ایران و پاکستان تنازعہ
تحریر: محمد حسن جمالی

پاکستان کا بلوچستان عرصے سے بڑے دہشت گردوں کا قلعہ بنا ہوا ہے۔ اس قلعے میں وسیع پیمانے پردہشتگردوں کی تربیت ہوتی ہے۔ انہیں فنڈنگ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس بات میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ لوگ امریکہ واسرائیل کے آلہ کار ہیں ۔ یہ انہی کے اشارے سے ہی مختلف جگہوں پر کاروائیاں کرتے ہیں۔ جیش العدل نامی دہشتگر گروہ کا شمار ان خطرناک دہشتگردوں میں ہوتا ہے جن کا ٹھکانہ پاکستان کے بلوچستان میں ہے۔
یہ گروہ صرف پاکستان میں کاروائی نہیں کرتا ہے بلکہ پاکستان کا ہمسایہ ملک ایران میں بھی بم دھماکہ کرکے بے گناہ لوگوں کی زندگی کا چراغ گل کرنے میں مشہور ہے۔ اس گروہ نے ایران میں کئی بار دہشتگردی کی کاروائیاں کی ہیں۔ ایرانی حکام نے پاکستانی ذمہ دار اداروں کو بار بار تذکر دیا کہ آپ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کریں، مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی! جب ان کی کہیں پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی تب وہ دہشتگردوں کے ٹھکانے پر میزائل داغنے پر مجبور ہوئے۔کیونکہ ہر ملک کا یہ مسلمہ حق ہے کہ وہ اپنی حفاظت کا مکمل انتظام کرے ۔
ایران کی اس کاروائی کو دہشتگردوں کے ماموں چچا خالہ بھائی ماں باپ کا درجہ رکھنے والے افراد پاکستانی میڈیا کے چینلز پر غلط رنگ دے کر مشتہر کررہے ہيں،جس کا ہدف پاکستانی قوم کو اپنے ہمسایہ ملک ایران سے بدظن کرنا ہے۔ ہماری قوم کو بیدار رہنا ہے۔ وہ لوگ جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر حالیہ دہشتگردوں کے ٹھکانے پر ایران کی طرف سے ہونے والی کاروائی کو عثمان کا کرتہ بناکر واویلا کررہے ہیں وہ سچائی پر مبنی نہيں بلکہ پریپیگنڈہ ہے وہ عوام کو جھوٹ کا سہارا لیکر بے وقوف بنارہے ہیں، وہ خاص وعام کو فریب دے کر اپنے مفادات حاصل کررہے ہیں ـ
ہمسایہ ملک ایران اور پاکستان کے تعلقات کا اس کاروائی سے کیا تعلق؟ ان کے درمیان دیرینہ دوستی کا رشتہ قائم ہے اور رہے گا۔ان کی شخصیات کی ہمیشہ کوشش یہ رہی ہے کہ آپس میں کوئی کدورت اور دشمنی پیدا ہی نہ ہو۔ ہر دور میں ان دو ملکوں کی خواہش یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے تحفظ کا مکمل خیال رکھیں، ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شریک ہوجائیں ،ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس کریں۔البتہ اس حوالے سے حکمرانوں سے کمی کسری اور کوتاہیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔ اسلامی خطوط پر تربیت کے فقدان کے سبب پاکستانی حکمرانوں کی اکثریت استعماری قوتوں کے اشارے پر ناچنے میں اپنی عافیت تلاش کرتی رہی جس سے ہمسایہ ملک ایران کی دوستی پر منفی اثر پڑتا رہا ہے ـ
امریکہ اور اسرائیل نے سعودی عرب کو اپنے مفادات کامحافظ بنایا اور اس کے ذریعے پاکستان اور ایران کے تعلقاب خراب کروانے کی بھرپور کوششیں کرتے رہے۔ سعودی عرب ہی کا کندھا استعمال کرتے ہوئے شام ،عراق اور یمن میں امریکہ نے مسلمانوں پر جنگ مسلط کی ،ان کی جان مال اور ناموس کی عزت سے کھیلا، انہیں قتل عام کروایا، ہدف فقط یہ تھا کہ ایران کے اطرافی ممالک میں خوف ودہشت پھیلا کر ایران کو ڈرایا جائے۔ امریکہ نے سوریہ میں داعشی درندوں کو چھوڑ کر انسانیت کے خلاف ہر ممکنہ کام کروایا،سعودی عرب کے مولویوں اور مفتیوں کی زبان سے جہاد النکاح کے فتوے نکلوائے ،جس کے نتیجے میں بے شمار بنت حوا کی عزتیں خاک میں ملوائیں!

تاریخ گواہ ہے کہ آل سعود نے ریال کے ذریعے پاکستانی حکمرانوں کو ایران کا مخالف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ضیاءالحق کے دور میں پاکستان کی سرزمین پر سعود آل یہود نے تکفیری مدارس کا جال بچھایا،جن میں وسیع پیمانے پر دہشتگردوں کی تربیت ہوتی رہی۔ انہی مدارس سے فارغ ہونے والوں نے کھبی طالبان کے نام سے تو کھبی القاعدہ اور داعش کے نام سے کلمہ گو مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے رہے،دہشتگردی کی آگ میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کو جلاتے رہے، لاتعداد مسلمان مرد، عورت، بچوں اور بوڑھوں کو بغیر جرم وخطا کے قتل عام کرتے رہے ـ
پاکستان میں شدت پسند طالبان اور داعش کے ہاتھوں ۸۰ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانی مارے گئے ۔ تکفیری اور سلفی گروہ کی تبلیغات سے متاثر ہوکر مقدس مقامات مساجد اور امام بارگاہوں میں خودکش حملہ کرکے بہت سارے جوان اور نوجوانوں نے اپنی زندگی کا چراغ گل کرنے کے ساتھ بے شمار مسلمانوں کو نماز اور عزاداری جیسی عظیم عبادات کی حالت میں ابدی نیند سلادیا گیا۔
پاکستان کی سرزمین پر اس ناسور ٹولے کی دہشتگردی میں سب سے ذیادہ پاراچنار، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ کے ہزارہ مؤمنین شھید ہوئے ہیں ـ تکفیری گروہ نے بلوچستان میں ایران جانے والے زائرین کی بسوں کو راستے میں روک کر ان کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے گولیوں سے بھون دیا گیا ہے۔ بلوچستان راستے میں زائرین کے ساتھ ہونے والا دردناک واقعہ گلگت بلتستان کے بے گناہ مومن مسافرین کے ساتھ بھی پیش آیا ـ تین اپریل 2012ء کو چلاس کے مقام پر اسکردو جانے والی بسوں کو اسلحہ بردار دہشتگردوں نے دن دیہاڑے روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر ایک درجن کے قریب شیعہ مسافروں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
اس دوران دہشتگردوں کے سہولتکاروں کا جم غفیر بھی پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ آور ہوا، اس کے علاوہ انہی درندوں نے بہت سوں کو شہروں سے اٹھاکر لاپتہ کیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ـ کراچی اور پاکستان کے دوسرے شہروں سے آج بھی تکفیری ٹولے غریب لوگوں کو اغوا کرکے لاپتہ کررہے ہیں ـ یہ ایسے شرمناک المیے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا میں مسلمان اور دین اسلام بدنام ہونے کے علاوہ یہ پاکستان کی ساکھ گرانے کا باعث بھی بن رہے ہیں ـ

اس بات میں شک نہیں ایران اور پاکستان کی دوستی پرانی ہے وہ ایک دوسرے کی بھلائی چاہتے ہیں جو بھی ان کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی باتیں کرے وہ ایران اور پاکستان دونوں کا دشمن ہے۔ آل سعود امریکہ واسرائیل کی ایما پر ایران کے خلاف پریپیگنڈہ کرنے والے جتنا بھی پریپیگنڈہ کریں انہیں اپنی ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ اور نتیجہ حاصل ہونے والا نہیں۔ایسے میں یہ سوال ہر ایک کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ کیا ایران کا دہشتگردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانا پاکستان پر حملہ ہے؟

تازہ ترین


افکار و نظریات: google, print, voice, nation