عوامی ووٹ اور سیاسی بھونچال
تحریر: منظوم ولایتی


8 فروری کے انتخابات نے ملکی سیاست میں حقیقی معنی میں ایک بہت بڑا بھونچال پیدا کردیا ہے۔ بڑے بڑوں کو اپنی 'عوامی طاقت' کا اندازہ ہو گیا ہے۔انتخابات سے پہلے کوئی بھی اخبار اٹھاتے یا ٹی وی دیکھتے تو یہی نظر آتا تھا کہ فلاں سروے نے کہا ہے کہ فلانی پارٹی کو ملک کے اتنے فیصد لوگوں نے پسند کیا ہے۔ ستر اسی فیصد سے نیچے کی بات ہی نہیں کی جاتی تھی۔
8 فروری کو انتخابات ہوئے تو سارے کا سارا بڑے بڑوں کا بنا بنایا پروگرام تلپٹ ہوگیا۔ جو لوگ وزیر اعظم , اخبارات کی سرخیوں کے اندر پہلے ہی بن چکے تھے وہ اب سر جوڑ کیا سر توڑ مہم کے باوجود بھی بنتے نظر نہیں آرہے۔
ایک گروہ کہتا تھا کہ ن لیگ کا وزیر اعظم یقینی ہے , نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بنے تھا۔ اس قسم کی ہوائیاں عروج پر تھیں۔اب صورتحال یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے مجلس وحدت مسلمین سے ملنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔بس اس خبر کی دیر تھی کہ بہت سوں نے ملک کے طول و عرض میں شیعہ سنی کارڈ کھلنا شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے معروف صحافی اور تجزیہ نگار عامر ہاشم خاکوانی صاحب اپنی ایک تحریر میں یوں لکھتے ہیں:
"پاکستان تحریک انصاف کی مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت ابھی ہوئی نہیں اور ہمارے بہت سے دوست ابھی سے اپنے چھرے چاقو، تیر، نیزے تیز کرنے بیٹھ گئے ہیں کہ عمران خان پر الزام لگائیں گے کہ شیعہ جماعت میں شامل ہوگئے، ایران سے تعلق رکھنے والی پارٹی کا حصہ بنے وغیرہ وغیرہ۔
ظاہر ہے یہ سب باتیں لغو اور بوگس ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین بھی ملک کی دیگر جماعتوں کی طرح کی ایک جماعت ہے۔ اگر اہل حدیث، بریلوی، دیوبندی حضرات کی ترجمان دینی سیاسی جماعتیں ہو سکتی ہیں تو اہل تشیعہ کی کیوں نہیں ؟
ویسے سوال تو یہ بھی پوچھنا بنتا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین نام سے شیعہ جماعت نہیں ہے تاہم ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر مولانا فضل الرحمن جو بقول شخصے پانچ لاکھ (دیوبندی)علما کے ترجمان ہیں ، وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نامی جماعت کے ساتھ اتحاد بنا کر کئی برسوں تک کیوں بیٹھے رہے ۔ جس جماعت کا نام ہی اہل تشیع کے لئے جدوجہد کے حوالے سے تھا۔ مولانا فضل الرحمن کا وہ اتحاد کسی مجبوری کے عالم میں نہیں تھا بلکہ انہوں نے پانچ سال حکومت چلائی اور بعد میں بھی اتحاد بنائے رکھا، بلکہ ان کی مدد سے اپنے حلقہ انتخاب ڈی آئی خان میں موجود پندرہ بیس ہزار شیعہ ووٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈلواتے رہے ۔
ہمارے نزدیک تو تحریک انصاف اگر موجودہ حالات میں مجلس وحدت مسلمین کا حصہ بنتی ہے تو یہ قابل فہم ہے۔ ہمارے منصوبہ سازوں اور فیصلہ سازوں نے اور کیا آپشن باقی چھوڑا ہے ؟
ویسے بھی مجلس وحدت مسلمین کوئی مکروہ یا منفی جماعت نہیں۔ یہ بھی ہمارے پاکستانی بھائی ہیں، ہماری دیگر جماعتوں کی طرح کی ہی ایک جماعت جسے پورا حق ہے سیاست کرنے، اتحاد کرنے کا۔
سوچ یا پالیسی سے اختلاف ہوسکتا ہے، مگر براہ کرم عمران خان کی دشمنی اور مخالفت میں ملکی سیاست کے اندر فرقہ واریت نہ گھولی جائے ۔ پہلے تھوڑا گند ہے سیاست میں کہ اب فرقہ وارانہ زہر بھی شامل ہو۔
ویسے اس سب کی ذمہ داری ہمارے عظیم منصب چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے فیصلے نے یہ بحران پیدا کیا اور دو کروڑ عوام کے مینڈیٹ کے باوجود تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں اس کی پارٹی یا نام ابھی تک نہیں مل سکا۔
ادھر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پی ٹی آئی سے اپنے اتحاد سے متعلق واضح کر دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہمارا اتحاد ، آزاد خارجہ پالیسی، داخلی خودمختاری، سرحدوں کےتحفظ، عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار، مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات اور گلگت بلتستان کے لیے آئینی حقوق کے حصول بیانیہ کی بنیاد پر ہے۔

پاکستانی عوام سے گزارش ہے کہ شیعہ سنی چکروں سے اوپر اٹھیں اور جو لوگ آپس میں الجھانا چاہتے ہیں ایسوں سے دوری اختیار کریں تاکہ ایک قوم بن کر ملک کو آگے لے کر جایا جاسکے۔ بعض لوگوں کے مفادات اسی شیعہ سنی کشمکش میں چھپے ہوتے ہیں اس لیے ہمیں "ظاہر کی آنکھ سے تماشا " کرنے کے بجائے " "دیدہ دل وا" کرنے ضرورت ہے۔
بقول علامہ اقبال
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی


افکار و نظریات: google, print, voice, nation