اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مولانا مودودی ؒ اور ایک معمّہ گزشتہ روز محترم رائے یوسف رضا دھنیالہ صاحب کا ملوکیت اور بادشاہت کی مذمّت پر مبنی ایک جامع صوتی کالم سُننے کی توفیق ہوئی۔ اُنہوں نے راجہ داہر جو کہ ایک ہندو بادشاہ تھا، اس کی اعلی انسانی اقدار کو سراہتے ہوئے بنو امیّہ اور بنو عباس کے بادشاہوں کی خوب درگت بنائی۔اُن کے تجزیے میں محمد بن قاسم کے راجہ داہر سے اقتدار ہتھیانے کی بھی خوب مذمّت کی گئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں منصف مزاجی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بادشاہت اپنے زمانے کا ایک بہترین نظامِ حکومت رہا ہے۔ ابنِ آدم کے عروج اور ارتقا میں بادشاہت کا بڑا کردار ہے۔ اللہ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے خود بھی بادشاہ متعیّن کئے ہیں۔ کوئی بھی شخص خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اگر منصف مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے تفکر، تعقل اور تدبّر کے ساتھ صرف سورہ نمل کا مطالعہ ہی کر لے تو اُس پر واضح ہو جائے گا کہ "نہ ہی تو بادشاہ یا ملکہ ہونا کوئی بُری بات ہے اور نہ ہی کسی بادشاہ کا اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانا"۔ دوسرے الفاظ میں حکومت ایک دنیاوی کام ہے یا دینی؟ اس سوال کے جواب میں مسلمانوں کے درمیان چودہ سو سال سے اختلاف ہے۔ کئی مسلمان دانشمندوں نے اپنے اپنے طریقے سے اس اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے ایک بڑا نام مولانا مودودی کا ہے۔ اختلاف یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی حکومت اُن کی عین نبوّت تھی یا یہ ایک دینی کام نہیں بلکہ ایک دنیاوی کام تھا؟ یعنی پیغمبرﷺ کے پاس دو منصب تھے، ایک بادشاہت کا اور دوسرا نبی ہونے کا؟ آپ کچھ دیر کیلئے بطورِ نبی کام کرتے تھے اور کچھ دیر کیلئے بطورِ بادشاہ؟ یا نہیں پیغمبرﷺ کی بادشاہت اور حکومت عین نبوّت اور کارِ رسالت تھی؟ اگر نبیؐ کے وصال کے بعد نبیؐ کی حکومت باقی تھی تو کیا نعوذباللہ خدا اور اُس کے رسول کو اس حکومت کو بچانے اور جاری رکھنے کی کوئی فکر نہیں تھی؟ کیا اتنا عظیم رہنما یہ بتا کر نہیں گیا کہ میرے بعد میری حکومت کون چلائے گا؟ میری قائم کردہ حکومت کے بیت المال سے رنگ رلیاں منائی جائیں گی؟ میری قائم کردہ اسلامی ریاست کی بساط لپیٹ دی جائے گی؟ اور میرے سچے پیروکاروں حتی کہ میری آل و اہل بیت کو دیوار سے لگا کر قتل کر دیا جائے گا۔؟ جب عام آدمی کی عقل اتنا کام کرتی ہے تو وہ کُلِّ عقل اور مجسمہ عقل و خِرد ہے کیا وہ اتنی بڑی سلطنت کو اپنا نائب اور جانشین بتائے بغیر چلا گیا؟ آپ کی دور اندیشی کا یہ عالم ہے کہ آپ نے اسلام کی پہلی دعوت "دعوتِ ذوالعشیر" میں ہی یہ اعلان کیا کہ آج جو بھی میری رسالت کی تصدیق کرے گا وہ میرا جانشین، وزیر، وصی اور میرا خلیفہ ہوگا۔ وہ رسول جو نماز کیلئے بھی اپنا نائب مقرر کرتا ہے کیا وہ اپنی حکومت کیلئے اپنا جانشین معیّن کرنا بھول سکتا ہے؟ آپ قرآن مجید کی نصوص پر پرکھیں،احادیثِ نبوی پرتولیں، تاریخ کو پیمانہ بنائیں، عقل کو میزان قرار دیں یا اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو جائیں! آپ پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ ایک بات تو یقینی ہے کہ اتنا بڑا رہبر و رہنما اپنے جانشین کے تعیّن سے غافل نہیں ہو سکتا۔ ہم جو صابن خریدنے دکان پر جاتے ہیں تو وہاں بھی سائنسی سوچ استعمال کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہاں بھی سائنسی سوچ کا مظاہر کیا جانا چاہیے۔ پس یہ ایک یقینی امر ہے کہ کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے ،رسولؐ خدا نے اپنا جانشین ضرور معیّن کیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ اس جھگڑے کا حل قرآن مجید اور رسولِ خدا ؐکی نصوص میں تلاش کرتے۔جانشینی پیغمبر اگر نصوص قرآن و احادیث کے مطابق طے پاتی ، وہاں آیات سُنائی جاتیں، روایات بیان کی جاتیں تو اختلاف ختم ہو جاتا۔ وہاں جانشینی پیغمبر کیلئے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ دوسرا راستہ مکّی،مہاجر، قریشی یا عمر میں بڑا ہونے کی شرائط پر مبنی تھا۔ پیغمبر اسلام نے تو مکی و مدنی، مہاجر و انصار، قریشی و حبشی کی تفریق ختم کر دی تھی۔ ان منسوخ شدہ اقدار پر جانشینِ پیغمبر کا تعیّن قطعاً قرآنی تعلیمات اور سیرت النبیؐ سے مختلف ایک دوسرا راستہ تھا۔ نقد و نظر کیجئے کہ اگر ایک چیز جو میری نہ ہو اور وہ میں کسی بھی دوسرے طریقے سے اپنے ہاتھ لے لوں تو کیا وہ میری ہو جائے گی؟ اچھا اب وہ چیز جو میری نہیں ہے اگر وہ میں استعمال کرنے کے بعد اپنے کسی دوست کو دے دوں تو یہ تو اچھی بات ہے لیکن اگر وہی چیزاپنے بیٹے کو دوں تو کیا یہ بُری بات ہے؟ حاکم شام نے فقط اتنا کیا تھا کہ قرآنی و حدیثی معیارات کے بغیر حاصل کی جانے والی حکومت اپنے کسی دوست کے بجائے اپنے بیٹے کو دے دی تھی ۔ ایسی حکومت کا انتقالِ اقتدار دوستوں کو ہو یا بیٹوں کو وہ عمل کے اعتبار سے مساوی ہے۔ اس مساوی عمل کو ہمارے ہاں مولانا مودودی نے اچھی طرح سمجھا ہے۔مولانا مودودی کا وژن ایک عالمی وژن تھا اور وہ مسائل کا حل جھگڑوں کے بجائے تدابیر میں تلاش کرنے والے انسان تھے۔ انہوں نے اُمّت میں اتحاد کیلئے آخری حد تک جانے کیلئے خلافت و ملوکیّت لکھ ڈالی۔ اس کتاب نے انتقالِ اقتدار کے مساوی ہونے کی بحث کو ملوکیّت کی طرف Divert کر دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے ملوکیّت کو اتنا برا بھا کہنا شروع کیا کہ گویا یہ لفظ گالی بن گیا۔ طرفین سُنّی و شیعہ دونوں کی تاریخی تسکین کا سارا سامان چونکہ بادشاہوں کو بُرا بھلا کہنے میں موجود ہے لہذا دونوں کو یہ موضوع راس آیا۔ اس کے بعد پڑھے لکھے سُنی و شیعہ حلقے نے بادشاہوں کو ہی اپنے سارے مسائل کا سبب گردانا اور جانا۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ طرفین نے بادشاہوں کی صورت میں اپنے مشترکہ دشمن کو پا لیا اور اُنکے خلاف دل و جان سے ایک ہو گئے۔ اور اس سے کیافرق پڑتا ہے کہ اگر کوئی شخص حقیقی اور درست راستے کے بجائے کسی بھی دوسرے راستے سے حاصل کی ہوئی کسی چیز کو اپنے کسی دوست کی آغوش میں ڈال دے یا اپنے بیٹے کو دیدے؟ جب وہ چیز آپ کی نہیں تو پھر آپ جس کو بھی دیں، وہ جسے بھی ملے گی آگے وہ بھی آپ کی طرح اُس کا مالک نہیں بنے گا چاہے وہ آپ کادوست ہو یا بیٹا۔ قانون دانوں کیلئے بھی یہ ایک اہم پہلو ہے کہ اگر حصول اقتدار ہی قانونی نہیں تو انتقالِ اقتدار پر جھگڑا کیسا؟ پتہ نہیں اہلِ اسلام میں سے سوچنے اور سمجھنے والے لوگ اس مسئلے کو کیسے حل کرتے ہونگے کہ اگر حصولِ اقتدار میں قرآن اور نبوّت کا کوئی عمل دخل نہیں تو پھر وہ اقتدار کسی دوست کو دینا تو جائز ہے اور اپنے ہی بیٹے کو دینا ناجائز کیسے ہے؟ میں نے بہت کوشش کی البتہ مجھ سے یہ معمّہ حل نہیں ہوا۔ رائے یوسف رضا دھنیالہ صاحب کا صوتی کالم
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نذر حافی
اس سے ایک بات تو یہ پتہ چلی کہ بادشاہت خود کوئی بُری شئے نہیں ہے بلکہ اقتدار کو منفی طریقے سے ہتھیانا یہ ایک قبیح عمل ہے چاہے بادشاہت کے نام پر ہو یا کسی بھی دوسرے نام پر۔
ملاحظہ فرمائیں:
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوا أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۖ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ۔ بقرہ ۲۴۷
اللہ تعالی نے حضرت طالوت ؑ کو بادشاہ بنایا، اسی طرح اللہ نے حضرت داود علیہ اسلام کو بادشاہت عطا کی۔سورہ ص کی آیت ۱۹ سے چھبیس کا مطالعہ کریں۔ حضرت داود علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ اسلام کو اپنا جانشین بنایا، سورہ نمل میں حضرت سلیمان علیہ اسلام کی بادشاہت اور دربار کی شان و شوکت کا ذکر موجود ہے۔صرف بادشاہوں کی بات ہی نہیں بلکہ اسی سورہ میں ملکه سبا کا ذکر بھی ہے۔ اسی طرح نجّاشی بھی تو ایک بادشاہ ہی تھا، جس نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔
تاریخ بشریت اور قرآن کا قطعی فیصلہ ہے کہ کسی کے بادشاہ ہونے یا اُس کے اپنے بیٹے کو جانشین بنانے میں کوئی برائی نہیں، بلکہ اقدار کو پامال کر کے اقتدار کو ہتھیانے میں قباحت ہے۔ اقدار کو پامال کر کے آپ جمہوریّت بھی قائم کریں تو اس میں برائی ہی برائی ہے۔ بے شک اپنے ہاں کی جمہوریّت کو ہی دیکھ لیجئے۔ پس قباحت اور بُرائی بادشاہت یا جمہوریّت میں نہیں بلکہ اقدار، اصولوں، معیارات اور حقائق کی پامالی میں ہے۔
مسلمانوں کے ہاں سب سے اہم دینی اقدار ہیں۔اسی لئے یہ سوال مسلمانوں کے ہاں چودہ سو سال سے گرم ہے کہ حکومت اور دینی اقدار کو ایک ہونا چاہیے یا مختلف؟
دین اور حکومت کے ایک یا الگ الگ ہونے سے ایک ہی خدا،ایک ہی نبیؐ ، ایک ہی کتاب، اور ایک ہی قبلے کے پیروکار دو مختلف نتیجوں پر پہنچتے ہیں۔
اگر پیغمبر کی نبوّت، رسالت اور حکومت ایک ہی شئے تھی تو ختمِ نبوّت کے ساتھ نبوّت تو ختم ہو گئی کیا نبی ؐ کی حکومت بھی ختم ہو گئی تھی؟
پیغمبرِ اسلامؐ ایک ایسے ایک عظیم مدبِّر، دوراندیش مفکر،بہترین قائد، بابصیرت رہنماء اور ایک بے مثال انقلابی رہنما تھے کہ آپ نے صرف تئیس سال میں مکے و مدینے کے عقائد، عبادات، تہذیب و تمدن، جغرافئے، جنگی اصلوں، صلح کی اقدار اور ۔۔۔ کو زیر و زبر کردیا ۔ 
آج ہم دیکھتے ہیں کہ عام اور چھوٹے چھوٹے رہبر و رہنما بھی اگلے پچاس سو سال کے بعد پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہمارے یہ عام سے لیڈر اتنی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں تو کیا نبی اکرم ؐ جیسا عظیم رہبر و رہنما ان خطرات کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا کہ میرے بعد میری حکومت کو بادشاہت میں تبدیل کر دیا جائے گا؟
کسی چھوٹے سے سکول یا مدرسے کا مدیر بھی اگر کسی سفر پر جائے تو یہ خلاف عقل ہے کہ وہ اپنا کوئی جانشین اور نائب بنائے بغیر چلا جائے۔ 
جب ہزاروں سال پہلے حضرت داود ؑ جیسا نبی اپنے بیٹے کو اپنی حکومت کا جانشین بنا کر گیا تو کیا جو آج کے جدید ترین عہد کا نبی ہے اور جس پر نبوّت ہی ختم ہو گئی ، اور جو سارے انبیا کا سردار ہے اور جس کا دین سارے عالمین کیلئے ہے ، کیا نعوذباللہ وہ اپنی حکومت کے جانشین بنانے کی اہمیّت کو نہیں سمجھتا تھا؟
ایک ایسا اسوہ کامل ؐ ، ایک ایسا جامع نمونہ حیاتؐ جس نے ہمارے لئے گھر سے نکلنے کی دُعا، غُسلِ جنابت کا طریقہ، بیت الخلاء کے احکام، کھانے کے آداب اور مسواک کے فوائد تک بتائے تو کیا وہ یہ نہیں بتاکر گیا کہ میرے بعد میری حکومت کا کیا بنے گا۔؟ خصوصاً جب اُسکی حکومت اس کے فرائضِ رسالت و نبوّت میں سے ہے۔
کیا اتنے دوراندیش رہبر و رہنما کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کے مسئلے پر میری ہی اُمّت میں ایسا شدید اختلاف پیدا ہوگا کہ قیامت تک انتشار اور فرقہ واریّت کا باعث بنے گا؟
قطعیّات تاریخ، سیرت النّبی اور احادیثِ رسول ؐ کے مطابق اللہ کے آخری نبی کو اپنے بعد پیش آنے والے حوادث کا علم تھا اور آپ اس حوالے سے ہمیشہ محتاط رہتے تھے۔
لمحہ فکریہ ہے کہ ابھی کوئی سلطنت نہیں ہے، حکومت نہیں ہے، غزوات نہیں ہوئے، فتوحات نہیں ہوئیں، تو اُس وقت پیغمبر کے نزدیک اپنی جانشین کا اعلان اتنا اہم تھا کہ آپ نے وہیں دعوتِ ذوالعشیر میں ہی اپنے جانشین کا اعلان کر دیا۔۔۔ تو کیا جب ریاست و حکومت تشکیل پا گئی تو پھر رسولؐ نے اپنا جانشین معیّن نہیں کیا؟
اب رسولؐ کے بعد جھگڑا اس پر ہے کہ رسولِ خدا کا وہ معیّن شُدہ جانشین کون ہے؟
یہ جھگڑا ابھی رسولِ خدا دفن نہیں ہوئے تھے اُسی وقت مدینے میں ہی سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کے درمیان ہوا۔ 
جب ایک چیز میری ہے ہی نہیں، میں نے کسی اورطریقے سے حاصل کی ہے، اب میں چاہے اسے اپنے کسی دوست کو دوں یا اپنے بیٹے کو اس کا وارث بناوں ، اس سے فرق نہیں پڑتا۔
ڈائورٹ کرنے کی اصطلاح کو یوں سمجھئے کہ جیسے ٹریفک کو کسی گلی سے بڑی شاہراہ پر ڈال دیا جاتا ہے، یا پانی کو دریا سے کاٹ کر سمندر کے بجائے کھیتوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کے افکار کو ڈائیورٹ کر کے لوگوں کی قوت تحلیل کو بھی کسی ایک نکتے سے کسی دوسرے نکتے پر متمرکز کر دیا جاتا ہے۔
مولانا مودودی ؒ کی باقیات الصالحات میں سے ان کی اتحاد اُمّت کیلئے کی جانے والی ایسی کاوشیں بھی ہیں۔ اگرچہ مخصوص حلقوں نے خلافت و ملوکیت لکھنے کی وجہ سے اُن پر تنقید بھی کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب نے وقتی طور پر مسلمانوں کے اختلافات کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ یوں مولانا مودودی کے باعث مسلمانوں کو بالاخر اپنی تاریخ پر نظرِ ثانی اور نقد و نظر کی سوچ ملی۔
اب ہمیں ملوکیّت کی طرف ڈائیورٹ ہوئے کافی سال گزر چکے ہیں۔ ڈائیورٹ ہونے کے باوجود یہ سوال تاریخِ اسلام کے طالب علموں کے دماغوں میں اپنی جگہ بنائے بیٹھا ہے کہ بادشاہت بُری شئے ہے یا اقتدار کو مسلمہ اقدار کے بجائے کسی دوسرے راستے سے حاصل کرنا؟ 
افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں