ووٹ اور ملکی استحکام
تحریر: منظوم ولایتی

اذان ہورہی تھی۔ میں حرم حضرت معصومہ قم (س) میں کھڑا تھا۔ ظہرین کی نماز کا وقت تھا۔ ایسے میں ایک کال موصول ہوئی۔ دیکھا تو استاد محترم نذر حافی صاحب تھے۔ فرمانے لگے کہ آج رات نماز مغربین کے فورا بعد موسسہ امام باقر (ع) میں ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی صاحب کے ساتھ حالات حاضرہ پر ایک تجزیہ و تحلیلی نشست رکھی ہے، آپ بھی آجائیں۔ راقم نے حامی بھرلی اور مغرب کی نماز باقی احباب کے ساتھ موسسہ میں پڑھ لی۔
نماز کے بعد نشست کا اغاز ہوا۔ استاد محترم نذر حافی صاحب نے ابتدائیہ کلمات میں بدلتے ہوئے حالات اور واقعات سے متعلق قلم کار حضرات کے بروقت لکھنے اور حالات و واقعات کے حوالے سے قوم کو جہت دینے کیلئے لازمی طور پر اپنا نقطہ نظر بیان کرنے اور تجزیہ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

ان کے بعد علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں اور پاور اب مغرب سے مشرق کی طرف شفٹ ہورہی ہے۔ دنیا کے اندر سے یک قطبی نظام کا خاتمہ ہورہا ہے اور کئی اقطاب بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں ہم نے دیکھنا ہے کہ بحیثیت پاکستان ایک انتہائی اہم اسلامی ملک ہونے کے ناتے اس حساس اور اہم موقع پر کہاں کھڑا ہے؟
ڈاکٹر شیرازی صاحب نے کہا کہ ۸ فروری کے انتخابات میں اگر ساٹھ ستر فیصد ٹرن آوٹ نکلتا ہے تو پولیٹیکل ہارس ٹریڈنگ کےخطرے سے ملک کو بچایا جاسکتا ہے وگرنہ پھر ایک لولی لنگڑی حکومت بنے گی جس کے ہاتھ پیر بندھے ہوں گے اور جو اہم اور آزادانہ فیصلوں سے قاصر ہوگی نتیجے میں ملک مزید پیچھے چلاجائے گا۔ ان کے مطابق عوام کا ووٹ اور ملک کی مضبوطی لازم و ملزوم ہیں۔
لہذا اس وقت ہمارا سب سے اہم کام آٹھ فروری کو پاکستانی عوام کو پولنگ سنٹرز تک لانا ہے تاکہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے ملکی نظام کی مضبوطی میں اپنا حصہ ڈال کر بیرونی سازشیں اور مداخلتیں کرنے والوں کی روک تھام کر سکیں۔
ایک سوال کے جواب شیرازی صاحب نے فرمایا کہ پاکستان اور ایران دو اہم برادر اسلامی ملک ہیں ان شا اللہ دونوں مل کر دونوں طرف کے دہشتگردوں کا خاتمہ کر کے پہلے سے زیادہ اپنے تعلقات کو مضبوط بنائیں گے اور جو لوگ دونوں ملکوں میں ناامنی چاہتے ہیںِ ان کو ناکام بنائیں گے۔
ایک دوست کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سات اکتوبر کے طوفان الاقصی نے اسرائیل کے بڑے بڑے دعووں کو چکنا چورکر دیا ہے۔ اوپر سے اب تو یمنیوں نے بھی اسرائیلیوں کی اقتصادی شہ رگ کو پکڑ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو وجود میں لانے والے ممالک امریکہ اور برطانیہ یمن پر آئے روز حملے کرتے ہیں لیکن یمن کی مقاومت باآسانی اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے اور بحر احمر سے اسرائیل جانے والے بحری جہازون کو روک رہی ہے۔
ڈاکتر شفقت شیزازی صاحب نے پاکستانی میڈیا اور اخبارات سے متعلق کہا ہے کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز اوراخبارات میں ابھی تک یمنی فوج کو حوثی باغی کہا جارہا ہے ۔ انصار اللہ یمن کی فوج جب بحر احمر میں اسرائیلی کشتیوں پر حملہ کرتی ہے تو یمنی فوج کا ترجمان اس کا برملا اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کرتا ہے کہ ہم نے ایسا کیا۔ اگر انصار اللہ یمنی فوج نہ ہوتی اور ایک باغی گروہ ہوتا تو فوج کا ترجمان کیوں کرہوتا۔ لہذا ہمیں مغربی ذرایع ابلاغ سے ہٹ کر بھی ذمینی حقایق کو دیکھنا چاہیے۔

میڈیا ورکشاپ کیلئے رابطہ کریں


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face