|____________________|
بے خودی بے سبب نہیں غالب
✍️۔۔۔۔۔۔۔ نذر حافی
/______________________/

"مجھے نہیں پتہ" یا مجھے علم نہیں یہ کہہ کر اپنی ذِمَّہ داریوں سے جان چھڑوانا یہ کوئی پروفیشنل رویہ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی زمہ داریوں کو قبول کیا جائے اور انہیں نبھایا جائے۔

جس ملک کی سیکورٹی اتنی سخت ہے کہ سیاستدانوں کے ٹیلی فون تک ریکارڈ ہوتے ہیں، اس میں سائبر کرائمز اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔فیک آئی ڈیز کے ذریعے اور طرح طرح کے سائبر ہتھکنڈوں سے جگہ جگہ عام شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے لیکن متعلقہ ادارے لاعلم ہیں ۔
گزشتہ سالوں میں دہشت گردوں نے پاکستان میں اسّی ہزار نہتّے انسان مار دئیے لیکن ہمارے ملکی اداروں کا بیانیہ یہی ہے کہ ہمیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، مدارس اور مسلک کا علم نہیں۔اسامہ بن لادن پاکستان میں قتل ہوا لیکن ہمارے سیکورٹی اداروں کا بیانیہ یہی رہا کہ ہم پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لا علم تھے۔گزشتہ کئی سالوں سے تفتان اور ریمدان بارڈر پر جو مسافروں، علمائے کرام اور زائرین کے ساتھ ہو رہا ہے ، وہ سب ہمارے ملکی اداروں کے علم میں بالکل نہیں ۔اسی طرح پارہ چنار میں کتنے ہی برس سے جو اہل تشیع کا ہولوکاسٹ جاری ہے، اس حوالے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مذہب کا ملکی اداروں کو کچھ پتہ نہیں۔
آئے روز گلگت و بلتستان کے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن قاتلوں کے ٹھکانوں اور مدارس و مسلک کا ہمارے سیکورٹی اداروں کو کوئی علم نہیں۔سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے واضح اور مطلوبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر میزائل داغنےکے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے تہران سے کہا کہ وہ اسلام آباد کو پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت کے بارے میں ہمیں معلومات فراہم کرے۔ یعنی ہم تو لاعلم ہیں آپ بتائیں۔
اب شرم سے ہمیں ڈوب مرنا چاہیے کہ پاکستان جیسے ہائی سیکورٹی اور ایٹمی طاقت کے حامل ملک میں مبیّنہ دہشت گردوں کے خلاف ایران نے پاکستان کے اندر کاروائی کر دی اور ہمارے اداروں کا بیانیہ یہ ہے کہ ہمیں اس کارروائی کا علم نہیں تھا۔
یہ لاعلمی ہر پاکستانی کیلئے باعث شرمندگی ہے۔ ماورائے عدالت لوگ لاپتہ اوراغوا۔۔۔ہم لا علم ہیں، سائبر کرائم کی بھرمار۔۔۔ہم لا علم ہیں، سانحہ ساہیوال ۔۔۔ہم لاعلم ہیں، سٹریٹ کرائم۔۔۔ہم لاعلم ہیں، ٹارگٹ کلنگ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں،تفتان و ریمدان بارڈر پر سرکاری اہلکاروں کی رشوت و بداخلاقی ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں،پارہ چنار میں شیعہ کا ہولو کاسٹ ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، گلگت و بلتستان کے راستے میں مسافروں کا قتلِ عام ۔۔۔ہم لا علم ہیں، احسان اللہ احسان کا فرار ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، پورے ملک میں انسان کش کالعدم تنظیموں کی کارروائیاں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والے مدرسے ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے لے کر انسانی اسمگلنگ تک سب کچھ۔۔۔ لیکن ہم لاعلم ہیں،اب ایرانی پاکستان کے اندر جاکر اپنے مطلوبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر آگئے اور ہمارا بیانیہ پھر وہی ہے کہ ہم لاعلم ہیں۔۔۔۔
بھائی اگر آپ اتنے ہی لاعلم ہیں تو پھر مولانا منظور مینگل صاحب سے پوچھ لیجئے کہ دہشت گردوں کا مذہب ، مسلک، اور شجرہ نسب کیا ہے نیز اُن کے ٹھکانے کہاں کہاں ہیں، اور کون انہیں ٹریننگ دے کر پاکستان سے ایران بھیجتا ہے؟ویسے یہ بعید نہیں کہ اس مشورے کا بھی یہی جواب ملے کہ مولانا منظور مینگل کون ہے؟ ہمیں تو اُس کا علم نہیں،ہم تو اس سے لا علم ہیں۔.
یہ لاعلمی نہیں بلکہ بے خودی ہے اور مرزا غالب کے بقول:

بے خودی بے سبب نہیں غالب

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

مقبول ترین

تازہ ترین


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly