اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات پڑھے لکھے شیعہ سماج میں چند رائج اصطلاحات کا تعارف PDF "آیت اللہ" کا مصداق وہ شخص ہے جو کامیابی کے ساتھ درسِ خارج مکمل کر کے اجتہاد کے درجے پر پہنچ جاتاہے۔ اجتہاد کے درجے پر پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ ایساشخص فقہی اصولوں کو استعمال کر کے ادلّہ اربعہ ﴿ قرآن، سنت، عقل اور اجماع ﴾سے شرعی قوانین اخذ کرنے کی مہارت حاصل کر لیتا ہے۔اس صلاحیّت کے بعد اُس کیلئے ضروری ہے کہ وہ چند سال علمِ فقہ اور علمِ اصول کا درسِ خارج بھی دے۔ اس کے بعد اُسے آیت اللہ کہا جاتا ہے۔ پس کسی ملک کی پارلیمنٹ، عدلیہ اور حکومت کی اطاعت ، مرجعِ تقلید بننے کیلئے ضروری نہیں۔ کوئی اطاعت کرے یا نہ کرے مرجع تقلید اپنی جگہ پر مرجعِ تقلید ہے لیکن ولی فقیہ کیلئے پارلیمنٹ، عدلیہ اور حکومت کا ولی فقیہ کا مطیع ہونا ضروری ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور حکومت کی اطاعت کے بغیر ولی فقیہ کا تصوّر ہی نہیں۔ ولی فقیہ تاجِ برطانیہ کی مانند کوئی نسلی یا فقط کاغذی یا کسی ریاست کے اندر برائے نام منصب نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ملک کی الہی مدیریّت اور معاشرے کو الہی قوانین پر چلانے کا نام ہے۔ مرجعِ تقلید ایک حُکم کُلّی دیتا ہے جسے فتوی کہتے ہیں۔ مثلا مرجع تقلید فقط یہ فتوی دیتا ہے کہ شراب پینا حرام ہے۔ اب لوگ شراب پئیں یا چھوڑ دیں، اس کی مرجعِ تقلید پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی لیکن ولی فقیہ شرابی کو طبقِ قوانینِ الہی سزا دے گا، یہ ولی فقیہ کی مسئولیّت ہے۔ اسی طرح حالتِ جنگ میں مرجع تقلید یہ فتوی دے گا کہ جب کسی اسلامی ملک پر حملہ ہو جائے تو دفاع واجب ہے۔ اب لوگ دفاع کیلئے جائیں یا نہ جائیں اس کا کوئی تعلق مرجع تقلید سے نہیں۔ لیکن ولی فقیہ جب یہ تشخیص دے گا کہ دفاع واجب ہے تو وہ مرجع تقلید کی مانند صرف فتوی نہیں دے گا بلکہ جہاد کا حکم صادر کرے گا۔ ولی فقیہ کا یہ حکم ساری ریاست کے ہر فرد اور حکومت کے ہر ادارے پر نافذ ہوگا۔ ریاست کا کوئی ادارہ یا شخص یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میں کسی اور مرجعِ تقلید کی تقلید کرتا ہوں اس لئے جہاد کیلئے نہیں جاوں گا۔ یہ مرجعِ تقلید اور تقلید کا باب ہی نہیں یہ ولی فقیہ کا باب ہے جو سیاسی و ریاستی نظم و نسق سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر ولی فقیہ کے حکم جہاد کے بعد ریاست کا کوئی ادارہ اس حکم سے سرتابی کرتا ہے تو اُس کا حساب کسی مرجع تقلید کی تقلید تبدیل کرنے والا نہیں ہے بلکہ اسے ایسا کرنے پر سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
نذر حافی
انسانی معاشرے کا ایک اہم مسئلہ کسی بھی شئے کی درست شناخت اور معرفت ہے۔ دیگر مسائل اپنی جگہ تاہم شیعہ علمائے کرام کے حوالے سے ہمارے ہاں کا عام شیعہ ابھی تک یہ نہیں جانتا کہ حوزہ علمیہ میں شیعہ علما کرام کیلئے کون سی اصطلاحات مستعمل ہیں۔ عوام اور عام شیعہ حضرات کو چھوڑیے بعض خواص بھی ایک مرجعِ تقلید اور ایک ولی فقیہ کے باہمی فرق کو نہیں جانتے۔ یاد رکھئے !عُرف اور انسان کی اپنی اختراع کی ہوئی باتیں اصطلاح نہیں کہلاتیں۔ ہر علم کے مخصوص ماہرین اصطلاحات کی تعریف طے کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم ولی فقیہ اور مرجعِ تقلید کی اصطلاحات پر بات کریں، اپنے سماج کی معلومات کی خاطر چند دیگر اصطلاحات کا ذکر بھی کئے دیتے ہیں۔ صاحبانِ دانش جانتے ہیں کہ یہ اصطلاحات ماضی میں دیگر معانی کیلئے بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔ چنانچہ یہ مضمون ماضی کی قیل و قال کے بجائے محض آج کے دور میں ان اصطلاحات کی درست تفہیم اور تطبیق پر مبنی ہے۔
ثقۃ الاسلام:۔
ماضی میں یہ اصطلاح انتہائی برجستہ اور محقق علما کیلئے استعمال ہوتی تھی۔ جیسے ثقۃ الاسلام کلینی۔ مقبولیت عام کی وجہ سے اس اصطلاح کو مقدمات سے لمعہ تک یعنی کسی دینی مدرسے میں چھ سال پڑھنے والے افراد کے لئے فنّی طور پر منتخب کیا گیا، تاہم ماضی میں اس کے خاص تقدس اور وزن کی وجہ سے آج کل اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔
حجت الاسلام:۔
یہ اصطلاح ان شیعہ علما و طلبا کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو رسائل، کفایة الاصول اور مکاسب تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین:۔
جب شیعہ علما اور طالب علم " رسائل، کفایة الاصول اور مکاسب "کے بعد اگلے مرحلے" درسِ خارج" میں داخل ہو جاتے ہیں تو اُن کیلئے یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ درسِ خارج کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ درس، کتاب یا متن محور ہونے کے بجائے نظریہ محوّر ہوتا ہے اور اس میں کتابیں پڑھنے کے بجائے نظریات کی جانچ پرکھ کیلئے جرح و تعدیل اور کانٹ چھانٹ کے بعد نظریہ پردازی کی جاتی ہے۔
آیت اللہ:۔
مجتہد :۔
اس کے علاوہ آپ نے اہلِ تشیع کے ہاں مجتہد کی اصطلاح بھی سُنی ہو گی۔مجتہد وہ عالم ہے جو برس ہا برس کی تعلیم اور ریاضت یعنی محنتِ شاقہ کے بعد ادلہ اربعہ ﴿ قرآن، سنت، عقل اور اجماع ﴾سے خدا کے حکم کو اخذ کرنے کی استعداد اور صلاحیّت حاصل کر لے۔
شیعہ مجتہدین کی اقسام:۔
مجتہدین کی دو قسمیں ہیں
:۱۔ ایک یا چند فقہی ابواب کا مجتہد
۲۔ تمام فقہی ابواب کا مجتہد
" وہ عالم جو فقہ کے کسی ایک یا بعض ابواب میں مجتہد ہو، اُسے مجتہد متجزی کہا جاتا ہے اور وہ عالم جو فقہ کے تمام ابواب میں مجتہد ہو، اسےمرجع تقلید اور آیت اللہ العظمی کہا جاتا ہے۔
مرجع تقلید اور آیت اللہ العظمی :۔
اہلِ تشیع کے ہاں مرجع تقلید ایسا مجتہد ہوتا ہے جو کئی سالوں کے درس و تدریس کے بعد اس مقام تک پہنچتا ہے کہ اپنے اجتہاد سے حاصل ہونے والے احکام کو عوام کیلئے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ اُن احکام پر عمل کر کے خدا کا قُرب حاصل کریں۔ سارے مجتہد اس مقام پر فائز نہیں ہوتے بلکہ ہر زمانے میں صرف چند انگشت شمارمجتہدین اس مقام تک پہنچتے ہیں۔
مجتہد اور مرجع تقلید میں فرق:۔
مجتہد،فقیہ یا آیت اللہ ہونے کیلئے کافی ہے کہ وہ ادلہ اربعہ ﴿قرآن، سنت، عقل اور اجماع ﴾سے خدا کے حکم کو اخذ کرنے کی صلاحیّت حاصل کر لے۔ جبکہ مرجع تقلید کیلئے یہ کافی نہیں۔ ایک مرجع تقلید کو مجتہد ،فقیہ یا آیت اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ مرد ، بالغ ، عاقل ،شیعه اثنا عشری، حلال زاده ، زنده ، عادل ، دنیا کا حریص نہ ہونا اور اعلم ہونے جیسی شرائط کا حامل ہونا بھی ضروری ہے۔ مختصرا یہ کہ ہر مرجع تقلید مجتہد ہوتا ہے لیکن ہر مجتہد مرجع تقلید نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اپنی ، اپنے اساتذہ اور اپنے والدین کی خصوصی محنت کے باعث کوئی بچہ آٹھ دس سال کی عمر میں مجتہد بننے کی صلاحیّت کر سکتا ہے اورایک مجتہد کے علمی مرتبے کو پا سکتا ہے لیکن وہ مرجع تقلید نہیں بن سکتا چونکہ مرجع تقلید کی ایک شرط عاقل اور بالغ ہونا ہے۔اسی طرح کوئی خاتون علمی مدارج طے کرنے کے بعد اجتہاد کے درجے پر فائز ہو سکتی ہے لیکن وہ مرجع تقلید نہیں بن سکتی چونکہ مرجع تقلید کی ایک شرط مرد ہونا ہے۔
ولی فقیہ:۔
مجتہد اور مرجع تقلید سے الگ ایک منصب کا نام ولی فقیہ ہے۔ ولی فقیہ کیلئے حکم خدا کو نافذ کرنے کی صلاحیّت ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس کے ماتحت ایک حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بغیر کوئی فقیہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس مجتہد اور مرجع تقلید کی شرائط جدا ہیں اور یہ شرائط تقلید و بابِ تقلید تک محدود ہیں جبکہ ولی فقیہ کی شرائط اسلامی معاشرے کی سرپرستی، مدیریت اور الہی قوانین کے نفاذکے باب سے تعلق رکھتی ہیں۔
ولی فقیہ اور مرجع تقلید کا فرق:۔
اسلامی معاشرے کو جس طرح مجتہد اور مرجع تقلید کی ضرورت ہے اسی طرح ولی فقیہ کی بھی اشد ضرورت ہے۔انسانی صلاحیتیں مختلف ہونے کی وجہ سے جیسے سب علما حجۃ الاسلام والمسلمین نہیں بنتے اور سب مجتہد مرجع تقلید نہیں ہوتے اسی طرح سب مراجع تقلید ، ولی فقیہ نہیں ہوتے۔ مجتہد اور مرجع تقلید کے پاس قوانین الہی کو اخذ کرنے کی صلاحیّت تو ہوتی ہے لیکن اُن کے پاس قُوّتِ نفاذ اور قوّت اجرا نہیں ہوتی۔ وہ فقط حُکمِ الہی کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اس پر عمل کریں لیکن وہ حکمِ الہی کے مطابق کسی کو سزا نہیں دے سکتے، کوڑے نہیں مار سکتے یا پابندِ سلاسل نہیں کر سکتے۔
مجتہدین اور مراجع کرام کا مسائل بیان کرنا معاشرے کیلئے ضروری ہے لیکن کافی نہیں۔ اس سے مجرمین اپنے کیفرِ کردار تک نہیں پہنچتے۔پس معاشرے کو ضرورت ہے ایسے فقیہ کی کہ جس کے پاس قوّتِ نفاذ ہو تاکہ وہ مطیع افراد کو رُشد، ایوارڈ اور انعام جبکہ مجرمین کا تعاقب کر کے اُنہیں سزا دے سکے، واضح رہے کہ قوّتِ نفاذ سے مراد یہ ہے کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور حکومت اس کے ماتحت ہو۔
ایک ولی فقیہ کا دائرہ کار ایک مرجع تقلید سے سو فیصد مختلف ہے۔ مقلد کسی بھی وقت ایک مرجع تقلید کی طرف سے دوسرے مرجع تقلید کی طرف رجوع کر سکتا ہے، اسی طرح ایک شہر یا ایک ملک میں ایک ہی وقت میں کئی مجتہد اور مراجع تقلید ہو سکتے ہیں اور وہ آپس میں اختلاف بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک حکومت، ایک پارلیمنٹ اور ایک عدلیہ کے بیک وقت کئی سربراہ ہوں، اس طرح کوئی بھی ملک اور معاشرہ نہیں چل سکتا۔ پس ایک ملک میں کئی مجتہد اور مراجع کرام پائے جا سکتے ہیں لیکن ولی فقیہ فقط ایک ہی ہوگا۔
ولی فقیہ ایک مرجع تقلید کی مانند فقط فتوی دینے تک محدود نہیں بلکہ ملکی اداروں کے نظم و نسق، اور ان کی مدیریت کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے وسیلے سے ملک میں بھرپور طریقے سے قوانینِ الہی کا اجرا کرنا اُس کی مسئولیّت ہے۔
ایک کُلّی فتوے کے ساتھ لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کرنا یہ مرجع تقلید کا کام ہے۔اس کے بعد لوگ مرجع تقلید کی ہدایت اور فتوے پر عمل کرتے ہیں یا نہیں یہ لوگوں پر منحصر ہے اس کی ذمہ داری مرجعِ تقلید پر نہیں ۔
ہم نے اپنے مطالعات کا خلاصہ انتہائی سلیس انداز میں اپنے قارئین کیلئے پیش کر دیا ہے۔ آگےچل کر یہ مباحث اُس وقت عملی طور پر ثمر آور ہو سکتی ہیں کہ جب حکم اور فتوے، ملزم اور مجرم، مجرم اور گنہگار، دین اور شریعت، اسلام اور الحاد ، ریاست اور معاشرے، قانون سازی اور ادلہ اربعہ سے کشفِ قانون، عام مقننہ اور مسلمان مقننہ کی شرعی حدود، عام جج اور مسلمان قاضی کے شرعی اختیارات ، جہادِ ابتدائی اور جہادِ دفاعی، اسلامی جمہوریت اور مسلمان بادشاہت، نیز تھیوکریسی اور ولایت فقیہ کے فرق کو عام فہم انداز میں بیان کیا جائے۔ اسی کا نام سیاسی شعور ہے اور اسی کی ہمارے وطنِ عزیز میں انتہائی کمی ہے۔
افکار و نظریات: google, print, voice, nation
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں