آج کا دِن

یکم فروری 1979 کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت خمینی 15 سال کی جلاوطنی کے بعد ایران واپس آئے۔انہوں نے جلاوطنی کے دوران زیادہ عرصہ عراق کے مقدس شہر نجف میں گزارا۔ ابتدائی طور پر انہیں 4 نومبر 1964 کو ترکی بھیجا گیا، جہاں وہ ایک سال سے بھی کم عرصے تک برسا شہر میں رہے۔

ترکی میں علی سیٹنر نامی ترک کرنل نے اپنی رہائش گاہ پر امام خمینی کی میزبانی کی۔ بعد ازاں اکتوبر 1965 میں انہیں نجف، عراق جانے کی اجازت دے دی گئی جہاں وہ اس وقت تک رہے جب تک کہ 1978 میں اس وقت کے نائب صدر صدام نے انہیں زبردستی وہاں سے نکال نہ دیا۔ پھر وہ فرانس میں نوفل لو شاتو چلے گئے۔دسمبر 1978 تک مظاہرے ایران کے تقریباً تمام بڑے شہروں اور درجنوں چھوٹے قصبوں میں پھیل چکے تھے۔

شاہ اور اس کا خاندان امام خمینی کی واپسی سے دو ہفتے قبل 16 جنوری 1979 کو ملک سے فرار ہو گئے۔

امام خمینی یکم فروری 1979 کو صبح 9:30 بجے جلاوطنی سے فاتحانہ طور پر واپس آئے اور تہران کی سڑکوں میں لاکھوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔

8 فروری 1979 کو فضائیہ کے کمانڈروں، پائلٹوں اور عملے کا ایک گروپ امام خمینی کے گھر گیا اور انقلاب سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔

11 فروری 1979 کو مسلح افواج کے کمانڈروں نے امام خمینی کے گھر پر حاضری دی اور بانی انقلاب اسلامی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

مسلح افواج کی جانب سے غیر جانبداری کے اعلان کے بعد حکومت کے اہم ادارے اور باقی تمام باقیات ڈھیر ہو گئے۔

شاپور بختیار جس نے آخری وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں، فوری طور پر ایران سے فرانس بھاگ گیا۔

یوں ایران سے 2500 سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور حضرت امام خمینی نے عوام سے امن و امان کی بحالی کی اپیل کی۔

اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ایرانیوں نے ایک ریفرنڈم میں حصہ لیا۔

98 فیصد سے زیادہ اہل رائے دہندگان نے نئے سیاسی نظام کے طور پر اسلامی جمہوریہ کو 'ہاں' میں ووٹ دیا۔

ایران میں حضرت امام خمینی کی ایران واپسی کے دن یعنی یکم فروری کو عشرہ فجر کی تقریبات کا آغاز کیا جاتا ہے ، ان تقریبات کا اختتام 11 فروری کو اسلامی انقلاب کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر ریلیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

فیڈ بیک


افکار و نظریات: google, print, voice, nation