پی ٹی آئی بغیر بلّے کے

ایم اے راجپوت

اپریل 2022 میں جب بیرونی مداخلت کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ہٹائی گئی اس وقت سے تحریک انصاف نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی تھی۔اپنے مطالبے پر زور دینے کیلئے اس جماعت نے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے بھی دئیے لیکن شکست کے خوف سے پی ڈی ایم حکومت نے انتخابات کی طرف جانا قبول نہ کیا حالانکہ جب پی ٹی آئی استعفے دینے کی دھمکی دیتی تھی اس وقت پی ڈی ایم حکومت کہتی تھی شوق سے استعفے دے لو ہم ضمنی الیکشن کرا لیں گے ۔البتہ قومی و پنجاب اسمبلی کی کچھ سیٹوں پر انتخاب ہوئے بھی جن میں پی ڈی ایم کی 13 جماعتوں پر اکیلی پی ٹی آئی بھاری رہی۔جس سے پی ٹی آئی کا حوصلہ اور پی ڈی ایم کا خوف بڑھ گیا۔
انتخابات کے انعقاد ہی کی خاطر پی ٹی آئی نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑ کر اپنی منتخب حکومتوں کی قربانی بھی دی ۔لیکن پی ڈی ایم حکومت تحریک انصاف کے مقابلے سے اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اس نے ان صوبوں میں بھی انتخابات نہ کرائے حتی صدر پاکستان کے کہنے پر بھی انتخابات کرانے کی بجائے کہا گیا کہ یہ صدر کا اختیار نہیں۔اور ان صوبوں میں غیر معینہ مدت تک کیلئے غیر منتخب حکومتیں قائم کردیں۔
پی ٹی آئی کی مقبولیت سے پی ڈی اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اس نے نامرئی طاقتوں کے ساتھ ساز باز کر کے ریاست آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اندر بھی پی ٹی آئی کی منتخب حکومتوں کے خلاف سازش کر کے اپنی مرضی کی حکومتیں بنوا لیں۔
اس کے بعد پی ڈی ایم حکومت کوشش کرتی رہی کہ کسی نہ کسی بہانے سے اس کی حکومت چند سال کیلئے بڑھادی جائے اور انتخابات نہ ہوں۔اب نہیں معلوم کیوں اس کی یہ حسرت پوری نہ ہوئی ۔باقی ماندہ اسمبلیاں بھی تحلیل ہو کردی گئیں اور مرکز اور باقی صوبوں میں بھی غیر معینہ مدت تک کیلئے غیر منتخب حکومتیں قائم کردی گئیں ۔جن کا ہم و غم الیکشن کرانے کی بجائے پی ٹی آئی کو دبا کر رکھنا اور پی ڈی ایم سے ورثہ میں ملی آسمان کو چھوتی مہنگائی کو مزید اوپر لے جانا ٹھہرا۔
پی ٹی آئی اس دوران بھی خاموش نہ رہی اور انتخابات کرانے پر ہر طرح سے زور دیتی رہی ۔اس کے ساتھ جو کچھ ہوا یا ہوتا رہا وہ اپنی جگہ لیکن پی ٹی آئی انتخابات کے مطالبہ سے پیچھے نہ ہٹی۔ یہ غیر منتخب حکومتیں بھی چونکہ پی ڈی ایم کا تسلسل ہی تھا اور نگران وزیر اعظم سے لیکر وفاقی وزراء ،وزرائے اعلی ،ان کی کابینہ اور صوبائی گورنر سب پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں کے لوگ تھے ۔لہذا انھوں نے بھی کرسی سے دل لگا لیا اور انتخابات کرانے کیلئے کچھ نہ کیا ۔
پی ٹی آئی نے مجبور ہو کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔عدالت نے کہا خود سیاسی جماعتیں یہ مسئلہ مل بیٹھ کر حل کر لو تو اچھا ہے ۔لیکن شکست سے ڈرے ہوئے سیاستدانوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھنا قبول نہ کیا۔یوں عدلیہ کو مجبورا میدان میں اترنا پڑا اور تمام فریقوں کی بات سننے کے بعد 8 فروری کی تاریخ انتخابات کیلئے مقرر کردی ۔
اب پی ٹی آئی اور اس کے حامی بہت خوش تھے کہ انتخابات ہوں گے اور قوم کی منتخب حکومت قائم ہو گی ۔واضح تھا کہ فتح پی ٹی آئی کی ہو گی اور حکومت عمران خان کی بنے گی ۔ڈیڑھ سال تک انتخابات سے فرار کرنے اور کرانے والوں کیلئے یہ قابل قبول نہیں تھا لہذا عمران کا راستہ روکنے کیلئے پہلے لندن پلان بنایا گیا اور چار سال تک ملک سے فراری رہنے والے میاں نواز شریف صاحب کو میدان میں اتارا گیا ۔وہ بھی مینار پاکستان پر تقریر کر کے گھر بیٹھ گئے اور پی ٹی آئی آئے دن اوپر سے اوپر جانے لگی ۔
اب پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کیلئے ایک اور پلان سامنے آیا اور وہ تھا عمران خان کی قید کے بہانے اسے انتخابات سے باہر رکھنا ۔پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں کو زعم تھا کہ عمران خان کے جیل میں ہونے اور اسے پارٹی قیادت سے محروم کردینے کی صورت میں وہ الیکشن جیت جائیں گے لہذا الیکشن کمیشن کے ذریعے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا آرڈر جاری کروا دیا (جو الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی سینکڑوں خالی نشستوں اور دو صوبوں کی توڑی گئی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے میں ناکام رہا اس نے موقعیت سے ناجائز فائدہ اٹھایا لیکن) پی ٹی آئی نے یہ مرحلہ بھی طے کرلیا اور انٹرا پارٹی انتخابات کرا کے نیا موقت چئرمین منتخب کر لیا۔
اب سوچا گیا پیچھے وقت کم ہے نئے پلان کی بجائے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو متنازعہ بنایا جائے ۔اس کام کیلئے کسی اور نے تو پی ٹی آئی کے سامنے آنے کی جرئت نہ کی لہذا الیکشن کمیشن خود پی ٹی آئی کے مقابلے میں آ گیا ۔
ممکن ہے بعض جگہوں پر پی ٹی آئی کی بھی تکنیکی غلطیاں ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسی جمھوریت جو پی ٹی آئی سے توقع کی جارہی ہے دیگر پارٹیوں میں ہے؟ ن لیگ ،پی پی ،جمعیت علمائے اسلام تو خاندانی اور موروثی پارٹیاں بن چکی ہیں۔ جماعت اسلامی اور ایم ڈبلیو ایم کے علاوہ کسی بھی جماعت کے اندر داخلی جمھوریت نہیں۔
جیسے انٹرا پارٹی الیکشن پی ٹی آئی نے کرائے اکثر سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن فقط پی ٹی آئی کو نشانے پر رکھا گیا جو پوری پاکستانی قوم دیکھتی رہی چونکہ سب کو خوف یہ تھا کہ پی ٹی آئی اپنی نئی موقت قیادت کی سرپرستی میں بھی انتخابات جیت جائے گی۔(الیکٹ ایبل لوگوں سے پی ٹی آئی چھڑوانے اور خان کو جیل میں ڈالنے کا بھی نتیجہ معکوس نکلا)لہذا عجلت میں بنائے گئے جدید پلان کے تحت پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے جس سے سوائے بدنامی کے کچھ نصیب نہ ہوا۔دوسرے مرحلے میں اس کے نامزد امیدواروں کو اٹھا لیا گیا لیکن پھر بھی پی ٹی آئی پرواز ہی کرتی نظر آئی ۔تیسرے مرحلے میں پی ٹی آئی کے الیکٹ ایبل کی ایک بہت بڑی تعداد کے کاغذات مسترد کر دئیے گئے لیکن پھر بھی پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں اور ان کے سرپرستوں کو شکست کا خوف کھائے جا رہا تھا لہذا یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کو جماعت کی حیثیت سے انتخابات میں شرکت نہ کرنے دی جائے ۔جس پر عمل کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھین لیا گیا ۔اس امید سے کہ اب بھی اگر پی ٹی آئی کے ارکان جیت گئے تو منظور نظر حکومت بنانے کیلئے ان میں سے لازمی مقدار کے افراد کو خریدنا آسان ہو گا ۔حتی یہ بھی کہا جا سکے گا کہ یہ تو آزاد ارکان اسمبلی ہیں جو ہمارے ساتھ مل گئے ہیں۔چونکہ بلا چھن جانے کے بعد اب ہر پی ٹی آئی امید وار نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا ہے۔


افکار و نظریات: google, print, voice, nation