اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات یہ صرف قائد کی مخالفت نہیں! پاکستان دوقومی نظریے کی بنیاد پر بطورِ اسلامی ریاست 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا جبکہ اسرائیل کو 16 اگست 1948 کو جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سے یہودیوں کو لاکر فلسطین کی سرزمین پر قابض ہو کر زبردستی و غیر منطقی انداز میں وجود بخشا گیا۔ قائد اعظم کی بابصیرت نگاہوں نے فلسطین پر قبضہ کرنے والے یہودیوں کو اس کے انجام سے ڈراتے ہوئے دس نومبر 1938 کو بمبئی میں فرمایا :
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

تحریر:محمد بشیر دولتی
پاکستان میں مجلس وحدت مسلمین کو استعمار مخالف قومی تنظیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کی چند شاخیں دیگر ممالک میں بھی ہیں۔ ایران کے شہر قم المقدس میں بھی ایم ڈبلیو ایم کا ایک دفتر موجود ہے۔ قم المقدس کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہونگے۔ اس شہر کو دنیا میں ایک بڑے دینی ، علمی و روحانی مرکز اور استعمار کے مدّمقابل بصیرت و دانش کے ایک منبع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔شہرِ قم میں موجود پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اکثر علما و فضلا، دانشور، طالب علم اور زائرین مجلس وحدت مسلمین قم کے دفتر سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس شہر میں سارا سال تعلیمی و تربیتی ، فکری و نظریاتی، ثقافتی اور تمدّنی، عرفان و اجتہاد، فقہ و حقوق اور علم و ہنر کے جیسے موضوعات پر ان گنت نشستیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ چند روز قبل ہمارے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی طرف سے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات کے خلاف بیان داغنے پر ایم ڈبلیو ایم قم کے دفتر میں ایک اہم مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس اہم نشست میں دیگر مہمانوں کے ساتھ بندہ ناچیز کو بھی قائد اعظم کے نظریات کی روشنی میں فلسطین کے دو ریاستی حل کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ موضوع کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت میں اپنی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
قائداعظم کے فرامین کی مخالفت سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ قرآنی آیات پر ہمارے حکمران کتنے عمل پیرا ہیں؟ قرآن کے مطابق کفار کو مسلمانوں پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ یہود و نصاری مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ، ہمیں نہ کسی پر ظلم کرنا چاہئے نہ کسی ظالم کا ساتھ دینا چاہئے،کیا ہمارے حکمران اس پر عمل پیرا ہیں؟ کیا دوریاستی فارمولا عملاً قرآنی تعلیمات کے خلاف نہیں ہیں؟
رسول خدا کی حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی انسان یا مسلمان پر ظلم ہو اور وہ مدد کے لئے پکارے تو مسلمانوں کو اس کی مدد کرنی چاہئے ۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو بطور انسان و مسلمان اسرائیل جیسے غاصب و ظالم کیلئے نرم گوشہ رکھنا چاہیے؟ کیا یہ بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہیں؟
قرآن مجید اور بانی اسلام کے بعد ہمارے حکمرانوں کا بانی پاکستان اور آئین پاکستان سے اختلاف بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
تین ماہ کے لئے سلیکٹ ہونے والے ہمارے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پانچویں مہینے میں امریکہ میں جاکر ایسا بیان دیا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو حیرت میں ڈال دیا۔ دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی 6 دسمبر 2023 کے رپورٹ کے مطابق ویٹیکن اور فلسطین سمیت اس وقت دنیامیں کل 195ممالک ہیں۔ان میں سے فقط دو ممالک نظریاتی بنیادوں پر دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے، ایک مملکتِ خداداد پاکست اور دوسرا غاصب اسرائیل ۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے صہیونی ریاست اسرائیل کے غاصبانہ وجود سے پہلے ہی اس ظالم ملک کی مخالفت کی۔1937 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے ادبی شہر لکھنؤ کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ عربوں سے جھوٹے وعدے کر کے ان سے فائدہ اٹھانے کے بعد برطانیہ نے اب بد نام زمانہ معاہدہ "اعلان بالفور"کے ذریعے اپنے آپ کو ان پر مسلط کردیا ہے اور یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دوحصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اگر اس معاہدے کو نافذ کردیا گیا تو عربوں کے اپنے وطن میں ان کی تمام تمناؤں اور آرزؤں کا خون ہوگا ۔
اس بیان کی روشنی میں ہم قائد اعظم کی عقابی اور بابصیرت نگاہوں کی روشنی میں ادا کئے گئے بیان کو آج ہم فلسطین میں عملی طور پر دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سے "ہم بے گھر و بے سروسامان آئے ہیں ہمیں پناہ دو" کے نعروں کے ساتھ آنے والے یہودیوں نے فلسطینیوں کو اُن کے اپنے گھروں سے بےگھر کر کے انہیں خیموں میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے ۔ کس طرح اب صہیونی فلسطینی مسلمانوں،مردوں ،جوانوں ،بوڑھوں یہاں تک کہ عورتوں اور ننھے بچوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔
قائد اعظم نے عالمی استعمار برطانیہ کے بے رحمانہ اور منفی کردار کے بارے میں فرمایا کہ :جس دن سے برطانیہ نے سلطنت عثمانی کے بعد فلسطین پر قابض ہوا ایک ایسی تاریخ بن گئی ہے جو تاریک تر ہوتی جارہی ہے"
"یہ بہت ظالمانہ بات ہے کہ یہودیوں کوان کے زیر اثر،بیرونی طاقتوں کے اشارے پر کچرے کی طرح فلسطین میں پھینک دینے کی کوشش کی جائے اور اس طرح خود یہودیوں کے لئے بھی از حد قابل رحم صورت حال پیدا کی جائے جو عربوں کی سرزمین پر جائیں اور اپنے نام نہاد قومی وطن کی دلیل کے تحت وہاں قیام پزیر ہوں"
قائد اعظم کے اس قول کو آج ہم عملی ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل اب غاصب یہودیوں کے لئے پرامن نہیں رہا،خود عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب اسرائیل چھوڑ کر پھر سے یورپ جانے والوں کی تعداد طوفان الاقصی کے بعد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے۔دس،پچاس اور سو افراد کو دوسرے ممالک سے جمع کرکے مستقبل کے سنہرے خواب اور نیشنلٹی دےکر اسرائیل میں بسانے والے اب لاکھوں یہودیوں کو اسرائیل سے ہجرت کرکے جاتے ہوئے بےبسی سے دیکھ رہے ہیں ۔ یہ روش غاصب اسرائیل کے لئے خطرے کی بڑی گھنٹی ہے۔
دو ریاستی فارمولہ کوئی آج کی بات نہیں۔ استعماری طاقتوں نے معاہدہ باالفور سے اوسلو امن معاہدے اور پھر صدی کی ڈیل تک اسی فارمولے کو عملی کرنے کی ناکام کوشش کی۔ مسلسل ناکامی کے بعد استعمار نے اب ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اسی فارمولے میں جان ڈالنے کا ٹھیکہ دیا ہے۔ یہ بھی ایک اور ناکام کوشش ہی ہے چونکہ فلسطینیوں کی سرزمین کو تقسیم کر کے دوریاست بنانے کی تجویز جہاں غیر منطقی و غیر منصفانہ ہے وہیں خود فلسطینی اور بابائے قوم بھی اسے پہلے سے مسترد کر چکے ہیں۔
بانی پاکستان نے 25مئی 1945 میں ڈاکٹر ڈالٹن کے نام یوں فرمایا:اگر ان کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز ہے تو کس طرح انہوں نے ایسی مہیب اور دہشت ناک حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جو اخلاقیات کے کسی اصول، سیاست،انصاف اور عدل سے ہم آہنگ نہیں، یہ کس نظرئے کے تحت برطانیہ کے وقار کو برقرار رکھ سکیں گے ،الیکشن میں یہودیوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے یہ بہت خطرناک کھیل ہے۔یقینی طور پر یہ عمل مسلمانوں کو مضطرب کر دے گا اور ان کے دلوں میں نفرت پیدا کردےگا اور تباہ کن نتائج پر منتہج ہوگا۔
دو ریاستی ظالمانہ چال کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل ،بابائے قوم نے 30 جولائی 1946 کو یونائٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کچھ یوں بیان کیا تھا: "مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوگا کہ فلسطین سے امریکی اثر و رسوخ ختم ہوجائے، نہ صرف یہودیوں کی فلسطین آمد کو ختم کردیا جائے بلکہ جو یہودی پہلے سے فلسطین میں آکر بسے ہیں انہیں بھی آسٹریلیا،کینیڈا یا کسی ایسے ملک میں بسایا جائے جہاں ان کی گنجائش ہو ورنہ ایک دن ایسا آئےگا کہ ان کی قسمت اس سے بھی خراب ہوگی"
قائد اعظم کی پیشین گوئی کے عین مطابق اس وقت اسرائیل کے یہودی سخت مشکل،اضطراب اور خوف میں مبتلا ہیں۔
اسی طرح دو ریاستی حل کے نظرئیے کے خلاف ملت اسلامیہ کے عظیم قائد، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 8 دسمبر 1947 کو اس وقت کے امریکی صدر ہجری ایس ٹرومین کو خط میں یوں لکھا:
فلسطینی ریاست کو تقسیم نہ کیا جائے ورنہ تاریخ اقوام عالم فلسطینیوں کے ساتھ کئے گئے کھلے جرائم پر ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرےگی۔
اب ہمارے بڑے کیا کرنے جا رہے ہیں؟ کیا ہم تعلیمات قرآن، تعلیمات پیغمبرﷺ ، تعلیماتِ علامہ اقبال اور تعلیماتِ قائد اعظم کےخلاف لوگوں کو ابھارنا چاہتے ہیں؟
کیا ہم قائد اعظم کے ایمان،یقین اور تنظیم کو ،بےایمانی،موقع پرستی اور ہٹ دھرمی میں بدلیں گے؟ دوقومی نظریے کو تاریخی غلطی قرار دیں گے؟
کہیں وزیر اعظم کا یہ بیان کشمیر سے دست برداری کا پیش خیمہ تو نہیں؟ کیا ہم کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھنے کے بجائے تقسیم کشمیر کے فارمولے کو اپنانے کیلئے ذہن سازی کر رہے ہیں؟ کہیں یہ دیگر صوبوں خصوصاً بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنے اور پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوئی چال تو نہیں؟ خدا وند عالم ہمارے ارباب اقتدار کو اپنے حلف سے وفاداری کرنے اور اس ملک کو بانی پاکستان اور مصور پاکستان کے نظریات کے مطابق چلانے اور اس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں