اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات صحابہ کرامؓ اور "سُقْرَاط" کیا اسلام میں بھی "سُقْرَاط" کی سزا موت ہے؟ نذر حافی قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے۔ البتہ ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ اللہ کی اس آخری کتاب پر ہم نے ہی عمل کرنا ہے یا کسی اور نے؟ کسی بھی کتاب کو سمجھنے اور ٹھونسنے کا عمل کبھی بھی ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ جس کتاب کے پیروکاروں میں سمجھنے کے بجائے ٹھونسے اور عمل کرنے کے بجائےرٹنے کا رواج ہو اور اس رواج کو ثواب بھی سمجھا جائے۔۔۔ کیا اُس کتاب کے پیروکار دیگر اقوام کے ساتھ شانہ بشانہ چل سکتے ہیں؟ ؟؟؟ وقتِ آخرسقراط نے جلاد سے زہر کا جام مانگا۔ جلادنے کہا ابھی سورج کی کرنیں سامنے والے ریت کے ٹیلے پر نہیں پڑیں۔ ابھی وہ کچھ دیر مزید جی سکتا ہے۔ اُس کی رائے تھی کہ پہلے جتنے بھی لوگوں کو سزا دی گئی وہ اس فرصت میں زیادہ سے زیادہ کھانے پینے اور لطف اٹھانے کی کوشش کرتے تھے، سوہ وہ بھی ایسا کرے۔ سقراط نے کہا کہ ایسا کرنے والوں کا خیال تھا کہ زندگی بس یہیں ختم ہو رہی ہے لہذا وہ یہی کچھ کرتے تھے لیکن میرے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے تین سو سال پہلے کی بات ہے۔ سقراط پر لوگوں کے بچوں کو گمراہ کرنے کا الزام تھا۔ سقراط کی وجہ سے اُس زمانے کی نئی نسل ، بابوں کی کہانیوں کے سحر سے نکلتی جا رہی تھی۔کہانیوں کے نشے میں بھی عجب طاقت ہوتی ہے۔ اگر کوئی قوم کہانیوں کی عادی ہو جائے تو اُسے بیدار کرنے کا انجام ہر دور میں سقراط جیسا ﴿قتل، جلسے جلوس، اورتحریر و تقریر پر پابندی﴾ہی نکلتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر قوانین عقل اور دانش کے مطابق ہوں تو جو شخص بھی ان قوانین پر عمل کرے گا وہ کامیابی اور فلاح و بہبود کو پائے گا لیکن اگر حکومت خود عقل اور دانش کے خلاف وجود میں آئی ہو، اور وہ خود عقل و دانش کے تقاضوں سے برسرِ پیکار ہو تو کیا ایسی حکومت کے قوانین کی اطاعت اور پیروی سے عوام کو کامیابی اور فلاح و بہبود نصیب ہو گی؟ زہر کا اُلٹا اثر ہوا، سقراط کے بعد سوال اٹھانے والوں کی تعداد کو آج شمار نہیں کیا جا سکتا۔طاقتوروں نے اپنے آپ کو نہیں بدلا لیکن سقراط کو مار دیا۔اس مارنے کے نتیجے میں سقراط آج تک زندہ ہے۔ اگرچہ قائداعظم کا مسلک کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن آپ مولانا صاحب کی دلیل تو دیکھئے۔ وہ دلیل میں کہتے ہیں کہ قائداعظم کا حنفی ہونا یہ ہمارے فلاں پیرومرشد اور اُستاد و قائد کا فرمان ہے۔ ایک خطیب صاحب نے برسرِ منبر یہ فرمایا کہ ہم تو اُس تاریخ کو مانتے ہیں جو فلاں کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو۔ کیا لوگوں کو ایسی ہاتھ بندھی سنانا، بتانا اور پڑھانا تاریخ سقراط کو زہر کا جام پلانے سے کم ہے؟ لوگوں کے دماغ، زبانیں، نظریں اور عقلیں بندکر کے اُن پر اپنی رائے ٹھونس دینے سے کیا معاشرہ اسلامی بن جائے گا؟ جب ہم نے سچائی کو ہی تلاش کرنا ہے تو پھر سچائی کے سامنے آنے سے ڈر کیسا!۔خصوصا جب آپ کسی کو اپنا قائد، رہبر، امام، رول ماڈل اور ہیرو قرار دینا چاہیے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ پہلے اُسے پرکھیں، جانچیں اور پھر اُس کے پیچھے چلیں۔ ایک رائے ناصبی ، تکفیری، کالعدم تنظیموں، کچھ اہلِ حدیث اور چند ایک دیوبندی حضرات کی ہے۔ اس رائے کے مطابق صحابہ کرام پر ایمان لانا واجب ہے اور جو ایمان نہ لائے، وہ کافر اور واجب القتل ہے۔ یہ ایک رائے ہے۔ اس کے مقابلے میں دو دیگر اکثریتی رائے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک اغلب رائے اکثر اہل سنت (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اہلِ حدیث) کی رائے ہے اور تیسری رائے شیعہ حضرات کی ہے۔ وہ اس بات کو فراخدلی سے تسلیم کرتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد بعض صحابہ کرام سے غلطیاں اور گناہ سرزد ہوئے ہیں۔ وہ تاریخی تجزیہ و تحلیل کے وقت، ادب و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ان غلطیوں کو غلط کہنے کو درست مانتے ہیں۔ اُن کے مطابق غلط کو غلط کہنا درست ہے، لیکن ادب کے ساتھ۔ اس گروہ میں مولانا مودودی، ڈاکٹر طاہرالقادری، مولانا اسحاق مرحوم، انجینئر مرزا محمد علی وغیرہ وغیرہ جیسی شخصیات کے نام سرِفہرست آتے ہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو




سقراط کا کہنا تھا کہ اخلاق، عدالت، وطن پرستی، اور قانون کی اطاعت یہ سب کہانیاں نہیں ہیں، انہیں عملاً معاشرے میں دکھاو۔
سقراط جوانوں سے پوچھتا تھا کہ اگر مجھے اپنے جوتے کی تعمیر کرانی ہو تو کس کے پاس لے جانا چاہیے؟جوان کہتے تھے کہ موچی کے پاس چونکہ یہ کام اُسی کا ہے۔
پھر سُقراط جوانوں سے پوچھتا تھا کہ اب بتاو کہ اگر میں نے حکومت کسی کے حوالے کرنی ہو تو کس کے حوالے کروں ؟
اس سوال کا جواب ریاست کے برسرِ اقتدار طبقے کی نیندیں حرام کرنے کیلئے کافی تھا۔ سقراط کو خاموش کرنے کیلئے سقراط کو زہر دیا گیا ۔
پاکستان میں تو نوجوان سقراطیوں نے قصّہ گو بابوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ایک مولانا صاحب نے ایک گفتگو کے دوران زِچ ہو کر یہ دعوی کر دیا کہ قائداعظم حنفی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ 

اب اگر ہمارے ہاں خودکُش، انسان کُش، کرپٹ اور بد دیانت جتھے پروان چڑھتے ہیں تو کیا اس کا ذمہ دار سوشل میڈیا ، کمپیوٹر، موبائل، ٹیکنالوجی، سائنس اور بسنت، اپریل فول یا ویلنٹائن ڈے کا تہوار ہے؟
کیا کسی منبر یا مدرسے سے سچائی اور حقیقت کے اعتراف کے بجائے تاریخ کے ساتھ میں نہ مانوں والا رویّہ اختیار کرنا، سوال پوچھنے والے کو گمراہ اور نقد کرنے، سوچنے و کریدنے والے کو واجب القتل، کافر اور ملحد قرار دے دینا ایک منطقی اور معقول تعلیم ہے؟
تاریخ پرستش کیلئے ہے یا تجزیہ و تحلیل کر کے استفادہ کرنے کیلئے؟
مسلمانوں کے درمیان اصحاب رسولﷺ کے بارے میں تین طرح کی آراء ہیں۔ ان تینوں آرا کو جاننا ، سمجھنا اور پرکھنا ہر مسلمان کا دینی و علمی حق ہے۔
اکثر اہلِ سنّت کی رائے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ پر ایمان لانے سے انسان مسلمان ہو جاتا ہے۔ ان کے ہاں مسلمان ہونے کیلئے صحابہ کرام پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے بلکہ خود صحابہ کرام کیلئے ضروری ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول ؐ پر ایمان لائیں۔
اسی طرح ان کا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام نے جتنی بھی بڑی خطا کی ہو، وہ قیامت کے دن سزا کے بعد بالآخر بخشے جائیں گے۔ وہ صحابہ کرام کی غلطیوں کو خطائے اجتہادی کا نام دے کر انہیں جائزالخطا قرار دیتے ہیں۔
ان کے بعد اہلِ تشیع کا نظریہ ہے۔ شیعہ حضرات کے مطابق جو شخص حیاتِ پیغمبرﷺ میں خدا اور اُس کے رسولؐ پر ایمان لایا اور تاحیات اُس ایمان پر قائم رہا، صرف وہی صحابی کہلانے کا حق دار ہے۔
ان کے مطابق جس نے ایمان لانے کے بعد رسولﷺکی اطاعت نہیں کی، تو وہ صحابی بھی نہیں رہا۔ یعنی اہلِ تشیع کے ہاں حکمِ رسولﷺ کے مقابلے میں خطائے اجتہادی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا چودہ سو سالہ اٹل عقیدہ ہے کہ فرمانِ رسول ؐسے سرتابی یا انحراف کو خطائے اجتہادی نہیں کہا جا سکتا۔ بات یہ نہیں کہ شیعہ اصحاب کو نہیں مانتے بلکہ بات یہ ہے کہ شیعہ قرآن اور رسولؐ کی نافرنانی کو نہیں مانتے۔
ورنہ حیاتِ پیغمبرﷺ میں کسی شخصیت نے ایمان لانے کے بعد اگر اپنے کسی عمل سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت نہیں کی تو اہلِ سُنّت کی طرح ہی بلکہ اہلِ سُنّت سے بڑھ کر شیعہ حضرات ایسے صحابہ کرام کے خاص مقام اور منفرد احترام کے قائل ہیں ہے۔
اہلِ سنت سے بڑھ کر اس لئے کہا ہے، چونکہ اگر دو صحابی آپس میں لڑیں تو اہلِ سُنت دونوں کو واجب الاحترام کہتے ہیں، لیکن شیعہ صرف اُسی کو محترم شمار کرتے ہیں، جو لڑائی کے دوران حق پر ہو۔ شیعہ اُسے نہ صرف حق پر شمار کرتے ہیں بلکہ اُسے ایک ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق اگر کسی بھی مسئلے میں دو صحابی لڑیں اور ایک صحابی ناحق دوسرے کو زخمی یا قتل کر دے تو شیعہ عقیدے کے مطابق پھر دونوں برابر، ایک جیسے اور قابلِ احترام نہیں رہیں گے بلکہ جو صحابی حق پر ہوگا، صرف اسی کی حمایت، مدد اور عزت کی جائے گی اور جس نے ناحق ہاتھ اٹھایا ہوگا، اُس نے حکمِ قرآن اور سنّتِ رسولﷺ سے انحراف کیا ہے، لہذا صحابی ہونے کی وجہ سے پہلے اُسے جو شرف حاصل تھا، وہ بعد میں قرآن اور سُنّت کی نافرمانی کی وجہ سے باقی نہیں رہا۔ شیعہ مسلک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کے بعد جو جیسا کرے گا، ویسا بھرے گا۔
اُن کے ہاں اعمال کے اعتبار سے ساری اُمّت برابر ہے۔ اس میں اہلِ بیتؑ، صحابہ کرامؓ، مجتہدین اور تابعین و تبع تابعین و مفسرین و محدثین و۔۔۔ کا کوئی فرق نہیں۔ شیعہ حضرات کے نزدیک کسی کے احترام کا معیار اور کسوٹی فقط اتباعِ قرآن و اطاعتِ رسولؐ ہے۔
مذکورہ تینوں آرا آج ہمارے ہاں موجود ہیں۔یہ آرا خود انسانی سوچ و بچار کا نتیجہ ہیں۔مفید طریقہ کار یہی ہے کہ ان آرا کو لوگوں پر ٹھونسنے کے بجائے اُنہیں سمجھنے دیا جائے۔ یہ تینوں آرا بھی کوئی پتھر پر لکیرکی نہیں ہیں۔ کوئی بھی شخص ان تینوں آرا یا ان میں سے کسی بھی ایک رائے کا کسی بھی وقت تاریخی، سیاسی، علمی، منطقی اور سماجی تجزیہ کر نے کا حق رکھتا ہے۔ جو شخص صحابہ کرام کو اپنے لئے ہیرو اور رول ماڈل مانتا ہے وہ مذکورہ آرا کا آزادانہ تجزیہ کرے گا تو تبھی جا کر اپنی عملی زندگی میں صحابہ کرام ؓکے نقوشِ قدم ڈھونڈے گا۔
سب کی بہتری اسی میں ہے کہ سب اس حقیقت کو سمجھیں کہ نئی نسل کا ہر بچہ اپنے وجود میں ایک سقراط ہے۔اپنے دور کے سقراط کو تاریخ اسلام کے تمام متنازعہ ابواب خصوصا صحابہ کرام کے بارے میں آزادانہ سوالات پوچھنے، غیرجانبدارانہ سوچنے اور تاریخِ اسلام کو اچھی طرح سمجھنے اور سمجھانے سے نہ روکا جائے ، ورنہ سقراط کے قتل کا نتیجہ الٹا ہی نکلتا ہے۔ سوال اٹھانے پر پابندی لگانے والوں سے عرض ہے کہ سوالات کے جوابات نہ ملنے یا آپ کے غلط جوابات کے باعث اگر کل کو نسلِ نو الحاد، کفر اور شرک کی طرف چل پڑے تو پھر یہ نہ کہنا کہ یہ سب سوشل میڈیا نے کیا تھا۔ آج آپ کا سقراط آپ کی چاردیواری میں آپ سے اسلام کے بارے میں جو سوالات کر رہا ہے، اسے سچ جاننے دیجئے۔ سچ چاہے خود آپ کو ناگوار ہی گزرے لیکن اپنی آغوش میں پلنے والے سقراط سے سچ جاننے کا حق نہ چھینئے۔
افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں