ایم ڈبلیو ایم قم کا جشن اور ایک پیغام
محمد علی شریفی

انقلاب اسلامی کی 45 ویں سالگرہ کے ایّام ہیں۔ ساتھ ہی پاکستان میں مجلسِ وحدت مسلمین کی سیاسی کامیابیوں پر بھی ملت کا ہر فرد خوشی و انبساط کا اظہار کر رہا ہے۔ انہی مناسبتوں کے حوالے سے ایم ڈبلیو ایم قم کی طرف سے منعقدہ ایک جشن میں شرکت کا موقع ملا۔
جشن میں موجود حاضرین نے انقلاب اسلامی ایران اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی کامیابیوں کو مختلف انداز میں جائزہ لیا۔ ان کے بیانات کو سُننے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جس طرح ساری دنيا کی باطل قوتیں ملکر بھی اسلامی انقلاب کے راستے کو نہیں روک سکیں اور یہ انقلاب اپنے اہداف اور اپنی منزل کی جانب آج بھی رواں دواں ہے ، اسی طرح پاکستان میں بھی سارے تکفیری اور ضیاالحق جیسے باطل حکمران بھی قائد شہید علامہ عارف حسینی ؒ کے راستے کو نہیں روک سکے اور پاکستان کے سارے سُنّی و شیعہ وحدت اور بھائی چارے کے ساتھ ایم ڈبلیو ایم کی صورت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
جیسے حضرت امام امت امام خمینیؒ کا یہ عظیم انقلاب ساری مستضعف اقوام کےلئے امید بنا اور آج تمام دنیا کی تمام آزادی خواہ مزاحمتی تحریکیں امامِ امت کے اس انقلاب سے الہام لیتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ اُسی طرح مجلس وحدت مسلمین بھی سارے پاکستانیوں کیلئے آزادی ، خودمختاری اور خوشحالی کی اُمید بن گئی ہے۔
مجلس وحدت کی بہترین حکمت عملی نے پاکستان میں ضیاالحق کی باقیات اور تکفیریوں کو عبرتناک شکست دی ہے۔
اگر حالیہ انتخابات کی مانند آئندہ بھی شیعہ اکابرین ایک دوسرے کےساتھ تعاون کریں اور اپنے اہلِ سُنّت بھائیوں کو اپنے ساتھ ملا کر چلیں تو پاکستان دنیا کا بہترین اور خوشحال ملک بن سکتا ہے ۔

یہ ایم ڈبلیو ایم کی کامیابیوں کی ابھی ابتدا ہے آگے کیلئے مجلس کو اپنی سیاسی طاقت، جمہوری حمایت، عوامی تائید، سیاسی نظریات اور پاکستان کی سالمیت اور بقا کیلئے اسی طرح دانشمندی اور بیداری نیز وحدت اور اتحاد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتے رہنے کی ضرروت ہے۔

فیڈ بیک


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly