محفلِ خراجِ عقیدت
ایم ڈبلیو ایم قم

سعید کاظم

سید ثاقب اکبر مرحوم اور ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی حضرت امام خمینی اور علامہ عارف حسینی کی تحریک کے روح رواں تھے۔ ثاقب اکبر نے بیداری، بصیرت اور اتحاد امت کا مورچہ سنبھالا اور ڈاکٹر نقوی صاحب نے اتحاد، بیداری و بصیرت کے ہمراہ فلاح و بہبود، تعمیر و ترقی اور تعلیم و تربیت کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
مجلس وحدت مسلمین قم کی محفل خراج عقیدت کے حوالے سے چند رپورٹس نظروں سے گزریں۔ بچھڑ جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا اور ان کے کاموں کو آگے بڑھانا یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ مجلس وحدت مسلمین قم کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت شیرازی کے اس جملے نے مجھے شدت سے جھجنجوڑا ہے کہ " شہید ڈاکٹر اور سید ثاقب اکبر نے پاکستان میں بڑے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کیا"۔ ہمیں شاید یہ احساس نہیں کہ طوفانوں سے مقابلے کا یہ سلسلہ ایران میں اسلامی انقلاب کے ظہور سے پہلے ہی پاکستان میں شروع ہو چکا تھا۔

ابھی ایران میں اسلامی انقلاب نہیں آیا تھا اُس وقت یہ شخصیات اتنی بیدار اور بابصیرت تھیں کہ یہ اپنے قول و فعل سے انقلاب کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ یہ ایک لمبا موضوع ہے اور اس پر ٹھوس انداز میں الگ سے کام کئے جانے کی ضرورت ہے۔
تاہم ہمارے لئے سوچنے کی بات یہ کہ انقلاب اسلامی سے بھی پہلے یہ لوگ اتنے بابصیرت اور بیدار کیسے ہو گئے ؟

ان میں بیداری اور بصیرت کی یہ لہر کہاں سے آ رہی تھی؟

اس کا جواب بھی مجھے ایم ڈبلیو ایم قم کے صدر محترم علامہ شیدا حسین جعفری صاحب کے اس بیان میں ملا کہ انسان انا کو خدا پر قربان کر دے۔ یقین جائیے حقیقت یہی ہے کہ جب تک انسان انا کو خدا پر قربان نہیں کرتا اُسے بصیرت اوردور اندیشی نصیب نہیں ہوتی۔
خداوندِ عالم ہمیں اپنی انا کو خدا پر قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly