چمچوں کے بغیر الیکشن

الیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے احباب رُکیں ذرا، ٹھہریں ذرا ! ہمارے ہاں الیکشن ہو بھی جائے تو تبدیلی کیوں نہیں آتی!؟

یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے، اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیوں ہمارے ہاں صرف حکمران تبدیل ہوتے ہیں، نظام تبدیل نہیں ہوتا تو آپ اس سوال کا جواب پانے کی خاطر پاکستان میں عوام پر لادے گئے ٹیکسوں کے بوجھ کی ہی بات کر لیں، آپ کو جواب دینے کیلئے اندرونِ ملک تو خیر بیرون ملک سے بھی چمچہ برادری حرکت میں آجائے گی۔ ان چمچوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ سارے ٹیکسز تو ہم امریکہ، برطانیہ، فرانس، بیلجیم، روس، چین اور۔۔۔ میں بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ چمچہ برادران صرف ٹیکس لگانے اور عوام کو نچوڑنے کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ان ممالک میں ٹیکس کے بدلے میں عوام کو جو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، وہ کون کون سی ہیں! ہمارے ہاں کراچی سے لے کر خیبر تک اور خیبر سے آزاد کشمیر تک، حکومت کی طرف سے عوام کو سانس لینے کے لئے صاف ہوا، پینے کا پانی، ہسپتال میں دوائی، سڑکوں پر امن، گھروں میں تحفظ، سفر کیلئے مناسب ٹرانسپورٹ اور بچوں کیلئے معیاری سکول و کالج بھی میسر نہیں۔

انسانی حقوق کو تو چھوڑیئے، یہاں انسانی آبادیوں کے اردگرد کھڑے پانی کی نکاسی، گندگی، تعفن اور بدبو کے خاتمے کیلئے بھی کوئی انتظام نہیں، ڈینگی مچھروں کے خلاف ویکسین لگانے کے چرچے تو بہت کئے جاتے ہیں، لیکن ان مچھروں کے خاتمے کے لئے گندے جوہڑوں، نالوں، تالابوں اور غلاظت کے ڈھیروں کو نہیں اٹھایا جاتا۔

عوامی ٹیکس سے عوام کی جو خدمت کی جاتی ہے، اس کی ایک جھلک اگر دیکھنی ہو تو ملک کے طول و عرض میں موجود لاری اڈّوں کی صورتحال کو دیکھ لیجئے۔ ہر شہر میں لاری اڈہ ایک عوامی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں لوگوں کی لاری اڈوں پر آمد و رفت ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں سب سے غلیظ ترین اور گندی ترین جگہ لاری اڈہ ہی ہوتا ہے۔ واش رومز کی پہلے تو سہولت ہی نہیں ہوتی اور واش رومز ہوں بھی تو وہاں ٹیکسز ادا کرنے والے عوام سے چارجز لئے جاتے ہیں۔

ان لاری اڈّوں پر ٹرانسپورٹ مافیاز کیسے لوگوں کو مہنگی ٹکٹیں فروخت کرتے ہیں! لوگ گندگی اور سڑاند میں کیسے سانس لیتے ہیں، کھانے کے نام پر انہیں کیسی کیسی غلاظتیں کھلائی جاتی ہیں اور ہوٹلنگ مافیا ان سے بھاری بھر کم پیسے وصول کرنے کے بعد انہیں کیسے گندے کمروں میں رہنے پر مجبور کرتا ہے، یہ ایک الگ ہی داستان ہے۔

ٹیکس خوری میں مصروف حکومتوں کے پاس کوئی ایسا ادارہ نہیں، جو عوام کے احترام میں حد اقل لاری اڈوں پر صفائی کو ہی مثالی بنا دے، پینے کے صاف پانی کا ہی انتظام کر دے، ہوٹلوں کے کھانوں، کمروں اور واش رومز کی صفائی اور صحت کے معیار کو ہی کنٹرول کرے۔

ہمارے ہاں اکثر ٹریفک حادثات، گاڑیوں کی تیز رفتاری، سڑکوں کی غلط ڈیزائننگ اور گاڑیوں کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں، لیکن گاڑیوں کی رفتار کو چیک کرنے، سڑکوں کے نقشوں کی اصلاح اور گاڑیوں کی فٹنس کی دیکھ بھال کے لئے ہمارے پاس ٹیکس ہی کہاں ہیں۔

اس وقت بھی ملک کے مصروف ترین تجارتی مرکز کوئٹہ سے تفتان جانے والے مسافروں کو ٹرانسپورٹ اور ہوٹل مافیا کیسے لوٹتا ہے اور پھر بارڈر پر قومی خزانے سے تنخواہ لینے والے اہلکار ان کے ساتھ جانوروں والا سلوک کرتے نظر آتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان مسافر بسوں کے اوپر ٹنوں کے حساب سے کیا سامان لادا اور لپیٹا جاتا ہے،حتی کہ بعض مسافر بسوں میں کرسیوں کے نیچے تیل کی ٹینکیاں بنانے کی خبریں ہیں۔ کتنی ہی حادثات میں مسافر جل بھن گئے ہیں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ ہنوز جاری ہے۔ کوئی ادارہ نہیں جو عوام کو اس وحشتناک صورتحال سے نجات دلائے۔

غیر قانونی لوگ جن کے پاس پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں ہوتے، انہیں مسافر بسوں میں سیٹوں کے درمیان نیچے راہرو میں بٹھا لیا جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ بچے، نوجوان اور جوان اگر پاکستانی ہی ہیں تو اپنے ملک میں چوروں کی طرح چھپ کر کیوں سفر کرتے ہیں اور اگر پاکستانی نہیں ہیں اور یا پھر کسی غیر قانونی مشن پر نکلے ہوئے ہیں تو پھر انہیں یہ مدد کیوں فراہم کی جاتی ہے!!!

ہماری سرحدوں پر انسانی اسمگلنگ کا یہ بدترین دھندہ اپنے عروج پر ہے۔ ہم نے یہ صرف ایک بارڈر کا ذکر کیا ہے، اب افغانستان اور چین کے بارڈر کا ذکر کرنا ہی عبث ہے۔

کوئٹہ سے تفتان کے راستے میں لیویز اور سکیورٹی اہلکاروں کی یہ مجال ہی نہیں کہ وہ کسی مشکوک مسافر کا شناختی کارڈ چیک کرکے ٹرانسپورٹ مافیا سے ٹکر لیں یا کسی مسافر بس میں اوور لوڈنگ یا اس میں تیل اسمگل کرنے والوں پر ہاتھ ڈال سکیں۔

سرکاری اہلکار ہر جگہ عام اور سادہ لوح مسافروں پر ہی رعب جما کر یا ہاتھ اٹھا کر واہ واہ کرواتے ہیں۔ چنانچہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مذکورہ روٹس پر ہمارے بہادر جوان چاہےسول لباس میں ہوں یا وردی میں وہ صرف ان افراد کوتنگ کرتے ہیں، جو شرفا اپنی قانونی دستاویزات شناختی کارڈ یا پوسپورٹ وغیرہ کے ساتھ سیٹوں پر اپنی فیمیلیز کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں، اور یا پھر جن کا حُلیہ ہی بتا رہا ہوتا ہے کہ بے چارے پسماندہ علاقوں کے کم تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔

اس چیکنگ کے دوران جو لوگ کمیشن طے کرکے گاڑی میں بٹھائے گئے ہوتے ہیں، ان کی طرف دیکھنے کی بھی ہمت نہیں کی جاتی۔

اس سے ہمیں یہ بھی اندازہ ہو جانا چاہیئے کہ ہمارے ملک میں جگہ جگہ لگے ہوئے کیمروں اور سکیورٹی ناکوں کے باوجود دہشت گرد کس طرح کارروائیاں کرکے فرار ہو جاتے ہیں اور کس طرح ہر محکمے میں رشوت خوری عروج پر ہے۔

البتہ چمچہ برادران کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے، لہذا اسے آئندہ بھی ہونے دیجئے۔ عوام ہمیشہ کی طرح صرف ٹیکس ادا کرے اور باقی جو نظام جیسے چلتا آرہا ہے، ویسے ہی چلنے دیجئے۔

اب رہا یہ سوال کہ ہمارے ہاں تبدیلی کیوں نہیں آتی!؟ تو اس سوال کا مختصر جواب یہی ہے کہ ہمارے ہاں بدترین مافیاز کو بھی بہترین چمچے مل جاتے ہیں، کبھی میڈیا کی صورت میں اور کبھی سیاسی لیڈروں اور نام نہاد دانشوروں کی شکل میں۔

ابھی الیکشن قریب ہے، اس دوران سیاستدانوں کے ساتھ سیلفیاں بنوانے اور اُن کی چمچہ گیری کرنے کے بجائے اُن سے اپنا ٹیکس حلال کرائیں، ان سے رشوت، ملاوٹ، دھونس اور کرپشن کے خاتمے کے ٹھوس اور اصولی وعدے لیں اور اپنے اپنے علاقے میں رفاہی و فلاحی منصوبوں نیز تعلیم و ٹرانسپورٹ، صحت و عدل و انصاف کیلئے محکم پیمان لیں۔ ورنہ چمچہ گیری تو ہمیشہ سے ہوتی آ رہی ہے اور اسی چمچہ گیری نے ہی تو ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔

پسندیدہ ترین


افکار و نظریات: google, print, voice, nation