وزیرِ اطلاعات کی پریس کانفرنس کا جائزہ

ایم اے راجپوت

انتخابات سر پر ہیں۔ عوام کی اکثریت پی ٹی آئی کی ہم آواز ہے اور پی ٹی آئی موجودہ مقتدرہ سے بے انتہا نالاں ہے ۔اب ایسے میں نگران وزیر اطلاعات جناب مرتضی سولنگی کی پریس کانفرنس ملاحظہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام الزامات بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہیں ۔نہ پی ٹی آئی کے کسی بندے کو دھمکایا گیا،نہ کسی کو اغوا کیا گیا ،اور نہ ہی کسی پی ٹی آئی امید وار کو الیکشن مہم چلانے سے روکا گیا۔
اس پریس کانفرنس سے لگتا ہے کہ ہمارے نگران وزیرِ اطلاعات نجانے کسی اور دنیا میں رہتے ہیں اور یا پھر انہیں بھی لکھ کر دیا گیا ہے کہ پریس کانفرنس میں کیا کچھ بیان کرنا ہے۔ اُن کی یاد دہانی کیلئے ہم بہت پیچھے بھی نہیں جاتے کہ پی ٹی آئی کے الیکٹ ایبل بڑے بڑے لوگوں سے کیسے پارٹی چھڑائی گئی؟کیسے پریس کانفرنسز کرائی گئیں ؟کیسے جدا دھڑے بنوائے گئے؟کیسے وعدہ معاف گواہ بنوائے گئے؟کیسے لوگوں کی چادر اور چاردیواری کا تقدس پائمال کرایا گیا؟کیسے لوگوں کے بیڈ روم کی ویڈیوز بنائی گئیں ؟اور کیسے لوگوں کی کالز ریکارڈ کر کے چلائی گئیں؟یہ سب چھوڑ کر الیکشن پر بات کرتے ہیں۔
جب الیکشن کا اعلان ہو گیا ۔تاریخ مقرر ہوگئی تو پہلا مرحلہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا تھا۔اس مرحلے پر الحمد للہ تمام تر مایوسانہ ماحول کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے بہترین استقبال کیا اور توقع سے بڑھ کر کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔یہاں ہم نے دیکھا کہ پی ٹی آئی بھی باقی جماعتوں سے پیچھے نہیں رہی ۔ہر حلقے سے اس کے امیدواروں نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔لیکن اسی پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی کے بعض امیدواروں سے یہ کاغذات بھی چھین لئے گئے ۔چھیننے والے کون تھے؟ہم یہ تو ہوچھنے کی جرئت نہیں کرتے لیکن جن سے چھینے گئے ان کی مظلومیت تو بیان کر سکتے ہیں۔
پھر اسکروٹنی اور کاغذات کی جانچ پڑتال کا مرحلہ شروع ہوا ۔اس مرحلے پر اگرچہ بعض دیگر امیدواروں کے کاغذات بھی رد ہوئے لیکن پی ٹی آئی کے امیدواروں کے خصوصی طور پر ایک بہت بڑی تعداد میں کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے جس کی مثال پاکستانی انتخابات کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔جب اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی تو 9 مئی جیسے واقعات کو بنیاد بناکر چپ کرا دیا گیا۔
چلیں مان لیتے ہیں 9 مئی واقعات میں ان پی ٹی آئی کارکنان و قائدین کا بھی ہاتھ تھا لہذا انھیں سزا ملنی چاہئے تھی ۔بالکل صحیح ۔لیکن جن کے کاغذات قابل قبول قرار پائے تھے اور 9 مئی جیسے واقعات میں ان کا ہاتھ بھی نہیں تھا۔انھیں تو باقی جماعتوں کے امید واروں کی طرح الیکشن کمپین کا حق تھا جو کوئی بھی مخلص پاکستانی ان سے نہیں چھین سکتا تھا۔
میڈیا گواہ ہے کہ جب الیکشن کمپین شروع ہوئی تو آزاد امیدوار اپنے اپنے حلقے میں اور سیاسی جماعتیں پورے ملک میں جلسے جلوس اور ریلیاں کرنے لگے ۔لیکن پی ٹی آئی کو جلسے جلوس اور ریلیاں کیا؟کارنر میٹنگز کرنے کی بھی اجازت نہیں ملی ۔بعض پی ٹی آئی امیدواروں نے کارنر میٹنگ کی تو انھیں اور شریک کارکنان کو اٹھا لیا گیا یا پھر ان پر ایف آئی آر کاٹ دی گئی ۔یہ حالت دیکھ کر باقی ڈر گئے ۔حتی بعض زیر زمین چلے گئے اور ابھی تک زیر زمین ہی ہیں۔ ان کی کمپین خود عوام چلا رہے ہیں یا کوئی رشتہ دار۔
اس ساری صورت حال کے باوجود بھی عوام میں دوسری جماعتوں کو پذیرائی نہیں مل رہی تھی ۔حتی بعض حلقوں میں دوسری بڑی جماعتوں کو امید وار بھی نہیں مل رہے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے پاس ہر حلقے میں ایک سے زیادہ امید وار تھے۔اب ہر جماعت نے اپنے مورد نظر امید وار کو پارٹی ٹکٹ دینا شروع کردیا ۔پی ٹی آئی نے بھی یہی کام کیا لیکن اس کے بعض ٹکٹ ہولڈرز کو اٹھا لیا گیا ۔بعض پر کیس بنا دئیے گئے لیکن پی ٹی آئی پھر بھی بہت آگے نظر آرہی تھی ۔جیت پی ٹی آئی ہی کی ہونی تھی چاہے اس کا سربراہ اور بعض دیگر قائدین جیل میں تھے ۔
پھر کیا ہوا؟پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن درست طریقے سے نہ کرانے کے بہانے اس کے انتخابی نشان سے محروم کردیا گیا۔جبکہ جس طرح کے سوالات چیف جسٹس صاحب نے پی ٹی آئی وکلاء سے کئے ایسے سوالات اکثر دیگر جماعتوں سے بھی کریں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور اکثر جماعتیں انتخابی نشان سے محروم ہو جائیں ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ 99 فی صد سیاسی و مذھبی جماعتوں کے اندر جمھوریت نہیں لیکن سزا صرف پی ٹی آئی کو ملی ۔
پی ٹی آئی یہ مرحلہ بھی کڑوا گھونٹ سمجھ کر عبور کرگئی ۔اور اس مرحلے تک بھی مقبولیت کی اس بلند چٹان پر تھی کہ اس کے مقابل میں لندن سے امپورٹ کی گئی شخصیت کو باہر نکلنے کی جرئت نہیں ہو رہی تھی ۔اور بقول بلاول بھٹو زرداری صاحب وہ سوچ رہے تھے کہ مجھے کیوں بلایا؟
پھر ایک اور حربہ اپنایا گیا جس کے بعد لندن سے بلائے گئے سیاسی لیڈر کو بھی باہر نکلنے کیلئے حوصلہ ملا ۔وہ حربہ پی ٹی آئی کے بانی اور اس کی بیوی کو ایسی سخت سزائیں دلوانا تھا جن کو سن کر عوام بد دل ہو جائیں ۔مایوس ہو جائیں ۔پریشان ہو جائیں اور ووٹ دینے کیلئے باہر نہ نکلیں ۔پھر پاکستانی عوام نے دیکھا کہ عدت کے دوران نکاح کے الزام میں بھی دونوں میاں بیوی کو سات سات سال قید سنا دی گئی ۔جبکہ اسی پاکستان میں نکاح نہیں زنا پر بھی کسی کو کوئی نہیں پوچھتا۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ۔ہمارا سوال ہے کہ کس آیت یا حدیث میں اس قسم کے الزام کی سزا 7 سال قید ہے؟
سائفر پر تو سزا امریکہ کو دینی چاہئے تھی ۔لیکن الٹی گنگا بہنے لگی ۔سزا اسے دی گئی جس نے کہا تھا ہم امریکہ کے نوکر نہیں ۔
اور سزا دینے کیلئے ایسے جج صاحب کو چنا گیا جس نے اس سے پہلے نواز شریف صاحب کو جو سزائیں دی تھیں وہ سب پانی پر جھاگ کا بلبلہ ثابت ہوئیں ۔جناب مرتضی سولنگی صاحب نگران وزیر اطلاعات ہیں ۔اور موجودہ نگران حکومت پی ڈی ایم حکومت کا ہی تسلسل ہے ۔ان دونوں حکومتوں نے پی ٹی آئی کو ختم کرنے کیلئے ہر طریقہ اپنایا ہے ۔معلوم نہیں مزید کیا کچھ کریں گے ۔لیکن ان سابقہ اقدامات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات درست ہیں ۔وزیر اطلاعات نے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے پریس کانفرنس کردی ہے ۔لیکن اب عوام ان پرئس کانفرنسوں سے مطمئن نہیں ہوں گے ۔محب وطن عوام سے ہماری گزارش یہی ہے کہ جو کچھ بھی ملک اور مخلص سیاست دانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس کے پیشِ نظر الیکشن کے دن بھرپور انداز میں باہر نکلیں اور اپنا ووٹ محب وطن امیدواروں کو دیکر پاکستان کی سالمیّت اور جمہوریّت کو یقینی بنائیں۔ملک میں یہ جو کچھ ہوا اور جو ہو رہا ہے ، یہ سب تحریکِ انصاف کا غم نہیں ساری ملت پاکستان کا دکھ ہے۔

Join us


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly