آج_کی_بات
منظور بھائی کا ولیمہ ۔۔۔

اورجب مرزاغالب کی ٹوپی شرما گئی

تحریر:منظوم ولایتی


منظورحسین حیدری صاحب ایک ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ آج اُن کی دعوتِ ولیمہ کا پروگرام تھا۔ویسے بھی ہمارے اکثر آنلائن سیشنز،ویبینارز اور کانفرنسز وغیرہ کیلئے دلکش اور جاذب پوسڑز بنانے سے لے کر نظامت و تلاوت اور نعت و منقبت تک کے فرائض وہی انجام دیتے ہیں۔آج کے دور میں ایسا دوست مشکل سے ہی ملتا ہے جو منظّم بھی ہو اور مخلص بھی۔
سپورٹ کشمیر ہو، وائس آف نیشن یا ابلاغِ عامہ کا فورم ان سارے رنگوں میں منظور بھائی کا رنگ ہی جھلکتا ہے۔دو دن پہلے راقم زیارتِ امام رضا علیہ السلام کے سلسلے میں مشہد مقدس میں تھا۔موصوف کی کال موصول ہوئی۔ فرمانے لگے کہ پندرہ شعبان کی شام ہمارا ولیمہ ہے کیا آپ پہنچ سکتے ہیں؟

ہم نے عرض کی کہ 'ان شاء اللہ کوشش یہی ہے کہ پندرہ شعبان کو قم پہنچ جائیں'' ۔فوراً انہوں نے اگلے ہی جملے میں نظامت کے فرائض سنبھالنے کا عندیہ بھی دے دیا۔ظاہر ہے ہمارے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔پھر یوں ہوا کہ آج پندرہ شعبان کو قم میں شدید برفباری کا سلسلہ پورا دن بلکہ تا دمِ تحریر جاری ہے۔ درجہ حرارت منفی ایک تک گر چکا ہے۔ ایسے میں شام کے پانچ بجے روندو کی ایک تنظیم کے پروگرام سے فارغ ہوکر ہم شیخ خورشید انصاری صاحب کے گھر گئے۔پھر برادر ابراہیم عقیل سے بات کی کہ بھئی میری بائیک تو یونیورسٹی میں رہ گئی ہے لہذا مجھے بھی ولیمے کا پروگرام اٹینڈ کرنے لے چلیے۔ انہوں نے کہا کہ زمزم مارکیٹ کے پاس آجائیں۔

اب ایسے میں نمازِ مغربین شیخ خورشید صاحب کے گھر پر ہی پڑھنی شروع کر دی، اُدھر نماز ختم ہوئی اور ادھر ابراہیم بھائی کی کال آئی کہ آجائیں۔بس برفباری میں ہم نے اتنا کیا کہ مرزا غالب کی طرح خورشید بھائی کی ایک ٹوپی اٹھائی ،سر پر رکھی اور چلتے بنے۔
دوڑتے ہوئے زمزم مارکیٹ پہنچے، بائیک پر سوار تو ہوئے مگر برفباری کی وجہ سے راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔خدا خدا کر کے ولیمے والے ایڈرس کو ڈھونڈا۔اب پروگرام کی نظامت کرنی پڑی، سانس پھولے ہوئے تھے، سردی سے بدن کانپ رہا تھا اور اوپر سے سر پر ایک بڑی ٹوپی رکھی ہوئی ہے جسے دیکھ کر مرزا غالب کی ٹوپی بھی شرما رہی تھی۔ بہرحال ہم نے بغیر شرمائے پروگرام شروع کرادیا۔


محترم شیخ ارشد جعفری نے تلاوت کلام پاک سے آغاز کیا۔ بعد ازاں شیخ اختر کمیلی، سید شرافت حسین، عزیزم علی مہدی، شیخ مہدی سرور اور یوسف رضا صاحب نے اردو میں کلام پڑھا جبکہ سید حامد رضوی اور ارشد حسین جعفری نے بالترتیب بلتی اور شینا میں قصیدہ خوانی کی۔ جنہیں بلتی اور شینا سمجھ نہیں آتی تھی ، اُن کے پاس بھی واہ واہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھی۔
اس واہ واہ کے گرم ماحول نے برفباری کے حُسن کو مزید چارچاند لگا دئیے تھے۔ جو صاحب بھی باہر سے ہال میں داخل ہوتے سردی اور ٹھنڈ کو بھول کر واہ واہ شروع کر دیتے ۔لوہا گرم دیکھ کر اخلاق شریفی صاحب نے بھی خوبصورت اشعار سے محفل کو گرمایا۔ اب آپ خود بتائیں ایسے میں دولہا میاں یعنی منظور بھائی اور اُن کے سسر شیخ علی ترابی صاحب کو کون روک سکتا تھا۔ انہوں نے بھی منقبت کے کچھ بند پڑھے اور حاضرین کی طرف سے خوب داد و تحسین سمیٹی۔
اسی طرح سے نامور منقبت خوان برادر مظہر مصطفوی صاحب نے مولا امام زمان ع سے متعلق شینا اور اردو ہر دو زبانوں میں اپنا خوبصورت کلام پیش کر کے محفل کے لطف کو دوبالا کیا۔اس کے بعد محفل کے خطیب استاد نذر حافی صاحب نے پندرہ شعبان اور دعوتِ ولیمہ کے حوالے سے "تذکیہ نفس اور قیامِ عدل کے تعلق" پر گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ تذکیہ نفس کے بغیر قیامِ عدل ممکن نہیں اور بروقت ازدواج ،تذکیہ نفس کے مقدمات میں سے ہے۔
آخر میں دعائیہ کلمات پیش کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر مشتاق حسین حکیمی نے منظور بھائی کی شادی خانہ آبادی کے مبارک ہونے اور شیخ علی ترابی کے چھوٹے صاحبزادے کی صحت و سلامتی کیلیے دعا کی ۔ دعاکے ساتھ محفل نے ختم ہونے کے بجائے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔ وہ نئی شکل یہ تھی کہ علاقائی رسم و رواج کے مطابق اس کے بعد تمام احباب نے "شادی مبارک ہو" کہتے ہوئے برادر منظور حیدری صاحب سے گلے ملنا شروع کر دیا اور گلے لگ لگ کر ان کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور زندگی میں کامیابیوں کیلیے دعائیں دیں۔ اسی طرح سے دوست و احباب کا برادر منظور حیدری کے ساتھ گروپ فوٹوز کا سلسلہ بھی چلا اور کچھ نے سیلفیز بھی لیں۔بالاخر جب خدا حافظی کر کے ہم باہر نکلے تو برف باری جاری تھی۔ ہم نے چشمِ تخیّل سے مرزا غالب کی ٹوپی کو شرماتے ہوئے دیکھا اور اپنی لمبی والی ٹوپی اپنے سر پر رکھ لی۔

ایسے میں برادر سجاد مستوئی صاحب کے ساتھ پیدل یونیورسٹی کیمپس تک گئے اور وہاں سے اپنی بائیک نکال کر گھر روانہ ہو گئے۔
اب رات کے ایک بج ہم یہ تحریر لکھنے بیٹھے ہیں۔ اگرچہ شدید برفباری میں بائیک پر گھر آکر سخت سردی لگی ہوئی ہے لیکن میں نے کہا کہ ایک تو استاد نذر حافی صاحب کا 'آج کی بات' لکھنے کا امر ہوا ہے اور دوسرا یہ ایک عزیز دوست کی شادی ہے تو ضرور کچھ لکھ کر بھی نیک تمناوں کا اظہار کیا جائے، پھر مرزا غالب کی ٹوپی بھی کیا سوچے گی۔۔۔ دعا ہے کہ اللہ پاک منظور بھائی کی شادی کو مبارک فرمائے۔ پردیس میں طالب علم دوستوں کی شادیاں بڑی خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔
آخر میں پندرہ شعبان بھی ہے اس لئے شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال کا یہ شعر لکھ کر آج کا کالم ختم کرنا چاہتا ہوں۔

دنیا کو ہے اس مہدیؑ بر حق کی ضرورت
ہو جس کی نگاہ زلزلہ عالم افکار


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv