اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات کربلا ، نادانی و جہالت کے خلاف جنگ نذر حافی nazarhaffi@gmail.com نادانی اور جہالت کو ہر عقلمند انسان ناپسند کرتا ہے۔ جہالت کی شدّت تعصّب پر منحصر ہوتی ہے، کوئی بھی شخص جتنا زیادہ متعصب اور ہٹ دھرم ہوتا ہے، اس کی جہالت بھی اتنی ہی وحشتناک اور ہیبت ناک ہوتی ہے۔ میدانِ عمل میں جاہل دو حالتوں سے خالی نہیں ہوتا۔ یا تو جاہل، عالم سے ٹکراتا ہے اور یا پھر جاہل، جاہل سے پنجہ ازمائی کرتا ہے۔ عقلِ سلیم کا یہ آخری فیصلہ ہے کہ میدانِ جنگ میں جاہل، جاہل کے ساتھ تو ٹکرا سکتا ہے، لیکن کبھی بھی عالمِ حقیقی، عالمِِ حقیقی کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔[1] اگر کسی کو میدانِ جنگ میں دونوں طرف حق ہی صف آرا نظر آرہا ہو تو ایسا شخص یقیناً حق کی شناخت کھوچکا ہے اور اسے چاہیئے کہ وہ دوبارہ حق کو پہچانے، تاکہ میدانِ جنگ میں حقیقی اہلِ حق اور مصنوعی اہلِ حق کے درمیان فرق کرسکے۔[2] میدانِ جنگ میں کودنے سے پہلے انسان کے لئے حق اور باطل کی صحیح شناخت ضروری ہے۔ یہاں پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ جتنی ضروری حق و باطل کی شناخت ہے، اتنا ہی ضروری حق اور باطل کے درمیان فرق رکھنا بھی ہے۔ [3] اگر کوئی شخص حق کو پہچانے اور حق کو باطل سے الگ نہ کرے تو گویا اس نے حق کو پہچانا ہی نہیں۔ انسان کو حق و باطل کی شناخت کے لئے غور و فکر اور حق کو باطل سے جدا کرنے کے لئے جرات و ہمّت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اللہ کے نزدیک بھی بدترین لوگ وہی ہیں جو غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔[4] اگر انسان غور و فکر سے کام نہ لے تو وہ حق و باطل کے معیارات اپنے خیالات اور تصوّرات کے مطابق طے کر لیتا ہے اور پھر انہی من گھڑت تصوّرات کو اپنا عقیدہ بنا لیتا ہے۔ اس وقت دنیا میں جتنے بھی غلط عقائد اور تصوّرات و توہمّات کا وجود ہے، ان کا علاج صرف اور صرف غور و فکر میں پنہاں ہے جب مسلمان غور و فکر کے راستے پر چل پڑے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ غور و فکر سے اسے حق و باطل کی شناخت تو حاصل ہوسکتی ہے، لیکن حق کو باطل سے جدا کرنے کے لئے تقویٰ ضروری ہے۔[5] یہ تقویٰ ہی ہے جو انسان کو حق کی نصرت اور باطل کی مخالفت پر اکساتا ہے۔ تقویٰ اگر غور و فکر کے ہمراہ ہو تو بصیرت کہلاتا ہے اور اگر غور و فکر سے جدا ہوجائے تو یہی تقویٰ حق کے لئے مضر اور باطل کے لئے نفع بخش بن جاتا ہے اور ایسا متقی بظاہر متقی نظر آتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں متقی نہیں ہوتا۔ حقیقی تقویٰ وہی ہوتا ہے جو بصیرت کے ہمراہ ہو اور حقیقی متّقی وہی ہوتا ہے جو بصیر ہو۔ لوگ بظاہرخواہ کتنے ہی متّقی کیوں نہ ہوں، اگر وہ بغیر غور و فکر کے میدان میں اتر جائیں تو وہ فیصلہ کن مراحل میں درست فیصلے نہیں کر پاتے۔ جس کا سارا نقصان حق اور اہلِ حق کو پہنچتا ہے۔ ایسے نام نہادمتّقی جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں، ان کی روشن مثالوں میں سے خوارج ہیں۔ حضرت امام علیؑ کے زمانے میں دنیائے اسلام کو خوارج کی شکل میں سب سے بڑی مشکل درپیش تھی۔ خوارج کی تاریخ کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خوارج بظاہرتقویٰ اور ناسمجھی سے مرکّب تھے۔ یہاں ناسمجھی سے ہماری مراد صرف نادانی اور جہالت نہیں بلکہ کسی کے سمجھانے کے باوجود بھی حقائق کو نہ سمجھنا ہے۔ پیغمبرِ اسلامﷺ کے بعد خوارج ایسے دور کی پیداوار تھے کہ جس میں مسلمانوں کی توجہ تعلیم و تربیّت کے بجائے لڑائی اور کشور کشائی پر مرکوز تھی۔[6] اس زمانے میں تعلیم و تربیّت کے بغیر فعالیت نے خوارج کی صورت میں نادان اور ہٹ دھرم نام نہاد متقّی حضرات کو جنم دیا تھا۔[7] خوارج ایسے نام نہاد متّقی اور ناسمجھ تھے کہ انہیں اپنے زمانے کے امام کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب آخری زمانے میں حضرت امام مہدی ؑ بھی ظہور و قیام کریں گے تو اس وقت بھی بہت سارے نام نہاد متّقی، فعّال اور ناسمجھ لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے۔ خوارج بظاہر ایسی خصوصیات کے حامل تھے کہ اگر ہمارے جیسے لوگ انہیں دیکھ لیتے تو کہتے کہ چلو ٹھیک ہے، دینی تعلیم و تربیت میں کمزور ہیں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں، لیکن یہ بے چارے فعالیّت تو بہت کرتے ہیں اور بظاہرمتقی بھی بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امام علیؑ نے انہی فعاّل لوگوں کو بدترین لوگ قرار دیا ہے۔ خوارج کی چیدہ چیدہ خصوصیات ملاحظہ فرمائیں: 1۔ منہ پھٹ اور بد تمیزتھے خوارج کی ایک اہم اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ منہ پھٹ اور بد تمیزتھے اور دوسروں کو ظالم، کافر وغیرہ کہتے پھرتے تھے۔ 2۔ مردِ میدان تھے خوارج کی دوسری صفت یہ تھی کہ جنگ و جدال سے ڈرتے یا گھبراتے نہیں تھے بلکہ اس پر فخر کرتے تھے کہ ہم بہت جھگڑالو ہیں۔ 3۔ بہترین عبادت گزار تھے خوارج کی تیسری اور نمایاں خوبی یہ تھی کہ بہترین قاری قرآن اور ہر وقت نماز و روزے میں رہنے والے لوگ تھے۔ 4۔ جانثار تھے خوارج کی چوتھی نمایاں صفت یہ تھی کہ اپنے عقیدے پر جان قربان کر دیتے تھے۔ 5۔ متعصب تھے خوارج کی پانچویں نمایاں بات یہ تھی کہ اپنے عقیدے کا تحفظ اور دفاع عقل و دلیل کے بجائے تعصب کی بنا پر کرتے تھے۔ 6۔ تعلیم و تربیّت میں عقب ماندہ خوارج کی چھٹی صفت یہ تھی کہ تعلیم و تربیّت میں عقب ماندہ اور پسماندہ تھے۔ حضرت امام علیؑ کے زمانے میں خوارج نہ صرف یہ کہ خود جہانِ اسلام کے لئے بہت بڑی مشکل تھے بلکہ بہت زیادہ مشکلات کو جنم بھی دیتے تھے۔ خوارج دنیائے اسلام میں جس سب سے بڑی مشکل کے باعث بنے وہ یہ ہے کہ لوگ بغیر دینی تعلیم کے دینی فعالیت کرکے گمراہ ہونا شروع ہوگئے۔ یعنی خوارج نے دنیائے اسلام میں اس طرزِ عمل کی بنیاد ڈالی کہ دین کے صحیح ادراک اور اسلام کی درست سوجھ بوجھ کے بغیر دین کے نام پر فعالیّت کی جائے۔ خوارج کے اس غلط طرزِ تفکّر کا خمیازہ آج بھی ہم مختلف بدعات و رسومات اور طالبان ،القاعدہ اور داعش کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ دینِ اسلام کی تعلیم و تربیت کے بغیر دینِ اسلام کی خاطر میدان میں نکلنے کا یہ نتیجہ ہے کہ میدانِ کربلا میں لشکرِ یزید کا سپاہ سالار عمر ابن سعد یہ آواز دے رہا تھا کہ اے لشکرِ خدا سوار ہوجاو میں تمہیں جنّت کی خوشخبری دیتا ہوں۔[8][9] یہی طرزِ تفکر جو خوارج کا تھا کہ وہ جنّت کے حصول کے لئے خلیفہ برحق اور امام حق حضرت امام علیؑ کے قتل کی خاطر نکلے تھے، اسی فکر اور عقیدے کے لوگ میدانِ کربلا میں فرزندِ رسولﷺ اور آل رسولﷺ کے قتل پر نکلے ہوئے تھے اور وہ 61 ھجری میں آلِ رسولﷺ کو شہید کرکے جنّت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ بعد ازاں یہی تفکر، سوچ اور عقیدہ وقت کے ساتھ ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا اور آج عصرِ حاضر کے خوارج پوری امّت رسولﷺ کو قتل کرکے جنّت میں جانا چاہتے ہیں۔ تاریخ اسلام میں جس طرح خوارج یعنی دین کی صحیح سوجھ بوجھ رکھے بغیر دینی فعالیّت کرنے والوں نے دینِ اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اسی طرح معرکہ کربلا نے بھی خوارج کے طرزِ تفکر پر کاری ضرب لگائی ہے۔ شہدائے کربلا نے اپنے سرخ خون سے خوارج کی فعالیّت پر ایسا خطِ بطلان کھینچا ہے کہ آج بھی اگر کوئی شخص غیر جانبدارانہ طور پر تاریخ ِ کربلا کی ورق گردانی کرتا ہے تو خوارج کے تفکّر کو رد کر دیتا ہے۔ غور و فکر اور تحقیق کرنے والا انسان تاریخ کربلا کے مطالعے سے اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ خداوندِ عالم کو صرف نیک اور متقی اور فعال مسلمان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خداوندِ عالم کو ایک سمجھدار، عاقل، دانا، عالم، متقی اور فعال مسلمان کی ضرورت ہے۔ ماہَ محرّم الحرام میں جہاں ہمیں بہت زیادہ دینی فعالیّت انجام دینی ہے، وہیں ہمیں دین کو صحیح سمجھنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔ اگر ہم بھی دین کو صحیح سمجھے بغیر دینی فعالیّت انجام دیتے رہیں گے تو کہیں نہ کہیں خوارج کے لشکر کی تقویّت اور حق کی کمزوری اور ضعف کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ خوارج کسی نسل، قوم یا قبیلے کا نام نہیں ہے بلکہ دینی فہم و فراست کے بغیر دینی فعالیت انجام دینے کا نام ہے اور اسی طرح ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ کربلا ایک ابدی جنگ ہے، نادانوں اور جاہلوں سے اور وہ نادان اور جاہل خواہ کسی بھی ملک، قوم و قبیلے اور مکتب سے تعلق رکھتے ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حاشیے اور حوالے [1]۔ مثلاً اگر ایک ورق خون سے لکھا ہوا ہو اور دونوں کو علم ہو کہ یہ خون سے لکھا ہوا ہے تو ان میں کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، جھگڑا تب ہوگا جب ایک کہے گا کہ یہ خون سے لکھا ہے اور دوسرا کہے گا کہ یہ سرخ رنگ سے لکھا ہے، یعنی ایک حق پر ہوگا اور دوسرا باطل پر اور یا پھر ایک کہے گا کہ یہ سرخ رنگ سے لکھا ہے اور دوسرا کہے گا کہ نہیں یہ انار کے پانی سے لکھا ہے یعنی دونوں باطل ہونگے۔ [2] استفادہ از إِنَّ دِينَ اللَّهِ لَا يُعْرَفُ بِالرِّجَالِ بَلْ بِآيَةِ الْحَقِّ وَ اعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ۔ (إرشاد القلوب إلى الصواب، ج2، ص296) [3] وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ۔۔۔ البقرة آیه: 42 [4] إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذينَ لا يَعْقِلُونَ۔الأنفال: 22 [5] استفادہ از يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً۔الأنفال آیه ۲۹ [6] استفادہ از آثارِ شہید مطہری [7] استفادہ از سیری در سیرہ نبوی از شہید مطہری [8] یا خیل الله ارکبی و بالجنه ابشری [9] موج فتنه از جمل تا جنگ نرم قلمکار احمد حسین شریفی
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: کربلا, نادانی و جہالت کے خلاف جنگ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں