۹مئی کا ۹ فروری سے موازنہ

ایم اے راجپوت

9مئی 2 23 کا دن پاکستانی قوم کیلئے بہت بھاری ثابت ہوا ۔غلطی کچھ لوگوں کی تھی لیکن سزا پورے پاکستان کو ملی ۔قوم کے سب سے بڑے لیڈر کو جس انداز میں گرفتار کیا گیا اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔پی ٹی آئی کے احتجاج سے سوء استفادہ کرتے ہوئے کچھ موقع پرستوں نے مقدس ،حساس اور تاریخی مقامات کی توہین کی ۔جلاو گھیراو کیا اور ملکی اثاثوں کو نقصان پہنچایا ۔معلوم نہیں یہ کام ان لوگوں نے خود کیا یا ان سے کرایا گیا ؟

اگر یہ کام ان موقع پرستوں سے کرایا گیا تھا تو وہ کون تھا جو ان کی پشت پر تھا ؟منصوبہ ساز کون تھا؟ابھی تک قوم کو تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
جو کچھ پاپولر لیڈر کے ساتھ ہوا تھا اس پر تو کسی نے معذرت تک نہ کی لیکن موقع پرستوں اور ان کے سرپرستوں کی ملک دشمن شیطنت کا سارا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈال کر اس پر زمین و آسمان تنگ کر دئیے گئے۔

بعض لوگ تو یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ 9 مئی کا واقعہ یعنی پہلے پاپولر لیڈر کی ایک دھشت گرد کی طرح دھوکے سے گرفتاری اور پھر اس کے بعد جلاو گھیراو سب کچھ پی ٹی آئی کو نابود کرنے کیلئے کرایا گیا یعنی 9 مئی کے تمام حادثات کے منصوبہ ساز پی ٹی آئی دشمن تھے۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ پھر پی ٹی آئی کے ان لوگوں پر بھی کیس بن گئے جو پہلے ہی جیل میں تھے۔جو احتجاج میں شریک نہیں ہوئے اپنے گھر پر رہے۔جو اس شھر میں ہی نہیں تھے جہاں ایسے حادثات ہوئے۔
مقدسات کی توہین،حساس مقامات پر حملہ اور جلاو گھیراو کرنے والوں کو واقعا قانون کے مطابق سزا ہونی چاہئے تھی اور ہوئی بھی۔اور ہر محب وطن شخص نے 9 مئی کے حادثات کی مذمت کی لیکن یہ سب کچھ پی ٹی آئی پر ڈال کر جو رویہ اس کے ساتھ اپنایا گیا اسے قوم نے مسترد کر دیا۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ میسر نہ ہونے ،لیڈر جیل میں ہونے ،انتخابی نشان چھن جانے اور دیگر ہر طرح کے دباو کے باوجود قوم نے سب سے زیادہ ووٹ ڈالا۔ اور 8 فروری 2024 کو جب نتائج آنا شروع ہوئے تو قوم بہت خوش تھی کہ اب ہم نے گزشتہ دوسالہ ظلم کا بدلہ لے لیا۔

رات ایک بجے تک تو ہم بھی نتائج دیکھتے رہے ۔پی ٹی آئی کے امیدوار 7 ،7 اور 8 ،8 ھزار کی لیڈ سے اپنے مقابل امیدوار سے آگے جا رہے تھے۔میاں نواز شریف صاحب جنھیں ریال خور اخباروں نے الیکشن سے پہلے ہی وزیراعظم لکھ دیا تھا رات دس بجے تقریر کرنا چاہتے تھے ۔انتظامات بھی مکمل تھے لیکن جب واضح شکست نظر آئی تو چپ کر کے گھر چلے گئے ۔یعنی پی ٹی آئی کی فتح اور کامیابی نواز شریف صاحب کو بھی نظر آرہی تھی۔
پھر معلوم نہیں رات کی تاریکی میں ذمہ داروں نے کیا کیا کرلیا کہ جب صبح ہوئی تو اتنی بڑی لیڈ لینے والے ہار چکے تھے اور اتنے کم ووٹ لینے والے جیت چکے تھے ۔ہم نے تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھا کہ زیادہ ووٹ لینے والے ہار گئے اور کم ووٹ لینے والے جیت گئے۔
الیکشن کمیشن نے کیا کیا؟آر اوز نے کیا کیا؟پولیس نے کیا کیا؟کسی اور نے کیا کی؟سب کچھ میڈیا پر آچکا ہے۔
خیبر پختونخواہ والوں کی قبائلی روایات باقی پاکستان سے یکسر مختلف ہیں لہذا جو کچھ باقی پاکستان میں ہوا وہ کچھ اس صوبے میں ممکن نہیں تھا ۔اگر باقی صوبوں کی روایات بھی خیبر پختونخواہ والوں جیسی ہوتیں تو ان صوبوں میں بھی پی ٹی آئی کی پوزیشن وہی سامنے آتی جو خیبر پختونخواہ میں سامنے آچکی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید حقائق کھلتے چلے جائیں گے۔اس وقت تک بین الاقوامی میڈیا رپوٹس کے اندر جو کچھ 9 فروری کے متعلق کہا جا چکا ہے ۔ ہمارے اپنے مختلف تجزیہ نگار جو کچھ کہ رہے ہیں۔الیکشن کمیشن سے مربوط بعض افراد کے بیانات۔

بعض ججز کا استعفی،بعض ن لیگی افراد کا سیٹ قبول کرنے سے انکار ،بعض ایسے بزرگ سیاستدانوں کی طرف سے اس سیاہ کاری کی مذمت ،حافظ نعیم الرحمان کا سیٹ چھوڑنے کا اعلان ،متعدد امیدواروں کا یہ کہنا کہ سیٹ پی ٹی آئی کے امید وار کی ہے ۔عوام نے ووٹ اسے دیا ہے ۔مجھے خیرات میں سیٹ نہیں چاہئے۔یہ سارے حقائق پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر روز روشن کی طرح آچکے ۔نتائج میں تبدیلی چھپی نہیں رہ سکی۔تبدیلی کرنے اور کرانے والے سب ننگے ہو چکے ہیں ۔
عوام کو سمجھ آگئی ہے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ہماری رائے کا احترام نہیں کیا گیا ۔ہمارے ساتھ خیانت کی گئی ۔
بہت سارے لوگ ڈر رہے ہیں کہ کہیں خدا نخواستہ 1971 والے حالات نہ بن جائیں۔اس وقت بھی جیتی ہوئی پارٹی کو قبول نہیں کیا گیا اور ملک دو حصے ہو گیا تھا۔جو کچھ 9 فروری کو ہوا یہ حالات کو اسی طرف لے جانے کی ناکام کوشش تھی ۔الحمد للہ اللہ تعالی نے سازشیوں اور خیانت کاروں کو ناکام کیا ۔

ملک محفوظ ہے لیکن اس خیانت کی سنگینی کو دیکھا جائے تو یہ 9 مئی والے حادثات سے بھی بڑی سازش ہے۔جو کچھ 9 فروری کو ہوا ملک کے ساتھ ،عوام کے ساتھ،ریاست کے ساتھ اور جمھوریت کے ساتھ ظلم ،خیانت اور بے وفائی ہے ۔لہذا اس کے مجرموں، ان کے سرپرستوں اور منصوبہ سازوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر عبرت ناک سزا دینی چاہئے تاکہ 9 مئی کے مجرموں کی طرح 9 فروری کے مجرم بھی نشانِ عبرت بن جائیں ۔

فیڈ بیک


افکار و نظریات: google, print, voice, nation