ابن ملجم کے سپاہی
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

یہ ایاّم تاجدارِ ولایت اور خلیفہ راشد حضرت امام علی ؑ کی شہادت کے ایام ہیں، پورا عالم اسلام سوگوار اور اداس ہے، لیکن فقط سوگواری اور اداسی، اس زخم کا مرہم نہیں ہے۔

اگر ہمیں مقتول سے محبت ہے تو فقط اشک بہانے یا قاتل کو برا بھلا کہنے سے اس محبت کا حق ادا نہیں ہو جائے گا۔

محبت کے دعویداروں کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہم قاتل اور مقتول میں سے کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟
یہ ٹھیک ہے کہ انیس رمضان المبارک کو قاتل نے امام علی کے سر اقدس پر ضرب لگائی اور اکیس رمضان المبارک کو آپ شہید ہوگئے، لیکن اب شہید کے غم میں رونے والوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا آپ کے کفن دفن کے ساتھ آپ ؑ کی سیرت اور مشن کو بھی دفن کرنا ہے یا اُسے باقی رکھنا ہے؟
/______👇_______/
جس نے امام علیؑ کی سیرت کو دفن نہیں کرنا اور باقی رکھنا ہے تو وہ قاتل کو بُرا بھلا کہہ کر اور اُس پر ہزاروں و لاکھوں لعنتیں بھیج کر خاموش نہیں بیٹھ جائے گا۔

اگر ہم نے شب بھر تلاوت قرآن میں بسر کی، عبادت میں گزاری اور امام کے قاتل کو برا بھلا کہا، اُس پر لاکھوں کروڑوں لعنتیں بھیجیں اورصبح کو پھر وہی رشوت، غصب، فراڈ، ملاوٹ، اور غیبت کا دھندہ کرتے رہے تو پھر ہماری زبان پر تو علی علی ہے لیکن ہم ابن ملجم کے لشکر کے سپاہی ہیں۔ ہمارے اعمال و افعال سے ابن ملجم کی مدد و نصرت ہو رہی ہے۔

اگر ہماری زندگی میں ہم نے حق کو باطل سے جدا نہ کیا، سچ اور جھوٹ کی پرکھ نہ کی، غلط کو چھوڑ کر درست کو اپنانے اور بیان کرنے کی ہمت نہ کی تو پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم زبان سے حضرت امام علی علیہ السلام کو حق پر قرار دیتے رہیں۔۔۔
امام علی علیہ السلام کو ہر دور میں ایسے حق پرستوں کی ضرورت ہے جو اپنے قول و فعل کے ساتھ حق کا ساتھ دیں۔ ورنہ زبان سے حق حق حق حق کی مالا جھپنا مقصود نہیں ۔
امیرالمومنین حضرت علی ابن ابیطالبؑ کی شہادت کا واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ محبت جو صرف زبانوں تک محدود ہو اور سیرت و عمل کی پابند نہ ہو، اسی سے خوارج اور ابن ملجم جنم لیتے ہیں۔

عبدالرحمن بن ملجم مرادی یمن کا رہنے والا تھا۔ جب خلیفہ سوم کو قتل کر دیا گیا اور حضرت علی ؑ مسند خلافت پر بیٹھے تو آپ نے یمن کے سابق حاکم کو اپنی جگہ برقرار رکھا اور انہیں خط لکھا کہ اپنے علاقے کے دس ایسے افراد کو میری طرف بھیجو جو فصیح ترین، عقلمند ترین، دانا اور فہیم ہوں تو ان دس آدمیوں میں سے ایک یہی ابن ملجم مرادی تھا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابن ملجم کوئی عام سا، سادہ لوح بندہ نہیں تھا کہ جسے دھوکے کے ساتھ قتل پر آمادہ کیا گیا ہے بلکہ اس کا شمار اپنے زمانے کے سمجھدار لوگوں میں ہوتا تھا۔

یہ چھانٹے ہوئے سمجھدار لوگ جب حضرت علی ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سلام کے بعد ابن ملجم کھڑا ہوا اور کہنے لگا:
السلام علیک ایہاالامام العادل، والبدر التمام واللّیث الہمام، والبطل الضرعام ، والفارس القمقام ومن فضّلہ اللّہ علی سائر الایام صلی اللہ علیک وعلی آلک الکرام اشہد أنّک امیرالمؤمنین صِدقاً و حقاً وأنّک وصیُّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم من بعدہ۔(بحارالانوار، ج ٤٢ ،ص٢٦٠۔)
اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ابن ملجم بھی حضرت امام علیؑ کی خلافت کا اقرار کرتا تھا اور وہ باغیوں میں سے نہیں تھا۔ اور آپ کے فضائل پر بھی ایمان رکھتا تھا۔
بعد ازاں ابن ملجم کوفہ میں ساکن ہوا۔ یہ جنگ جمل اور صفین کے دوران بھی حضرت علی ؑ کے لشکر میں تھا، بعد ازاں خوارج کا ہم فکر ہوگیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ابن ملجم کو ایسا کیا ہوا کہ یہ خلیفہ راشد اور امام وقت کا جانی دشمن بن گیا!؟
____توجہ____👇____
تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ابن ملجم کو امام کی پیروی سے نکال کر امام کی دشمنی پر آمادہ کرنے والے دو خارجی تھے۔
سوچنے کی بات ہے کہ ابن ملجم میں ایسی کیا کمزوری تھی کہ وہ خوارج کی باتوں میں آ گیا؟
ایک کا نام برک ابن عبد اللہ اور دوسرے کا نام عمرو بن بکر تمیمی ہے۔ یہ خارجی وہ لوگ تھے، جو صرف قرآن پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتے تھے اور یہ جنگ صفین میں حضرت امام علی ؑ سے جدا ہوگئے تھے۔
یہ بھی انتہائی فکر انگیز سوال ہے کہ خوارج میں ایسی کون سی کمزوری تھی کہ وہ عمرابن عاص اور حاکم شام معاویہ کی چالوں میں آگئے؟
خوارج تو اپنے آپ کو اتنا سمجھدار اور عقلمند سمجھتے تھے کہ قرآن سے اپنے مسائل خود حل کرنے کے درپے تھے اور امام علیؑ کی اطاعت کے بجائے صرف اللہ اور قرآن کی اطاعت کا نعرہ لگاتے تھے۔
یہ لوگ اول درجے کے عبادت گزار اور قاری قرآن تھے، لیکن قومی، سیاسی اور اجتماعی مسائل کو نہیں سمجھتے تھے۔
چنانچہ مکے میں ابن ملجم کو انہوں نے اس بات پر قائل کیا کہ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ نعوذ باللہ حضرت امام علیؑ، قرآن پر عمل نہیں کر رہے اور حکم خدا پر عمل نہیں ہو رہا۔ ابن ملجم ان کی دلیلوں سے قائل ہوگیا اور اس نے ان سے وعدہ کیا کہ عالم اسلام کے سیاسی مسائل کے حل کے لئے وہ امیرالمومنین ؑ کو شہید کرے گا۔

ابن ملجم جیسا سمجھدار شخص بھی قومی، ملی، اجتماعی اور سیاسی سوجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے خوارج کے ہمراہ ہوگیا اور خلیفۃ اللہ اور خلیفۃ الرسولﷺ کے قتل کا مرتکب ہوا۔
اس سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اسلام فقط عبادات اور تلاوت قرآن نیز خلافت و امامت وغیرہ کے چند مسائل رٹ لینے اور حضرت علیہ السّلام و اہل بیت علیھم السلام کے فضائل بیان کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کے لئے مقامی، ملی، اجتماعی، بین الاقوامی اور سیاسی شعور اور جدید تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھنا بھی ضروری ہے۔
ورنہ جس آدمی کو اسلام کے جدید تقاضوں اور قوم کے حالات حاضرہ کا شعور نہ ہو تو خوارج کی طرح کوئی بھی اپنی مرضی کی چند آیات سنا کر اور چند احادیث کو جوڑ توڑ کر، اس کے دین سے کھیل سکتا ہے، اس کی نماز و روزے کو بدل سکتا ہے، اسے خودکش بمبار بننے پر تیار کرسکتا ہے اور اسلام کی محبت کے نام پر بے گناہ انسانوں کو قتل کروا سکتا ہے۔ آج بھی یہ جتنے بھی بے گناہ انسانوں کے قاتل، ہمارے ارد گرد موجود ہیں، ان سب کو اسلام کے نام پر ہی تیار کیا گیا ہے۔

یہ آج جو دنیا میں قرآن و حدیث کا نام لے کر، لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے، یہ خوارج اور ابن ملجم کا طرز عمل ہے۔ اگر ہم اپنے زمانے کے خوارج اور ابن ملجم کو روکنا چاہتے ہیں، اگر ہم امیرالمومنینؑ حضرت علی ابن بیطالب ؑ کی طرح دین کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں معاشرے میں سنی سنائی باتوں کے بجائے، دین کی حفاظت کے لئے دین کے فہمِ عمیق اور حقیقی دینی تعلیمات کی حاکمیت کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ ہماری زبانوں پر نام علیؑ کے ساتھ ہمارے کاموں میں بھی سیرت علیؑ کی جھلک ہونی چاہیے۔
ورنہ یاد رکھئے! وہ محبت جو سیاسی و سماجی، قومی و اجتماعی آگاہی کے بغیر آنکھیں بند کر کے صرف زبانوں تک محدود ہو اور شعور و آگاہی کے ساتھ سیرت و عمل کی پابند نہ ہو، اسی سے گمراہیاں پھیلتی ہیں اور خوارج اور ابن ملجم جنم لیتے ہیں۔


افکار و نظریات: نذر حافی Nazar hafi