یہ صرف قائد کی مخالفت نہیں!
تحریر:محمد بشیر دولتی


پاکستان میں مجلس وحدت مسلمین کو استعمار مخالف قومی تنظیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کی چند شاخیں دیگر ممالک میں بھی ہیں۔ ایران کے شہر قم المقدس میں بھی ایم ڈبلیو ایم کا ایک دفتر موجود ہے۔ قم المقدس کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہونگے۔ اس شہر کو دنیا میں ایک بڑے دینی ، علمی و روحانی مرکز اور استعمار کے مدّمقابل بصیرت و دانش کے ایک منبع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔شہرِ قم میں موجود پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اکثر علما و فضلا، دانشور، طالب علم اور زائرین مجلس وحدت مسلمین قم کے دفتر سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس شہر میں سارا سال تعلیمی و تربیتی ، فکری و نظریاتی، ثقافتی اور تمدّنی، عرفان و اجتہاد، فقہ و حقوق اور علم و ہنر کے جیسے موضوعات پر ان گنت نشستیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ چند روز قبل ہمارے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی طرف سے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات کے خلاف بیان داغنے پر ایم ڈبلیو ایم قم کے دفتر میں ایک اہم مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس اہم نشست میں دیگر مہمانوں کے ساتھ بندہ ناچیز کو بھی قائد اعظم کے نظریات کی روشنی میں فلسطین کے دو ریاستی حل کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ موضوع کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت میں اپنی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
قائداعظم کے فرامین کی مخالفت سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ قرآنی آیات پر ہمارے حکمران کتنے عمل پیرا ہیں؟ قرآن کے مطابق کفار کو مسلمانوں پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ یہود و نصاری مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ، ہمیں نہ کسی پر ظلم کرنا چاہئے نہ کسی ظالم کا ساتھ دینا چاہئے،کیا ہمارے حکمران اس پر عمل پیرا ہیں؟ کیا دوریاستی فارمولا عملاً قرآنی تعلیمات کے خلاف نہیں ہیں؟
رسول خدا کی حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی انسان یا مسلمان پر ظلم ہو اور وہ مدد کے لئے پکارے تو مسلمانوں کو اس کی مدد کرنی چاہئے ۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو بطور انسان و مسلمان اسرائیل جیسے غاصب و ظالم کیلئے نرم گوشہ رکھنا چاہیے؟ کیا یہ بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہیں؟
قرآن مجید اور بانی اسلام کے بعد ہمارے حکمرانوں کا بانی پاکستان اور آئین پاکستان سے اختلاف بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
تین ماہ کے لئے سلیکٹ ہونے والے ہمارے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پانچویں مہینے میں امریکہ میں جاکر ایسا بیان دیا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو حیرت میں ڈال دیا۔ دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی 6 دسمبر 2023 کے رپورٹ کے مطابق ویٹیکن اور فلسطین سمیت اس وقت دنیامیں کل 195ممالک ہیں۔ان میں سے فقط دو ممالک نظریاتی بنیادوں پر دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے، ایک مملکتِ خداداد پاکست اور دوسرا غاصب اسرائیل ۔

پاکستان دوقومی نظریے کی بنیاد پر بطورِ اسلامی ریاست 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا جبکہ اسرائیل کو 16 اگست 1948 کو جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سے یہودیوں کو لاکر فلسطین کی سرزمین پر قابض ہو کر زبردستی و غیر منطقی انداز میں وجود بخشا گیا۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے صہیونی ریاست اسرائیل کے غاصبانہ وجود سے پہلے ہی اس ظالم ملک کی مخالفت کی۔1937 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے ادبی شہر لکھنؤ کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ عربوں سے جھوٹے وعدے کر کے ان سے فائدہ اٹھانے کے بعد برطانیہ نے اب بد نام زمانہ معاہدہ "اعلان بالفور"کے ذریعے اپنے آپ کو ان پر مسلط کردیا ہے اور یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دوحصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اگر اس معاہدے کو نافذ کردیا گیا تو عربوں کے اپنے وطن میں ان کی تمام تمناؤں اور آرزؤں کا خون ہوگا ۔
اس بیان کی روشنی میں ہم قائد اعظم کی عقابی اور بابصیرت نگاہوں کی روشنی میں ادا کئے گئے بیان کو آج ہم فلسطین میں عملی طور پر دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سے "ہم بے گھر و بے سروسامان آئے ہیں ہمیں پناہ دو" کے نعروں کے ساتھ آنے والے یہودیوں نے فلسطینیوں کو اُن کے اپنے گھروں سے بےگھر کر کے انہیں خیموں میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے ۔ کس طرح اب صہیونی فلسطینی مسلمانوں،مردوں ،جوانوں ،بوڑھوں یہاں تک کہ عورتوں اور ننھے بچوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔
قائد اعظم نے عالمی استعمار برطانیہ کے بے رحمانہ اور منفی کردار کے بارے میں فرمایا کہ :جس دن سے برطانیہ نے سلطنت عثمانی کے بعد فلسطین پر قابض ہوا ایک ایسی تاریخ بن گئی ہے جو تاریک تر ہوتی جارہی ہے"

قائد اعظم کی بابصیرت نگاہوں نے فلسطین پر قبضہ کرنے والے یہودیوں کو اس کے انجام سے ڈراتے ہوئے دس نومبر 1938 کو بمبئی میں فرمایا :
"یہ بہت ظالمانہ بات ہے کہ یہودیوں کوان کے زیر اثر،بیرونی طاقتوں کے اشارے پر کچرے کی طرح فلسطین میں پھینک دینے کی کوشش کی جائے اور اس طرح خود یہودیوں کے لئے بھی از حد قابل رحم صورت حال پیدا کی جائے جو عربوں کی سرزمین پر جائیں اور اپنے نام نہاد قومی وطن کی دلیل کے تحت وہاں قیام پزیر ہوں"
قائد اعظم کے اس قول کو آج ہم عملی ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل اب غاصب یہودیوں کے لئے پرامن نہیں رہا،خود عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب اسرائیل چھوڑ کر پھر سے یورپ جانے والوں کی تعداد طوفان الاقصی کے بعد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے۔دس،پچاس اور سو افراد کو دوسرے ممالک سے جمع کرکے مستقبل کے سنہرے خواب اور نیشنلٹی دےکر اسرائیل میں بسانے والے اب لاکھوں یہودیوں کو اسرائیل سے ہجرت کرکے جاتے ہوئے بےبسی سے دیکھ رہے ہیں ۔ یہ روش غاصب اسرائیل کے لئے خطرے کی بڑی گھنٹی ہے۔
دو ریاستی فارمولہ کوئی آج کی بات نہیں۔ استعماری طاقتوں نے معاہدہ باالفور سے اوسلو امن معاہدے اور پھر صدی کی ڈیل تک اسی فارمولے کو عملی کرنے کی ناکام کوشش کی۔ مسلسل ناکامی کے بعد استعمار نے اب ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اسی فارمولے میں جان ڈالنے کا ٹھیکہ دیا ہے۔ یہ بھی ایک اور ناکام کوشش ہی ہے چونکہ فلسطینیوں کی سرزمین کو تقسیم کر کے دوریاست بنانے کی تجویز جہاں غیر منطقی و غیر منصفانہ ہے وہیں خود فلسطینی اور بابائے قوم بھی اسے پہلے سے مسترد کر چکے ہیں۔
بانی پاکستان نے 25مئی 1945 میں ڈاکٹر ڈالٹن کے نام یوں فرمایا:اگر ان کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز ہے تو کس طرح انہوں نے ایسی مہیب اور دہشت ناک حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جو اخلاقیات کے کسی اصول، سیاست،انصاف اور عدل سے ہم آہنگ نہیں، یہ کس نظرئے کے تحت برطانیہ کے وقار کو برقرار رکھ سکیں گے ،الیکشن میں یہودیوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے یہ بہت خطرناک کھیل ہے۔یقینی طور پر یہ عمل مسلمانوں کو مضطرب کر دے گا اور ان کے دلوں میں نفرت پیدا کردےگا اور تباہ کن نتائج پر منتہج ہوگا۔
دو ریاستی ظالمانہ چال کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل ،بابائے قوم نے 30 جولائی 1946 کو یونائٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کچھ یوں بیان کیا تھا: "مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوگا کہ فلسطین سے امریکی اثر و رسوخ ختم ہوجائے، نہ صرف یہودیوں کی فلسطین آمد کو ختم کردیا جائے بلکہ جو یہودی پہلے سے فلسطین میں آکر بسے ہیں انہیں بھی آسٹریلیا،کینیڈا یا کسی ایسے ملک میں بسایا جائے جہاں ان کی گنجائش ہو ورنہ ایک دن ایسا آئےگا کہ ان کی قسمت اس سے بھی خراب ہوگی"
قائد اعظم کی پیشین گوئی کے عین مطابق اس وقت اسرائیل کے یہودی سخت مشکل،اضطراب اور خوف میں مبتلا ہیں۔
اسی طرح دو ریاستی حل کے نظرئیے کے خلاف ملت اسلامیہ کے عظیم قائد، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 8 دسمبر 1947 کو اس وقت کے امریکی صدر ہجری ایس ٹرومین کو خط میں یوں لکھا:
فلسطینی ریاست کو تقسیم نہ کیا جائے ورنہ تاریخ اقوام عالم فلسطینیوں کے ساتھ کئے گئے کھلے جرائم پر ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرےگی۔
اب ہمارے بڑے کیا کرنے جا رہے ہیں؟ کیا ہم تعلیمات قرآن، تعلیمات پیغمبرﷺ ، تعلیماتِ علامہ اقبال اور تعلیماتِ قائد اعظم کےخلاف لوگوں کو ابھارنا چاہتے ہیں؟
کیا ہم قائد اعظم کے ایمان،یقین اور تنظیم کو ،بےایمانی،موقع پرستی اور ہٹ دھرمی میں بدلیں گے؟ دوقومی نظریے کو تاریخی غلطی قرار دیں گے؟
کہیں وزیر اعظم کا یہ بیان کشمیر سے دست برداری کا پیش خیمہ تو نہیں؟ کیا ہم کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھنے کے بجائے تقسیم کشمیر کے فارمولے کو اپنانے کیلئے ذہن سازی کر رہے ہیں؟ کہیں یہ دیگر صوبوں خصوصاً بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنے اور پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوئی چال تو نہیں؟ خدا وند عالم ہمارے ارباب اقتدار کو اپنے حلف سے وفاداری کرنے اور اس ملک کو بانی پاکستان اور مصور پاکستان کے نظریات کے مطابق چلانے اور اس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

نظریاتی تحریریں


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly