اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات قدرِ ایّاز کرنل محمد خان ایک تھا دیہاتی لڑکا جو اپنے گاؤں سے پرائمری پاس کرنے کے بعد ایک شہر کے ہائی اسکول میں جا داخل ہوا۔ اپنے گاؤں میں تو وہ چھوٹا موٹا چوہدری یا چوہدری کا بیٹا تھا لیکن تھا ٹھیٹھ دیہاتی۔ پہلے دن کلاس میں گیا، تو ننگے سر پر صافہ باندھ رکھا تھا۔ بدن پر کرتا اور تہمد اور پاؤں میں پوٹھوہاری جوتا۔ ماسٹر جی نے شلوار پہننے کو کہا تو دھیمی آواز میں بولا او خدایا شلوار تو لڑکیاں پہنتی ہیں۔ سلیم میری بات پوری طرح سمجھے بغیر ہنس دیے۔ بوڑھا علی بخش پوری طرح سمجھ کر مسکرایا۔ ہم نے کہانی جاری رکھی۔ ان دنوں پتلون پوش خال ہی نظر آتے تھے مثلاً سارے اسکول میں ایک سیکنڈ ماسٹر صاحب تھے جو سوٹ پہنتے تھے۔ لڑکے انہیں جنٹلمین کہا کرتے تھے۔ لاہور میں تعلیم پائی تھی۔ وہیں کے رہنے والے تھے۔ ہر فقرے میں دو تین لفظ انگریزی کے بولتے تھے اور لڑکے رشک سے مرنے لگتے تھے۔ ماسٹر جی نے کئی دفعہ مذاق میں کہا تو تھا کہ ہم ایک دن چھوٹے چوہدری کے مہمان بنیں گے۔ ماسٹر جی اسے چھوٹا چوہدری بھی مذاقاً ہی کہتے تھے۔ لیکن چوہدری کو توقع تھی کہ ماسٹر جی مذاق کو مذاق کی حد تک ہی رکھیں گے مگر آج وہ حد پھلانگ کر اس کے روبرو آ کھڑے ہوئے تو چھوٹے چوہدری کو میزبانی کے بغیر چارہ نہ تھا۔ یہ نہیں کہ چھوٹا چوہدری یا اسکے گھر والے مہمان نواز نہ تھے۔ انہیں صرف اس بات کا یقین نہیں تھا کہ انکی مہمان نوازی ماسٹر جی کو موافق بھی آئیگی یا نہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی تواضع کی ابتدا کی۔ چھوٹا چوہدری اور اسکا بڑا بھائی ماسٹر جی کو بصد تعظیم اپنی چوپال میں لے گئے۔ چوپال کے دو حصے تھے۔ ایک میں گھوڑی بندھی تھی۔ دوسرے کے عین مرکز میں آتشدان تھا جسکی آگ کے شعلے اور دھواں بیک وقت بلند ہو کر چوپال میں روشنی اور تاریکی پھیلا رہا تھا۔ آتشدان کے اردگرد خشک گھاس کا نرم اور گرم فرش تھا جسے مقامی بولی میں ستھر کہتے تھے۔ گاؤں کے بیس بائیس آدمی ستھر پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ ماسٹر جی داخل ہوئے تو سب کھڑے ہو گئے۔ ماسٹر جی کو ” آؤ جی خیر نال ” کہا۔ ہر ایک نے ان سے مصافحہ کیا۔ ہر ایک نے انکے بال بچوں کی خیریت پوچھی۔ ماسٹر جی نے چھوٹتے ہی ذرا شرما کر کہہ دیا کہ ابھی بال بچوں کی نوبت نہیں آئی لیکن ان نامولود برخورداروں کی خیریت بہرحال ہر ملاقاتی نے پوچھی کہ یہ انکی تواضع کی ترکیب تھی چونکہ ماسٹر جی نے پتلون پہن رکھی تھی لہذا فرش پر بٹھانے کی بجائے انکیلئے رنگیلی چارپائی بچھا دی۔ سلیم حیران ہو کر بولے، اباجان ان میں اتنی عقل نہیں تھی کہ انکو کرسی دے دیتے؟ سلیم طنز کو پا گیا اور بولا ” گول کمرہ تو ویسے نام پڑ گیا تھا۔ ہمارا اپنا گول کمرہ بھی تو چوکور ہے مگر بات یہ ہے کہ ڈرائنگ روم میں گھوڑے گدھے کا کیا کام؟ میں نے ہنس کر کہا۔ ” بیٹا، دیہاتی لوگ اتنے مہذب نہیں ہوتے کہ ڈرائنگ روم میں کتے لے آئیں۔ وہ گھوڑوں ہی سے گزارہ کر لیتے ہیں۔ علی بخش مسکرایا۔ سلیم کسی قدر چکرایا لیکن کہانی بہرحال اشتیاق سے سن رہا تھا۔ بولا پھر کیا ہوا۔ پھر گاؤں کا نائی ماسٹر جی کے پاؤں دابنے لگا۔ ایک نوکر دوڑ کر گیا کہ ماسٹر جی کے تازہ مکئی کے بھٹے بھنوا کر لائے۔ سلیم جھٹ بول اٹھے ” ابا جان مکئی کے بھٹے تو پکنک پر کھائے جاتے ہیں۔ گھر میں تو چائے پلائی جاتی ہے وہ لوگ اتنی بات بھی نہ جانتے تھے۔ میں نے کہا ” گھر میں پکنک منانے کی غلطی دیہاتیوں سے اکثر ہو جاتی ہے۔ بہرحال ماسٹر جی نے خود انکی اصلاح کر دی اور بھٹے کا نام سن کر کہنے لگی۔ یہ تکلف نہ کریں۔ ہو سکے تو ایک پیالی چائے پلا دیں۔ ذرا سردی بھی ہے۔ سلیم نے فوری تائید کی ۔ بات بھی ٹھیک تھی۔ وقت جو چائے کا تھا۔ میں نے کہا۔ بات ٹھیک تھی بشرطیکہ انکے گھر میں چائے بھی ہوتی۔ اس مقام پر سلیم میاں تیزی سے سوال کرنے لگے اور ہماری کہانی نے مکالمے کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ فوراً بولے۔ ” تو کیا انکے گھر میں چائے ختم ہو گئی تھی؟ نہیں بیٹا! کبھی شروع نہیں ہوئی تھی اور دنوں چائے ابھی دیہات میں نہیں پہنچی تھی۔ یہی نا کہ چائے کیساتھ کھانے کو کیا دیا جائے؟ وہاں تو لے دے کے مکئی کے بھٹے ہی تھے۔ ” نہیں بیٹے یہ بات نہ تھی۔ سوال ذرا بنیادی نوعیت کا تھا اور وہ یہ کہ چائے بنائی کیسے جائے؟ سلیم نیم وحشت کے عالم میں میرا منہ تکنے لگا اور بولا۔ ” ابا جان چائے تو ہمارا جمعدار بھی بنا سکتا ہے اور دن بھر پیتا رہتا ہے ۔ کیا وہ اتنے ہی اناڑی تھے؟ میں نے کہا۔ بھئی وہاں چائے پینے پلانے کا ہنر پہنچا ہی نہ تھا۔ وہاں لسی کا رواج تھا اور اس ہنر میں وہ یکتا تھے۔ تو چوہدری شرم سے غرق نہ ہو گیا؟ پھر؟ پھر ماسٹر جی کیلئے بستر لگا دیا گیا۔ چوہدری نے انکے لیے اکلوتی ریشمی رضائی نکلوائی اور سفید جھالر والا تکیہ بھی جسکے غلاف پر بارہ سنگے کی تصویر کڑھی ہوئی تھی۔ بیشک تکیے میں لچک کی نسبت اکڑ زیادہ تھی اور ماسٹر جی کو اسے سر کے نیچے فٹ کرنے میں کچھ دقت بھی پیش آئی لیکن آرام سے سو گئے۔ صرف ایک مرتبہ آدھی رات کے قریب گھوڑی کے کھانسنے سے ذرا انگریزی میں بڑبڑا کر جاگ اٹھے لیکن برابر ہی چوہدری اور اسکا نوکر سو رہے تھے۔ انہوں نے گھوڑی کو چارہ اور ماسٹر جی دلاسا دیا اور پھر صبح تک کوئی قابل ذکر واقعہ نہ ہوا۔ ابا جان صبح ہوتے ہی ماسٹر جی تو بھاگ نکلے ہونگے؟ مسجد میں؟ سلیم نے حیرت سے کہا، خانہ خدا کو غسل خانہ بنا دیا؟ بھئی گاؤں میں اکثر لوگ مسجد کے غسل خانوں ہی میں نہاتے ہیں اور بظاہر اللہ تعالیٰ کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ دیہاتی گھروں میں ہر کام کیلئے علیحدہ خانے کم ہی ہوتے ہیں۔ انگریزی کی کہاوت ہے کہ لاعلمی بھی نعمت ہے۔ میٹرک کا امتحان دینے کیلئے سلیم میاں نے یہ کہاوتیں تازہ تازہ یاد کی تھیں۔ ہم نے اثبات میں سرہلایا اور کہا۔ کہاوت تو تمہاری ٹھیک ہی کہتی ہے۔ مگر ابا جان بیچارے ماسٹر جی کیا بنا؟ بنا یہ کہ ماسٹر جی نے غسل کیبعد ناشتہ کیا اور پھر رخصت ہو گئے۔ ناشتہ؟ چوہدری کے گھر کا رن فلیک تھے؟ کارن فلیک تو نہ تھے البتہ جو کچھ دال دلیا تھا۔ غریب نے حاضر کر دیا۔ ابا جان اسکے بعد چھوٹا چوہدری سکول میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ہو گا؟ نہیں بیٹا اسکول تو وہ اسی منہ کیساتھ گیا اور شہری لڑکوں نے اس سے کچھ مذاق بھی کیا مگر ہو مگن رہا۔ چوہدری کی جگہ میں ہوتا تو شرم سے مرجاتا۔ مگر چوہدری تو جیتا رہا بلکہ خاموشی سے پڑھتا بھی رہا اور آخر کار میٹرک پاس کر کے لاہور کالج میں چلا گیا۔ وہ کالج میں بھی گیا؟ کیا انکے پاس اتنے پیسے تھے؟ پیسے تو کم ہی تھے مگر انہوں نے تھوڑی سی زمین بیچی۔ ابا جان بلائیے نا چھوٹے چوہدری کو۔ ہم بالکل نہیں ہنسیں گے۔ سلیم اور علی بخش دونوں کی آنکھیں پرنم تھیں اور دونوں کی آنکھوں میں ایک دیہاتی کیلئے محبت کی چمک تھی۔ ایاز اپنے اصل لباس میں بھی ایسا معیوب نظر نہ آتا تھا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
سلیم میاں یہ سن کر کھلکھلا اٹھے اور بولے۔
سچ مچ پکا پینڈو تھا۔ مگر اباجان وہ پتلون نہیں پہنتا تھا؟
میں نے کہا بیٹا یہ آج سے چالیس برس پہلے کی بات ہے۔ ان دونوں اگر ماسٹر خود بھی پتلون پہن لیتے تو شہر کے کتے انہیں ولایت پہنچا آتے۔
آدمی خوش مزاج تھے۔ ہاکی کے کھلاڑی تھے اور شکار کے شوقین۔ ایک دفعہ دسمبر میں شکار کرتے کرتے اسی دیہاتی لڑکے کے گاؤں جا نکلے۔ رات ہو رہی تھی۔ آپ نے اسی کے ہاں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا اور انکے دروازے پر جا دستک دی۔ لڑکے نے اچانک ماسٹر جی کو گھر کے دروازے پر دیکھا تو ایک لمحے کیلئے چکرا سا گیا۔
میں نے کہا، بیٹا عقل تو تھی، کرسی نہ تھی۔
سلیم نے فیصلہ کن انداز میں کہا” اگر کرسی نہ تھی تو چوہدری کس بات کے تھے؟
میں نے کہا ” ایک تو وہ چوہدری ذرا چھوٹی قسم کے تھے، دوسرے گاؤں میں چوہدری پن کی نمائش کرسیوں سے نہیں کی جاتی۔ ” سلیم دیہاتیوں کی کوئی غلطی یا کمزوری پکڑنے پر تلا ہوا تھا۔ بولا ” مگر کوئی گول کمرے میں بھی گھوڑی باندھتا ہے؟ ”میں نے سلیم کو سمجھایا ” اگر گھوڑی کیلئے کوئی علیحدہ مستطیل کمرہ نہ ہو تو پھر وہ گول کمرے ہی میں رہتی ہے۔ علاوہ ازیں گاؤں کے کمرے اتنے گول بھی نہیں ہوتے۔
تو کیا انہوں نے مہمان سے صاف کہہ دیا کہ ہمارے پاس چائے نہیں ہے؟ کتنی شرم کی بات ہے۔
میں نے کہا بھئی میرے خیال میں پہلے تو گھر میں چائے کا نہ ہونا شرم کی بات نہیں۔ دوسرے انہوں نے مہمان کی خاطر چائے کیلئے دوڑ دھوپ شروع کر دی اور آخر مقامی حکیم کے گھر سے چائے مل بھی گئی۔ ان دنوں چائے صرف مریضوں کو پلائی جاتی تھی۔ سلیم نے لمبا سانس لیا اور بولا” چلو شکر ہے چائے تو ملی” میں نے کہا۔ ہاں چائے تو مل گئی لیکن پھر ایک عجیب سوال پیدا ہو گیا۔
تو کیا ماسٹر جی کو آخر لسی پلا دی؟
نہیں پلائی تو چائے ہی تھی لیکن وہ لسی کامیاب چائے نہ تھی۔
یعنی چائے کی لسی بنا دی؟
ہاں بیٹا کچھ ایسا ہی ذائقہ ہو گا۔ چھوٹے چوہدری کا کہنا ہے کہ ماسٹر جی نے ایک گھونٹ پیا اور پیالی رکھ دی۔
نہیں ایسا حادثہ تو نہ ہوا البتہ چوہدری کو اس بات کا رنج بہت ہوا کہ ماسٹر جی کر فرمائش پوری نہ کی جاسکی۔ بہرحال انہوں نے کچھ تلافی رات کے کھانے پر مرغ کے سالن سے کر دی۔
سلیم نے کسی قدر شرارتاً کہا۔ اباجان سالن کھانے کیبعد ماسٹر جی کی صحت پر کوئی فوری اثر تو نہ پڑا؟
میں نے کہا ہاں بڑا صحت افزاء اثر پڑا۔ ماسٹر جی نے پیٹ بھر کر کھایا اور انکے چہرے پر رونق آ گئی۔
نہیں تو۔ وہ اطمینان سے جاگے، پہلے ہرے بھرے کھیتوں کی سیر کرائی گئی۔ پھر انہوں نے غسل کیا۔
غسل بھی بیٹھک ہی میں کیا ہو گا؟
نہیں بیٹا، بیٹھک میں نہیں، مسجد میں ۔
سلیم کان پر ہاتھ رکھ کر بولے۔ خدا اس دیہاتی زندگی سے بچائے۔ اباجان اچھا ہوا آپ فوج میں آ گئے ورنہ ہم بھی چھوٹے چوہدری کیطرح مویشیوں کیساتھ سو رہے ہوتے اور مسجد میں جا کر نہاتے لیکن چھوٹا چوہدری اس زندگی سے بھی ناخوش نہ تھا۔ اباجان اس نے کبھی کوئی بنگلہ اندر سے دیکھا تھا؟ میرا خیال ہے نہیں۔ تو پھر وہ ناخوش کس بات سے ہوتا۔
مگر تھوڑی سی زمین سے کیا بنتا ہے؟ کالج میں رہ کر کھانا ہوتا ہے۔ کچھ پہننا ہوتا ہے۔ کیا وہ مکئی کے بھٹے کھاتا تھا؟ کیا وہ مکئی کے بھٹے کھاتا تھا؟ کیا وہ تہمد باندھتا تھا؟
بس گزارہ کر لیتا تھا۔ گزارہ ہی کرتا رہا یا کچھ پڑھ بھی گیا؟
ہاں کچھ پڑھ بھی گیا۔ پھر؟
پھر جیسا ان لوگوں کا دستور تھا فوج میں بھرتی ہو گیا۔
پھر تو آپ اسے جانتے ہونگے۔ کیا وہ آپکے ماتحت کام کرتا ہے۔
ماتحت تو نہیں مگر جانتا ضرور ہوں۔ تو اباجان اس کو بلائیے نا کبھی۔ ہم چھوٹے چوہدری کو دیکھیں گے۔
دیکھیں گے؟ وہ کوئی تماشا تو نہیں۔ سلیم میاں
سچ؟
بالکل سچ۔
تو پھر آؤ چھوٹے چوہدری سے مل لو۔ اور یہ کہہ کر میں نے سلیم کیطرف بازو پھیلا دیے۔ سلیم ایک لمحے کیلئے مبہوت کھڑا مجھے دیکھتا رہا پھر یہ کہہ کر مجھ سے لپٹ گیا۔
ابا جان آپ؟
افکار و نظریات: google, print, voice, nation
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں