اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات سسرالی رشتے دار شوکت تھانوی مصیبت یہ ہے کہ ریڈیو سیٹ سسرال میں بھی ہے اور وہاں کی ہر دیوار گوش دارد، مگر بزرگوں کا یہ مقولہ اس وقت رہ رہ کر اکسا رہا ہے کہ بیٹا پھانسی کے تختہ پر بھی سچ بولنا، خواہ وہ پھانسی زندگی بھر کی کیوں نہ ہو، موضوع جس قدر نازک ہے اسی قدر اخلاقی جرأت چاہتا ہے۔ اور اس اخلاقی جرأت کا نتیجہ بھی معلوم، کہ سسرال کی آنکھوں کا تارا، خوش دامن صاحبہ کا راج دلارا اس تقریر کے بعد پھر شاید ہی سسرال میں منہ دکھانے کے قابل رہ جائے۔ ہر چند کہ حفظ ماتقدم کے طور پر آج سسرال والوں کو سنیما کے پاس لاکر بھی دے دیے ہیں۔ اور ریڈیو سیٹ کا ایک بلب بھی احتیاطاً جیب میں ڈال لائے۔ مگر یہ سب کچھ سسرال کے ایک گھر میں ہوا ہے اور گھر ٹھہرے وہاں درجنوں ظاہر ہے کہ کوئی نہ کوئی تو یہ تقریر سن ہی لے گا۔ اور پھر سسرال ٹرانسمیٹر سے نمک مرچ لگا کر یہ تقریر نشر ہوگی، بیوی کا منہ پھول جائے گا۔ ان کی والدہ کی سرد آہیں محلہ بھر کو فریجیڈیر بناکر رکھ دیں گی، ان کی خالہ گردن ہلا ہلاکر اور آنکھیں مٹکا مٹکاکر فرمائیں گی کہ میں نہ کہتی تھی کہ داماد آستین کا سانپ ہوتا ہے۔ آخر کب تک نہ پھنکارتا۔ سارا کیا دھرا ملیا میٹ کرکے رکھ دیا کہ نہیں۔ مگر اب تو جو کچھ ہو سچ بولنا ہی پڑے گا۔ ان لوگوں کا وہاں ذکر نہیں جو سسرال میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ بلکہ مخاطب وہ ہیں جن کو ابھی واصل بہ سسرال ہونا ہے کہ، اے تازہ دار دانِ بساطِ ہوائے دل زنہار اگر تمہیں ہوسِ عقد و قد ہے دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو مجھ سے وصول کرلو نصیحت جو عقد ہے میں ایک داماد ہوں اور میں نے جلدبازی سے کام لے کر شادی کے معاملے میں صرف بیوی کے سلسلے میں تو ضروری تحقیقات کرلی تھی کہ کیا عمر ہے صحت کیسی ہے، صورت و شکل کا کیا عالم ہے، تعلیمی استعداد کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر اب سرپر ہاتھ رکھ کر رونا پڑتا ہے کہ یہ کیوں پوچھا تھا کہ ان میں کتنی خالائیں۔ کتنی نانیاں۔ دادیاں۔ چچیاں۔ تائیاں۔ بہنیں۔ اور بھاوجیں ہیں۔ اور کتنے اسی قسم کے مرد رشتہ دار ہیں، اور ان رشتہ داروں کے کتنے ایسے رشتہ دار ہیں جن کو جبراً اپنا رشتہ دار سمجھنا پڑے گا۔ اور کتنے ایسے عزیز ہیں جن کو اخلاقاً عزیز ماننا پڑے گا۔ پھر ان کے بعد ان عزیزوں کی باری آتی ہے جن کو انتظاماً عزیز کہا جاتا ہے۔ پھر انتقاماً عزیز بن جانے والوں کی باری آتی ہے۔ اور آخر میں جغرافیائی رشتہ دار آتے ہیں، مثلاً خالہ، ہمسائی، اور چچا پڑوسی وغیرہ، اس کی تحقیقات نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب۔ دل غریب ادھر ہے ادھر زمانہ ہے ایک سے ایک سسرالی رشتہ دار روز دیکھ لیجیے جو محبت چھڑکنے دھرا ہوا ہے۔ غریب خانے پر دفتر سے تھکے ہارے بھوکے پیاسے دماغ کا عرق نکلوائے ہوئے سکون کی تلاش میں گھر پہنچے ہیں، کہ دیکھتے کیا ہیں، میٹھے پانی کی بوتلیں بھقابھق کھل رہی ہیں، مرغ ذبح ہو رہا ہے، خانساماں باورچی خانہ میں پتیلیوں سے ورزش کر رہا ہے۔ اور اندر سے ایسے قہقہوں کی آوازیں آرہی ہیں گویا کوئی بے چارہ آسیبی خلل میں مبتلا ہے۔ کسی ملازم سے پوچھا کہ یہ گھر کس کے نام الاٹ ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ بیگم صاحبہ کے کوئی پھوپھا معہ اہل و عیال تشریف لائے ہیں۔ جل تو جلال تو۔۔۔ صاحب کمال تو، آئی بلا کو ٹال تو۔ کا وظیفہ پڑھتے ہوئے جو گھر میں داخل ہوئے تو بیگم صاحبہ خوشی سے بدحواس دوڑی ہوئی تشریف لائیں۔ ارے آپ کو خبر بھی ہے کون آیا ہے۔ پھوپھا میاں۔ پھوپھی۔ نجو۔ جگنو۔ چھمی۔ لاڈو۔ رانی۔ آئیے نا آپ نے تو دیکھا بھی نہ ہوگا ان سب کو۔ بڑا انتظار کر رہے ہیں سب آپ کا۔ عرض کیا۔ کچھ بتائیے تو سہی یہ کون پھوپھا تصنیف کرلیے آج وہ جو پرسوں آئے تھے۔ وہ بھی تو پھوپھا تھے۔ احمق سمجھ کر مسکرائیں۔ ارے وہ تو ذرا دور کے پھوپھا تھے۔ یہ ان سے ذرا قریب کے پھوپھا ہیں۔ ابا جان کی رشتہ میں خالہ زاد بہن کی سگی نند ہیں۔ یہ تو ہماری شادی میں نہ آسکی تھیں۔ پھوپھا میاں بیچارے پر ایک جھوٹا مقدمہ چل گیا تھا ان دنوں، مطلب یہ ہے کہ اب آئے ہیں یہ لوگ، بڑی محبت کے لوگ ہیں آپ بہت خوش ہوں گے۔ چلیے میں چائے لگواتی ہوں سب کے ساتھ آپ بھی پی لیجیے۔ اب جو ہم ذرا ان کے قریب پھوپھا کے پاس پہنچے تو جی چاہا کہ ان سے مزاج پوچھنے کے بجائے گھی کا بھاؤ پوچھ لیں۔ چڑھی ہوئی داڑھی۔ بڑا سا پگڑ۔ خوفناک آنکھیں، پہاڑ کا پہاڑ انسان۔ ہماری شادی کے زمانے میں اس شخص پر جھوٹا نہیں بلکہ ڈکیتی کا سچا مقدمہ چل رہا ہوگا۔ آنکھیں چار ہوتے ہی ڈر کے مارے عرض کیا۔ السلام علیکم۔ وہ حضرت ایک دم سے وعلیکم السلام کا بم رسید کرکے حملہ آور ہوگئے اور اس زور سے مصافحہ فرمایا ہے کہ بھتیجی کا سہاگ ٹمٹما کر رہ گیا۔ ابھی ان حضرت سے زور کر ہی رہے تھے کہ ان کی اہلیہ محترمہ بلائیں لینے کو جو آگے بڑھی ہیں تو بیساختہ کلمہ شہادت زبان پر آگیا کہ اس سے بڑی سعادت اور کیا ہے کہ مرنے سے پہلے کلمہ پڑھ سکے آدمی۔ مگر یہ محترمہ یعنی۔ یکے از خوشدامن دعائیں دیتی ہوئی ہٹ گئیں۔ اب جو نظر پڑتی ہے تو ان کے ایک صاحبزادے ہمارا ٹینس کا بلاّ لئے ایک سڈول قسم کے پتھر سے کھیل رہے ہیں اور ہم پر وہ وقت پڑا ہے کہ ہم ان سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہ بلا ہے جس سے ہم کو لان ٹینس چیمپئن شپ کے میچ کھیلنا ہیں۔ ٹینس کے اس بلے پر فاتحہ بھی پڑھنے نہ پائے تھے کہ ایک نہایت گھناؤنی سی صاحبزادی ایک اس ہاتھ میں اور ایک اس ہاتھ میں دو پیپرویٹ لیے ہوئے نظر آئیں جو ظاہر ہے کہ لکھنے کی میز سے اٹھائے گئے ہوں گے۔ لپک کر لکھنے کی میز کی جو دیکھتے ہیں۔ تو وہاں روشنائی کا سیلاب آچکا ہے۔ اور اکثر ضروری کاغذات روشنائی میں ڈوب کر خشک بھی ہوچکے تھے۔ ابھی رونے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ ڈریسنگ ٹیبل پر زلزلہ سا آگیا۔ چھوٹی بڑی شیشیاں آپس میں ٹکرانے لگیں اور ایک آدھ گر بھی گئی۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک برخوردار اس کے نیچے سے برآمد ہورہے ہیں۔ جی چاہا کہ سرپیٹ لیں، مگر بیگم نے باہر ہی سے آوازدی کہ چائے لگ گئی ہے۔ لہٰذا خون کے گھونٹ پیتے ہوئے چائے کی اس میز پر آگئے جو مہاجرین کا کیمپ بنی ہوئی تھی۔ پھو صاحب چائے کی پیالی سے طشتری میں چائے انڈیل انڈیل کر شٹرب شٹرب کی آوازوں کے ساتھ چائے نوش فرمارہے تھے۔ ان کی اہلیہ محترمہ کیلا کھا چکنے کے بعد ایک ایک کیلا اپنی اولاد کو تقسیم فرمارہی تھیں۔ اور اولاد خشک میوے سے اپنی جیبیں بھر رہی تھی۔ ایک صاحبزادے نے اپنی بہن سے بادام چھیننے کی کوشش میں جو ہاتھ مارا ہے تو نئے سیٹ کی کیتلی ایک زمزمے کے ساتھ فرش پر گرکر چکنا چور ہوگئی تو ہم نے اپنے کو غشی سے بچاتے ہوئے عرض کیا کوئی مضائقہ نہیں۔ حالانکہ یہ سوفیصدی مضائقہ ہی مضائقہ تھا۔ پھوپھا صاحب نے اِدھر سے اور پھر پھوپی صاحبہ نے ادھر سے صاحبزادے کو دو ہاتھ رسید کرکے رہی سہی فضا کو اور بھی نغموں سے لبریز کردیا۔ اور اب جو ان برخودار نے رونا شروع کیا ہے تو خودکشی کو جی چاہنے لگا۔ خدا خدا کرکے یہ طوفان تھما تو پھوپھا صاحب نے تقریب تشریف آوری کچھ اس فصاحت سے بیان فرمایا ہے کہ ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ معلوم ہوا کہ مقدمہ چل جانے کی وجہ سے ملازمت جاتی رہی ہے۔ لہٰذا آپ ملازم ہونے تشریف لائے ہیں۔ اور جب تک خاکسار ان کے لیے ملازمت کا انتظام نہیں کرتا وہ ٹلنے والے نہیں ہیں۔ عمر پنشن لینے کے لگ بھگ، تعلیم ایسی کہ خواندہ کانسٹیبل بھرتی ہوکر ہیڈ کانسٹیبل کے عہدہ جلیلہ تک ترقی فرمائی تھی کہ اب یہ پکڑی جانے والی رشوت پکڑلی گئی اور، دھرے گئے دلِ خانہ خراب کے بدلے وہ تو کہیے خوش نصیب تھے کہ قالین بانی سیکھنے جیل نہیں بھیجا گیا۔ صرف ملازمت ہی گئی۔ خیر یہ تو جو کچھ ہوا، وہ ہوا، سوال تو یہ تھا کہ آخر ہم اپنی کس جیب سے ملازمت نکال کر ان کے حوالے کرتے۔ کہ اے ہماری بیوی کے محترم پھوپھا یہ لے ملازمت۔ ہم کو خاموش دیکھ کر بولے۔ ’’برخوردار اس خاموشی سے کام نہ چلے گا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم کس قدر اثر اور رسوخ کے آدمی ہو۔ ذراسا اشارہ کردوگے تو اچھی سے اچھی ملازمتیں میرے لیے خود ہاتھ پھیلائیں گی۔ صاحبزادے حکام رسی بڑی چیز ہوتی ہے اور میں تو اس کو اپنے خاندان کے لیے نعمت غیر مترقیہ سمجھتا ہوں کہ تمہارا ایسا بارسوخ برخوردار ہمارے خاندان میں شامل ہوگیا ہے۔ تو میاں مطلب یہ ہے کہ میرے گھر کا خرچ ڈھائی سو روپیہ ماہوار سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ ملازمت ایسی ملے کہ بالائی آمدنی کی لعنت میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔‘‘ بیگم صاحبہ نے بڑی شگفتگی سے فرمایا۔ ’’پھوپھا میاں بس اب اطمینان رکھیے۔ آپ نے ان سے کہہ دیا ہے۔ بس اب یہ سمجھ لیجیے کہ نوکری مل گئی۔ ان کی کوشش ٹل نہیں سکتی۔ اور ہم کو گھور کر چپ رہنے کا اشارہ کردیا۔ لہٰذا ہم کو کہنا ہی پڑا کہ انشاء اللہ کچھ نہ کچھ ہو ہی جائے گا۔‘‘ چائے کے بعد ہم نے اپنے کمرے میں آکر بیوی صاحبہ کو بلاکر سچ مچ رو دینے کے انداز سے کہا۔ ’’خدا کے لیے یہ تو بتاؤ کہ تم نے آخر میرا کیا انجام تجویز کر رکھا ہے۔ یہ تمام نقصانات یہ ابتری گھر کی۔ یہ ستیاناسی میرے کمرے کی۔ میرے قیمتی ریکٹ کی یہ بربادی وغیرہ تو ایک طرف میں ان سب نقصانات کو اپنی جان کا صدقہ سمجھ لیتا۔ مگر مجھ سے آخر ایسے وعدے کیوں کرادیتی ہو۔ جو میرے امکان ہی میں نہ ہوں۔ بھلا غور تو کرو میں ان حضرت کو ڈھائی سو روپیہ ماہوار کی ملازمت کیسے دلواسکتا ہوں۔‘‘ سرگوشی کے انداز میں بولیں آپ سچ مچ عقل کے دشمن ہیں۔ میں نے تو اپنے میکے میں آپ کا نام اونچا کرنے کے لیے مشہور کر رکھا ہے کہ آپ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ بڑے بڑے افسر آپ کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ آپ کو نہیں معلوم اس طرح عزت بڑھتی ہے آدمی کی۔ ایک آدھ دن کے بعد خوبصورتی سے ٹال دوں گی۔ عرض کیا، کاش یہ خوبصورتی آپ اب نہ آزمائیں تاکہ میرا قیمتی ریکٹ بچ جاتا۔ اتنے حسین چائے کے سٹ کی کیتلی نہ ٹولتی۔‘‘ پھر رازداری سے بولیں ’’ارے آپ کو نہیں معلوم ہے۔ یہ پھوپھا بڑے ڈھنڈورجی ہیں۔ اگر یہاں سے ہم لوگوں کے حسنِ سلوک کے قائل ہوکر گئے تو سارے خاندان میں آپ کی تعریفیں کرتے پھریں گے۔ آج ان سب کو سنیما ضرور دکھادیجیے۔ کسی کا موٹر چپکے سے منگوالیجیے گا۔ میں نے کہہ رکھا ہے کہ موٹر کارخانے گیا ہوا ہے۔‘‘ لیجیے یک نہ شد دو شد آپ نے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے۔ کہ گھر کا موٹر بھی ہے۔ اب بتائیے کہ اس میں بیچارے سسرال والوں کا کیا قصور وہ تو اسی قسم کی موٹی تازی توقعات لے کر آتے ہی رہیں گے۔ اور بیگم صاحبہ کی یہ شیخی دیوالہ نکلواتی رہے گی۔ اسی طرح بات یہ ہے کہ اس بات کاصحیح انداز تو مردم شماری کے کاغذات دیکھ کر ہوسکتا ہے کہ بیگم صاحبہ کی معرفت ہمارے سسرالی عزیزوں کے صحیح اعداد شمار کیا ہیں۔ مگر فی الحال تو یہ ہو رہا ہے کہ دفتر میں بیٹھے کہ چلمن اٹھائی اور کوئی نہ کوئی اجنبی بزرگ موجود۔ برخوردار تم مجھ کو نہیں جانتے مگر تم دراصل میری آنکھوں کے نور اور دل کے سرور ہو اور میں رشتہ میں تمہارا خسر ہوتا ہوں۔ وہ بچی جو تم سے منسوب ہے میری گودوں کی کھلائی ہوئی ہے اور بچپن ہی سے اس کی پیشانی پر وہ ستارا چمکتا ہوادیکھ رہا تھا جس کو نیراقبال کہتے ہیں۔ تو عزیز من دیکھنے کو بے حد جی چاہتا تھا۔ دوسرا کام یہ تھا کہ میرے بچے یعنی تمہارے برادرِ نسبتی کا چالان ہوگیا ہے۔ بلوے کے سلسلے میں غالباً صاحبزادے نے کسی کا سر پھوڑ دیا ہے۔ بہرحال تم میرا اتنا کام کردو کہ اس چالان کے قصے سےنجات دلوادو۔ کسی طرح اب وہ کام ہوسکتا ہو یا نہ ہوسکتا ہو مگر اس حماقت کی پاداش میں کرنا ہی پڑے گا کہ ان کے خاندان میں شادی کر بیٹھے ہیں۔ دفتر سے گھر پہنچے ہیں تو کوئی اور ہی رشتہ دار موجود ہے اپنی کسی ایسی ہی غرض کو لیے ہوئے۔ اور اگر کچھ نہ بھی سہی تو آج اس سسرالی عزیز کے کسی عزیز کی شادی ہے اور دلہن کے لیے تحفہ کی ضرورت ہے۔ آج اس سسرالی عزیز کے بندہ زادے کا عقیقہ ہے اس میں شرکت کی ضرورت ہے اور شرکت ٹیکس کی بھی۔ بیگم صاحبہ واقع ہوئی ہیں ایسی مرنجان مرنج کہ میکوں والوں سے تعلقات بھی زیادہ سے زیادہ استوار رکھنا چاہتی ہیں اور شوہر کو بھی کچھ ایسا رائی کا سا پہاڑ بناکر اپنے میکے بھر میں مشہور کر رکھا ہے کہ ان کی تصنیف کی ہوئی پوزیشن کو سنبھالنا ایک مستقل عذاب بن کر رہ گیا ہے۔ یہ حال ہے کہ کسی پر مقدمہ چل جائے وہ دوڑا آجائے گا اس خاکسار کے پاس۔ کسی کو کوئی سفارش پہنچوانا ہوگی منہ اٹھائے چلے آئیں گے غریب خانے پر۔ کسی سے کوئی جرم سرزد ہوگا، پناہ لی جائے گی اس خاکسار کی آڑ میں۔ بیوی نے اس خاکسار شوہر کو تبرک بناکر اپنے میکے میں بانٹ دینے کی ٹھان لی ہے۔ اور خوش ہیں کہ ماں کا سکہ جم رہا ہے۔ میرے عزیزوں میں۔ میاں ایسے حواس باختہ ہوچکے ہیں کہ ان سسرالی نوازشات کا اب سلسلہ بند ہوتا ہی نہیں۔ کوئی لاکھ محبت چھڑکتا، خلوص برساتا، مامتائیں لٹاتا ہوا آئے مگر یہ سنتے ہی خون خشک ہوجاتا ہے کہ یہ کوئی سسرالی عزیز ہے۔ وہ بے چارہ داماد پرسی کااحسان کرتا ہے اور داماد ایسے سسرال سے بیزار ہوتے جارہے ہیں۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ، مجھ پہ احسان جو کرتے تو احسان ہوتا
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
افکار و نظریات: google, print, voice, nation
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں