ظہور امام کیلئے ایک اہم قدم

ایم اے راجپوت

شعبان المعظم کا مہینہ چل رہا ہے۔شیعہ سنی معتبر روایات کے مطابق 255 ھ ق میں اسی مہینے کی 15 تاریخ کو اس معصوم امام کی ولادت ہوئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بتایا تھا کہ جب میرے اس جانشین کا ظہور ہو گا تو وہ دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے پر کر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔
پوری دنیا کے مسلمان اس رات اور دن میں حضرت امام مہدیؑ کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ آپ کے ظہور کیلئے خصوصی دعائیں بھی کرتے ہیں۔اسی مناسبت سے 15 شعبان المعظم کے نزدیک آتے ہی کچھ خصوصی اقدامات بھی کئے جاتے ہیں ۔ ایران کے شہر قم میں چند سالوں سے اسی مناسبت سے ایک پیادہ روی کی جاتی ہے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم پاک سے لیکر مسجد مقدس جمکران تک لوگ پا پیادہ چلتے ہیں۔اس پیادہ روی کے راستے میں پیادہ روی کرنے والے منتظرین ظہور کیلئے تقریبا ہر طرح کی سہولیات کا اہتمام نظر آتا ہے۔جگہ جگہ پر طہارت اور وضو کرنے کا اہتمام ہوتا ہے ۔علمی و فکری رہنمائی دستیاب ہوتی ہے۔چائے ،پانی اور کھانا سب کچھ فراوان ہوتا ہے۔ہر ملک کے جوانوں نے اپنے اپنے ملک کے پرچم لگا کر سبیلیں اور لنگر لگائے ہوتے ہیں۔پیادہ روی میں عورتیں، بچے ،بوڑھے اور جوان سب شریک ہوتے ہیں۔گویا یہ لوگ اپنے عمل سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم پیر و جوان اور چھوٹے بڑے کی تفریق کے بغیر اپنے وقت امام کی نصرت کیلئے چل نکلنے کو آمادہ ہیں۔ہم اپنی فیملی کو بھی ساتھ لیکر امام کی نصرت کیلئے آئیں گے چاہے پیدل ہی آنا پڑے۔ہم امام کے سپاہیوں کے جوتے بھی صاف کرنے کیلئے آئیں گے۔ہم امام کی خاطر شب بھر بیدار رہیں گے۔موکب لگانے والے ان پیادہ روی کرنے والے منتظرین کی ہر طرح خدمت کر کے اپنے آپ کو نوکر امام ثابت کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کے بجائے ولادت کے حوالے سے زیادہ آگاہی پائی جاتی ہے ۔یاد رہے کہ اب امام مہدی ؑ کی ولادت تو ہو چکی ہے اور اس وقت ساری دنیا ان کے ظہور کی منتظر ہے۔
15 شعبان المعظم کی رات اور دن کی سب سے بڑی عظمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس بارہویں جانشین کی ولادت با سعادت ہے۔باقی ساری عظمتیں تو ان کے صدقے میں ہیں۔
گزشتہ شب قم المقدس میں ظہوری امام مہدی ؑ کی مناسبت سے پیادہ روی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ پاکستانی جوانوں نے جہاں جہاں سبیلوں اور لنگر کا اہتمام کیا تھا ہم کوشش کر کے ان سے بھی ملے۔کھرمنگ کے دوستوں نے اپنے موکب کے سامنے پیادہ روی کے حوالے سے کوئی پیغام دینے کیلئے کہا تو وہاں بھی یہی عرض کیا کہ یہ ظہور کی طرف ایک قدم ہے جو جلوہ فگن ہے۔
پاکستان میں جس طرح سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عزاداری سید الشہداء کے لمبے لمبے جلوس ہوتے ہیں ۔15 شعبان المعظم کے دن اور رات کی مناسبت سے بھی ایسے جلوس ہونے چاہئے تاکہ پاکستانی قوم بھی ظہور کی جانب اس حرکت میں پرزور طریقے سے شامل ہو جائے اور ظہور کی جانب ایسی حرکتِ بابرکت کا جلوہ پاکستان میں بھی نظر آئے۔


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face