مکتبِ فنافی اللہ

محمد علی شریفی

ایم ڈبلیو ایم قم کی طرف سے شہید قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی ۴ جنوری ۲۰۲۴ کو منائی گئی۔ اس کا عنوان تکریم شہدا کانفرنس رکھا گیا۔ شہدا کرمان اور شہید قاسم سلیمانی کی وجہ سے پروگرام کی اہمیت واضح اور نمایاں ہے۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی ایک معروف بحرینی عالمی دین الشیخ عبداللہ دقاق تھے۔ انہوں نے اس کانفرنس میں جو پیغام دیا اُس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔

ان کے پیغام کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

جنرل سلیمانی جب زندہ تھے تو ایک فرد تھے ، ان کی شہادت کے بعد وہ ایک مکتب اور ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ قاسم سلیمانی اب ایک مکتب اور ایک مدرسہ ہے۔ ایک ایسا مکتب کہ جس کے دروازے تمام عالم کے حریت پسندوں اور مقاومتی تحریکوں کےلئے کھلے ہیں۔ آج شیعہ سنی مقاومتی تحریکیں حاج قاسم سلیمانی کو اپنے لئے رول ماڈل اور نمونہ سمجھتی ہیں اورآپ ان تحریکوں کے لئےمربی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ کی شہادت کے بعد بھی دشمن کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں اور حال ہی میں ان کی چوتھی برسی کے موقع پر ہونے والے دھماکے اسی کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہید سلیمانی کی آرامگاہ سے بھی دشمن خائف ہے۔ دشمن ،قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہے۔دشمن خوفزدہ کیوں نہ ہو ؟
قاسم سلیمانی کی آرامگاہ غیرت، حمیت حریت ، محبت ، شجاعت اور مقاومت سکھانے کا مرکز بن چکی ہے۔ ہزاروں لوگ یہاں مختلف شہروں اور ممالک سے بلا تفریقِ شیعہ و سنی سب اس مرقد پر درسِ مقاومت لینے آتے ہیں ۔ لوگوں کو اس مرقد سے خوفِ خدا اور فنافی اللہ ہونے کا عملی درس ملتا ہے۔ جو فنا فی اللہ ہو جائے وہ کبھی غیراللہ سے شکست نہیں کھا سکتا۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنے اپنے شہدا کو فنافی اللہ کا مکتب بنا دیں، ہم اپنے شہدا کیلئے ان مقدمات کو فراہم کریں جن سے شہدا ایک فرد سے مکتب میں تبدیل ہوتے ہیں۔

ہمیں جوائن کریں

پسندیدہ ترین


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face