر مجلسِ مذاکرہ کا انعقاد کرایا۔ ایسے مباحثے اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کے نظریاتی رُشد کیلئے ضروری ہیں۔ قصّہ کچھ یوں ہے کہ چودہ دسمبر ۲۰۲۳ کو قائداعظم کی رائے سے اختلاف 'کفر' نہیں ہے کا فتوی ٰ ہمارے نگران وزیراعظم صاحب نے دیا تھا۔ اس بیان پر ریاست کی طرف سے ردّعمل کے بجائے خاموشی نے ہر پاکستانی کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔

قم المقدس میں اور جمعۃ المبارک کے دن اس طرح کے جلسے کا منعقد ہونا میرے لئے کوئی تعجب کی بات نہیں۔ آخر علم کی وادی میں پرورش پانے والے ہی قومی نظریات کو پامال ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اصل حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نگران وزیراعظم کاکڑ صاحب اور اُن کے ہمنوا ساتھ ساتھ دو ریاستی حل کا طبل بھی بجا رہے ہیں۔ کوئی ردعمل سامنے نہیں آ رہا گویا سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

کوئی تو لوگوں کو یہ بتانے کی ذمہ داری اٹھائے کہ قائد کسے کہتے ہیں؟ نظریات کیا ہوتے ہیں؟ قائد کے نظریات سے اختلاف کا شوشہ چھوڑنے کے ثمرات کیا نکلیں گے؟ دو ریاستی حل کا مطلب کیا ہے؟ خود فلسطینیوں کا موقف کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
ایسے ہی سوالات پر گفتگو کیلئے حوزہ علمیہ قم کی فاضل شخصیات مجلس وحدت المسلمین شعبه قم کے دفتر میں جمع ہوئی تھیں۔ ایم ڈبلیو ایم قم کے صدر حجتہ السلام سید شیدا حسین جعفری نے مجلسِ مذاکرہ میں بحث کیلئے تین نکات پیش کئے:
١۔دو ریاستی حل یعنی کوئی شخص کسی کے گھر پر قابض ہو جائے اور ثالث آ کر اس بات پر ذور دے کہ بھلائی اس میں ہے کہ یہ گھر مالک کو واپس کرنے کے بجائے دونوں فریقوں میں برابر مقدار میں تقسیم کر دیا جائے ۔ یہ ثالثی نہیں جانبداریاور منصفی نہیں ظلم ہے۔
٢۔ دوریاستی حل غاصب قوتوں کا ایک حربہ ہے جسے ہمارے ہاں قومی بیانیہ بنانے کیلئے کام شروع ہو چکا ہے
٣۔ قائداعظم کے نظریات سے انحراف ملک کا شیرازہ بکھیرنے کے مترادف ہے۔ خصوصاً ملک کے وزیراعظم کا ایسی باتیں کرنا اور ریاستی اداروں کا نوٹس نہ لینا قابلِ تشویش ہے
مجلسِ مذاکرہ کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ ایسے بیانات کا خمیازہ آگے چل کر ساری قوم اور پوری ریاست پاکستان کو بھگتنا ہوگا۔ اس موقع پر محترم منظوم ولایتی کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ قائداعظم کی شان میں گستاخی اور ان کے نظریات سے اختلاف کی سوچ وزیراعظم کی ذاتی سوچ تو ہو سکتی ہے لیکن پاکستانی قوم کی نہیں۔ جس قوم نے اپنے اسلامی عقیدہ کی بنیاد پر آزاد ملک لیا تھا وہ کیسے کسی مسلمان دشمن اور غاصب قوم کی اتحادی بن جائے۔محمد علی شریفی صاحب نے کہا کہ یہ سب اسرائیل کی کراہت و قباحت کو بتدریج کم کرنے کی چالیں ہیں۔محترم عادل علوی نے اس پر کچھ یوں روشنی ڈالی کہ
ہر قوم کے بانی کو اس کی قوم میں ایک خاص قدر و منزلت حاصل ہوتی ہے۔ اب پاکستان آزاد ہونے کے ٧٥ سال بعد کوئی شخص بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خلاف بیان دے۔ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ وہ شخص پاکستان کی سالمیت کے خلاف بات کر رہا ہے۔

بشیر دولتی صاحب نے تاریخی اقتباسات اور قائد کے بیانات کی روشنی میں کہا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کشمیر کو فروخت کرنے کا پیش خیمہ ہے۔
حجۃ الاسلام سکندر علی کے مطابق وزیراعظم صاحب نے اپنے وزن سے زیادہ بات کر دی ہے۔ یہ بیان کبھی ریاستی بیان نہیں ہوسکتا۔
مسئول آفس علی محمد رضوانی صاحب نے کہا کہ یہ ہمارے حکمرانوں کا قرآن مجید، مقامِ قائد اور قوموں کی زندگی میں نظریات کی اہمیت سے عدمِ آشنائی کا ثبوت ہے۔
آج ۲۵ دسمبر کو جہاں ساری قوم کو قائد کا یومِ ولادت مبارک ہو وہیں ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کاکڑ صاحب کے نظریے مطابق پاکستان کو چلایا جائے تو ملکی صورتحال کس نہج پر جا پہنچے گی اور اگر قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات پر قوم گامزن رہے تو نتیجہ کیا ہوگا !؟

ہمیں وٹس ایپ پر جوائن کیجئے

نظریاتی تحریریں


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face