تحریکِ انصاف کے ساتھ مجلس وحدت کا اتحاد
رپورٹ: سید فراز نقوی


ہمارا عمران خان کے ساتھ اتحاد کسی مادی منفعت یا مالی فائدے کیلئے نہیں بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور امریکہ کی غلامی سے نجات کیلئے اٹھنے والی آواز دبنے نہ پائے۔ بیرونی مداخلت اور بیرونی سازشوں کا خاتمہ یہ ہر باشعور پاکستانی کا خواب ہے۔قم المقدس میں انتخابات کی اہمیّت کے حوالے سے ایک نشست میں شرکت کا موقع ملا ۔ مہمان خصوصی علامہ ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی صاحب نے جہاں انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت پر بات کی وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو استعماری غلبے سے نجات دلانا یہ ہمارے شہید قائد کا اور ہمارا راستہ ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے مشکل ترین حالات میں عمران خان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ "ہم غلام نہیں ہیں" اور " ہمارے فیصلے ملک کے اندر ہونے چاہیے" یہ ہمارا مشن ہے۔ مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان نے پورے ملک میں انتہائی سوچ بچار کے ساتھ اپنے نمائندے کھڑے کئے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے ساتھ مجلس وحدت کے تمام تر معاملات ملکی استحکام، استعماری مخالفت، قومی وقار اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں طےپائے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے تفصیل سے اس اہم موضوع پر گفتگو کی اور اپنی گفتگو کے اختتام پر حاضرین کے سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دئیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف آج بھی پاکستانی عوام کی مقبول ترین پارٹی ہے اور عمران خان پاکستانیوں کے مقبول ترین عوامی رہنما ہیں۔ جب مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے عمران خان کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے تو اس وقت ضرروت ہے کہ عمران خان کی استعمار مخالف آواز کو پاکستان کے ایوانوں میں زندہ اور باقی رکھنے کیلئے عمران خان کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ ہمیں تمام تر مفادات سے زیادہ پاکستان کی امریکی غلامی سے نجات ، پاکستان کی حقیقی آزادی اور خودمختاری عزیز ہے۔ چنانچہ پاکستان سے امریکی انخلا ، استعمار کے خاتمے اور پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی کی آزادی کیلئے ہونے والی کوششوں کو باقی رکھنا ہماری تنظیمی و نظریاتی ذمہ داری ہے۔
اس وقت ، جب ہر طرف سے سازشوں نے وطن عزیز اور اس کے باسیوں کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے تو اس اہم موڑ پر عمران خان کو تنہا چھوڑنا کسی طوربھی دانش مندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان یہ راستہ ترک بھی کر دیں تو پھر بھی ہم نے یہ راستہ ترک نہیں کرنا۔ یہ در اصل ہمارا میدان ہے۔ مجلس وحدت نے اپنے ماضی کے تجربات سے بطریقِ احسن استفادہ کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں اپنے امیدواروں کو کھڑا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ۸ فروری کو عوام کا پولنگ اسٹیشنز پر بڑی تعداد میں حاضر ہونا بذات خود ایک انتہائی اہم قدم ہے جو وطن سے محبت اور اس کی سالمیت کے لئے میدان میں حاضر رہنے کی دلیل ثابت ہو گا ۔ ووٹ کے ذریعے ہی ملکی مسائل کا حل نکل سکتا ہے لہذا عوام کو چاہیے کہ ووٹ کا استعمال کرنے کیلئے گھروں سے نکلیں اور وطن سے محبت کرنے والے افراد کا انتخاب کریں تا کہ ملکی استحکام عمل آئے۔یہ وقت ہے ووٹ کی اہمیت کا اس کی قدر کریں اور اسے اپنا فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔خداوند کریم وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو۔۔

ہمیں جوائن کیجئے


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly