مسئلہ تفتان اور تجاویز


تفتان بارڈر کے حوالے سے اعلی حکام کی تھوڑی سی توجہ چاہیے۔ عوام اور سرکاری اداروں کے دوطرفہ تعاون کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی امید پر ہم نے تفتان بارڈر کے حوالے سےیہ تجاویز مرتب کی ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ تفتان کے مسئلے سے عام عوام کو بہت منفی تاثر جا رہا ہے۔ یہ سوچ عام ہو رہی ہے کہ زیارات کیلئے ایران جانے یا وہاں پڑھنے کی وجہ سے سرکاری اہلکار لوگوں کو ٹارچر کرتے ہیں، حالانکہ بات صرف ایک یا چند ایک اہلکاروں کے منفی رویّے کی ہے۔

ہماری تجاویز پیشِ خدمت ہیں۔
تجاویز:۔
۱۔ ہم بحیثیت قوم کسی بھی طرح کی شدّت پسندی اور جنون کے متحمل نہیں۔ خصوصاً سکیورٹی فورسز کو ہر طرح کے جنون اور شدت پسندی سے پاک ہونا چاہیئے۔ سرکاری ملازمین چاہے سول کپڑوں میں ہی ہوں، ان پر ڈیوٹی کے دوران سیاسی یا مذہبی گفتگو اور تبلیغ پر پابندی ہونی چاہیئے۔
۲۔ مذہبی تبلیغ پر پابندی کےساتھ ساتھ عوام کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنے، بدتمیزی اور بد اخلاقی پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔
۳۔ آج کی جدید اور سُپر ماڈرن دنیا میں فیڈ بیک کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔ سفری مشکلات سے بچنے اور بارڈرز پر سکیورٹی عملے کی بدعنوانی کی صورت میں جگہ جگہ موبائل نمبرز لکھے ہونے چاہیئے، تاکہ لوگ فوری مدد طلب کرسکیں۔ اس سے عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہوگا اور عوام اور فوج و پولیس کے درمیان حائل خلیج بھی ختم ہو جائے گی۔ یوں ملکی سلامتی اور دفاع کیلئے عوام اور حکومت ایک پیج پر آجائیں گے۔ شکایات اور فیڈ بیک کے حصول کیلئے عوام کی شناخت مخفی رکھنے کا اعلان ہونے کی صورت میں سکیورٹی اداروں کو عوام کی طرف سے بہت مدد ملے گی۔
۴۔ انٹری گیٹس پر مامور صوفی صاحب سے لوگ سخت نالاں ہیں۔ عوامی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔
۵۔ پروفیشنل تربیت کے بغیر قومی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ اس وقت مسافروں سے جو لوگ معلومات کی جمع آوری کیلئے ایک فارم پُر کرواتے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ اس فارم کے حوالے سے اُن کی اپنی کیا ذمہ داری ہے؟ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی ذمہ داری فقط لوگوں کی ڈانٹ ڈپٹ کرنا ہے۔ وہ خود لوگوں کی توہین کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور لوگوں کو ایک سفید کاغذ دے دیتے ہیں کہ اس کاغذ پر اپنی معلومات لکھیں۔ ظاہر ہے کہ ایک سفید کاغذ پر لکھی گئی معلومات اوپر نیچے ہوتی ہیں، وہ اس کو بھی لوگوں کی توہین کرنے کا ایک بہترین بہانہ بنا لیتے ہیں۔ انہیں سکھایا جانا چاہیئے کہ فارم پُر کرنا اُن اہلکاروں کی اپنی ذمہ داری ہے۔
لوگ فارم پر کرکے ان کی مدد کرتے ہیں اور اگر کسی فارم یا سفید کاغذ پر لکھی گئی معلومات میں کوئی کمی بیشی ہو جائے تو اس کی اصلاح اور درستگی خود سرکاری اہلکار کی آفیشل ذمہ داری ہے۔ معلومات کی جمع آوری کیلئے صرف فارم یا سفید کاغذ کا ہونا کافی نہیں بلکہ رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب (Right Person for the Right Job) بھی ضروری ہے۔ اس کیلئے کوئی بہت زیادہ اعلیٰ تعلیم کی ضرورت نہیں بلکہ صرف سرکاری ملازم کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وہ اپنا کام لوگوں پر نہ ڈالے۔ وہ پوری توجہ سے ایک سرکاری ملازم ہونے کے ناطے وہ اپنی ڈیوٹی انجام دے، بصورت دیگر عوام اس کی شکایت لگانے کے مجاز ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے وفادار اور محب وطن متعلقہ اعلیٰ حکام کی جانب سے جلد ہی تفتان بارڈر پر مذکورہ سرطان کا خاتمہ کیا جائے گا۔

رپورٹ: وائس آف نیشن


افکار و نظریات: taftan, reports, police, army