مولانا ملک محسن علی عمرانی مرحوم
تحقیق و تحریر :گلزار احمد
ریٹائرڈ ڈائریکٹر نیوز ریڈیو پاکستان، مصنف و کالم نگار

تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے مجاہد، نظریہ پاکستان کے نقیب ، ادیب، محقق، دانشور، شعری مجموعے "سنبل و ریحان" اور " اداس کیوں ہو " کے خالق اور ایک عہد ساز شخصیت ۔
یوں تو اس روئے زمین پر ہر دن نہ جانے کتنی شخصیات پیدا ہوتی ہیں اور کتنے افراد اپنی عارضی زندگی کے لمحات پوری کر کے راہیئ ملک عدم ہو جاتے ہیں۔ لیکن انسانوں کی اس بھیڑ میں کچھ ایسے بھی افراد ہوتے ہیں جو اپنی گوں نا گوں خصوصیات اور عظیم الشان خدمات کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں پر مرتسم ہو کر رہ جاتے ہیں۔مولانا ملک محسن علی عمرانی بھی ایسی ہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔

تحریک آزادی پاکستان کے ہراول دستے کے مجاہد، نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کے نقیب، ادیب اور دانشور، علمی، فکری و ادبی اور ایک عہد ساز و نابغہ روزگار شخصیت مولانا ملک محسن علی عمرانی1917 کو سرائیکی وسیب کے عظیم مرثیہ نگار شاعر و عالم دین حضرت مولانا محمود مولائی ؒ کے خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بعد 1935میں آپ کے والد مرحوم مولانا خدابخش نے آپ کو عربی, فارسی اور مولوی فاضل کی تعلیم کے لئیے برصغیر کے مشہور و معروف دینی درسگاہ مدرستہ الواعظین لکھنؤ میں داخل کرا دیا۔

مولانا محسن علی عمرانی 1917 کو سرائیکی وسیب کے عظیم مرثیہ نگار شاعر و عالم دین حضرت مولانا محمود مولائی ؒ کے خانوادے میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی و ثانوی تعلیم ڈیرہ اسماعیل خان میں مکمل کرنے کے بعد 1935میں آپ کے والد مرحوم مولانا خدابخش مولائی نے آپ کو عربی، فارسی اور مولوی فاضل کی تعلیم کے لیے برصغیر کے مشہور و معروف دینی درسگاہ مدرستہ الواعظین لکھنؤ میں داخل کرا دیا۔
آپ نے سلطان ُ المدارس لکھنؤ سے 1938میں منشی فاضل (عربی فارسی) کی سند حاصل کی۔ پھر مدرستہ الواعظین میں چلے گئے۔ خوش قسمتی سے اس مدرسہ میں رہائش کے لیے آپکو اور علامہ نجم الحسن کراروی کو ایک ہی کمرہ دیا گیا۔ اس وقت آیت اللہ قبلہ سید عدیل اختر مدرستہ الواعظین کے مدیر تھے جو آپ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

آیت اللہ قبلہ سید عدیل اختر نے مولانا محسن علی کو "عمرانی" کے لقب سے نوازا جو بعد ازاں ان کا تخلص ٹھہرا جو کہ خاندان کی وجہ ِ شہرت بنا۔
آپ نے وہاں سے صدر الافاضل کی سند حاصل کی۔ صدر الافاضل کی سند اس عہد میں حوزہ علمیہ لکھنؤ کی اعلیٰ ترین سند تھی۔ جو حوزہ علمیہ نجف میں اجازہ اجتہاد کے ہم پلہ شمار ہوتی تھی۔

مولانا محسن علی عمرانی نے اپنے دروس اور تحقیقی کاموں کے نتیجے میں جوانی میں ہی کلام ،فلسفہ،منطق، ادب،فقہ، حدیث اور تفسیر کی دنیا میں کئی گرانقدر خدمات انجام دیں۔
صدر الافاضل کی سند حاصل کرنے کے بعد بعدمسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے مذید تعلیم حاصل کرنے کی خاطر منسلک ہو گئے۔
علی گڑھ مسلم طلبہ کا سب سے بڑا مرکز تھا اور قومی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرنے کی استعداد رکھتا تھا۔ پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو بہت سے طلبہ جو برصغیر کے مختلف حصوں سے آئے تھے شامل ہونے لگے۔

جلد ہی علی گڑھ میں مسلمان طلبہ کا ایک کیمپ منعقد ہوا جس میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر راجہ صاحب محمود آباد بھی شریک ہوئے۔ وہیں پر مولانا محسن علی عمرانی کی ملاقات علامہ راغب احسن سے ہوئی۔

دونوں کی ملاقاتوں اور ایک جیسی فکر و سوچ کی بدولت جلد ہی یہ تعلق دوستی میں تبدیل ہو گیا۔

بتاتا چلوں کہ علامہ راغب احسن وہ عہد ساز شخصیت تھیں کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح 1935ء میں برطانیہ سے ہندوستان تشریف لائے تو دلی کی سرزمین پر تین اہم شخصیتوں محمد علی جناح، علامہ اقبال اور علامہ راغب احسن نے ایک کمرے میں بیٹھ کر گھنٹوں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار اور عالمی حالات و واقعات پر باتیں کیں۔
1940 میں تعلیم مکمل کرنے بعد جب ڈیرہ اسماعیل خان واپس آئے تو لکھنؤ اور علیگڑھ میں تحریک پاکستان اور مختلف شخصیات خصوصا علامہ راغب احسن سے متاثر ہو کر مقامی نوجوانوں کو جمع کر کے علامہ راغب احسن کے حکم پر اور شہزادہ فضل داد خان جو کہ بحیثیت صدر مسلم لیگ، محمد نواز خان اور جنرل سیکریٹری مولا داد خان بلوچ کام کررہے تھے کہ مکمل تعاون اور سرپرستی کے نوجوانان ِمسلم لیگ کی بنیاد ڈالی اور سب سے پہلے جنرل سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور جوانوں کو یکجا کر کے بزرگوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔

مولانا محسن علی عمرانی ایک شعلہ بیاں مقرر، بلا کے خطیب اور غضب کی زبان آور گفتگو کرنے والے تھے۔ تقریر کے دوران اپنے لکھے ہوئے قطعات جب جلسوں میں پڑھتے تو لوگوں کے جوش و خروش میں اضافہ کردیتے۔

جب ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک پاکستان کے حوالے سے سوّل نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی اور روزانہ کی بنیاد پہ جب حافظ جمال والے میدان سے احتجاجی اور گرفتاری پیش کرنے کا جلوس نکلتا تو چوگلے کے نیچے لوگ انتظار میں خود بخود رُک جاتے کہ مولانا محسن عمرانی نے تقریر کرنی ہے۔

تحریک پاکستان کے حوالے سے ایسی مدلل تقریر ہوتی کہ لوگوں میں مذید جذبہ پیدا ہوتا اور روزانہ کی بنیاد پر درجنوں اشخاص گرفتاری پیش کرتے۔

اکابرین اور مسلم لیگ کے رہنماؤں سے مسلسل رابطہ اور خط و کتابت مولانا محسن علی عمرانی کی ہی زمہ داری تھی اور اکابرین کے حکم کے علاوہ پیر زلطیف خان زکوڑی، حاجی محمد رمضان ایڈووکیٹ، فضل الرحمن خواجکزئی اور مولا داد خان کے مشورہ کے مطابق کہ آپ نے اپنی گرفتاری پیش نہیں کرنی بلکہ روزانہ کی بنیاد پر نکلنے والے جلوسوں اور جلسوں کے انتظامات اور گرفتار ہونے والوں کی فہرستیں بنانا اور پشاور و علی گڑھ بھیجنا اور تمام دفتری امور آپ کی زمہ داری ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناح جب چند گھنٹوں کے لیئے ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تو نوجوانان مسلم لیگ کی طرف سے محترمہ فاطمہ جناح اور عبدالقیوم خان کی موجودگی میں قائد اعظم کو سپاس نامہ پیش کرنے کا اعزاز بھی مولانا محسن علی عمرانی کو حاصل ہے آج بھی ڈیرہ کے بزرگ اور تحریکی سپاہی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مولانا محسن عمرانی نے سپاس نامہ پیش کرنے اور تقریرکے دوران قائد اعظم کے بارے جو رباعی پڑھی تو وہ اتنی مقبول ہوئی کہ گلی محلوں اور جلسوں میں لوگ بار بار دہراتے۔

لاکھوں میں فقط ایک مسلماں دیکھا

میدانِ سیاست میں نمائیاں دیکھا
جو بِک نہ سکا غیر کے ہاتھوں محسن ؔ

اے قائدِ اعظم تیرا ایماں دیکھا

1945-46ء کے انتخابات کے سلسلے میں عبدالرحیم خان سدوزئی، اللہ بخش چوڑیگر، ڈاکٹر میر عالم خان راقب، نوابزادہ ذوالفقار خان اور سردار ربنوازکوکب سرحدی کے ساتھ مل کر بحثیت سٹی لیگ نمائیندے مسلم لیگ کے لیئے مسلسل گھر گھر جا کر لوگوں کو قائل کیا اور آگاہی دی اور ووٹ مانگتے رہے۔

انہی انتخابات میں مسلم لیگ کی شاندار کامیابی کے بعد قائدِ اعظم کی صدارت میں 1946ء میں منتخب نمائندوں کا دہلی میں کنونشن منعقد ہوا اور علامہ راغب احسن نے مولانا محسن علی عمرانی کواس کنونشن میں شرکت کی خصوصی دعوت دی جس میں علاقائی مسائل اور دوسری زمہ داریوں کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔
1945میں جب بلوچستان میں تباہ کُن زلزلہ آیا تھا تو والد مرحوم کی سربراہی میں سردار ربنواز کوکب، عبد الکریم صابر، عطاء اللہ خان عطاء اور دیگر تحریکی ولیگی اور ادبا دوستوں نے متاثرین کی امداد کے لیے ایک بھر پور مہم چلائی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ہر بازار اور محلہ سے امدادی سامان اکٹھا کیا اور مطلوبہ علاقوں میں پہنچانے کی خاطر استاد جمعہ خان مقامی ٹرانسپورٹر نے اپنے دو ٹرک بغیر معاوضے کے سامان لے جانے کے لیے فی سبیل اللہ دیے.
1947 میں قیام پاکستان کے بعد اکابرین ومشاہیر کے حکم پر ہجرت کر کے ڈیرہ اسماعیل خان میں آنے والے مسلمانوں کی رہائش، طعام، خدمت اور بحالی کے لیے بے لوث اور بغیر کسی لالچ و صلہ و ستائش کے دن رات کام کیا۔
1950میں جب ملک خدا بخش ایڈووکیٹ دستور ساز اسمبلی کے ارکان تھے اور زکواۃ کے بارے کچھ تضادات اور دشواری پیش آئی تو ملک خدا بخش ایڈووکیٹ نے قران و سنت واحادیث کی روشنی میں ان تضادات کو ختم کرنے کے لیے مولانا محسن علی عمرانی کی مشاورت سے قران و احادیث کی روشنی میں ایک سوالنامہ ترتیب دیا جسے اس وقت کے تمام جید علما کو بھیجا گیا تاکہ ان تضادات کا خاتمہ کیا جا سکے جو زکواۃ کے معاملے میں دشواری پیدا کر رہے تھے۔
1954میں جب پاکستان کا سرکاری طور پر قومی ترانہ نشر کیا گیا تو اگلے سال 1955 میں یوم آزادی کے موقع پر مولانا محسن علی عمرانی کی سربراہی میں اسلامیہ اسکول سے ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا اور سرزمینِ ڈیرہ اسماعیل خان میں پہلی دفعہ جلوس نکلنے سے پہلے اوراپنی تقریر سے پہلے تمام مہمانان و اکابرین کو بطور ادب اپنی نشتوں پر کھڑا کر کے قومی ترانہ پڑھنے کا اعزاز بھی مولانا محسن علی عمرانی کو حاصل ہے۔

1965میں خطابت کے سلسلے میں علامہ مرزا یوسف کے ساتھ کھاریاں گئے ہوئے تھے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کر دیا اور اس وقت صدر ایوب خان کی اپیل کہ ”ایک پیسہ۔ 2ٹینک“ کی مہم میں اسی وقت چودھری محمد اکرام ایڈووکیٹ جو اس وقت ضلع کھاریاں کی مسلم لیگ کے صدر تھے کے ساتھ کھاریاں شہر کے کونے کونے سے ملک کی حفاظت اور پاک فوج کے لیے چندہ اور اشیاء حاصل کیں۔۔

واپس ڈیرہ آکربھی اسی مہم کو زور و شور سے جاری رکھا ڈیرہ کے غیرت مند لوگوں نے قومی جوش جذبہ کے ساتھ دفاعی فنڈ میں عطیات کے ڈھیر لگا دیے۔
ادبی خدمات
ویسے تو خاندانی ادبی و تحقیقی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے کمسنی ہی سے شاعری کا آغاز کیا اور اپنے والد مولانا خدا بخش مرحوم سے اصلاح لیتے۔

لکھنؤ جیسی ادب کی سر زمین پر جانے اور وہاں کی ادبی محفلوں میں شرکت اور وہاں کے شعرا سے دوستی کی وجہ سے اس وقت لکھنٗو کے مشہور و معروف شاعر جناب بہزاد لکھنؤی کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی اور ان سے اصلاح لیتے تھے جو اس وقت آل انڈیا ریڈیو سے منسلک تھے۔

انہی کے توسط سے 1938میں آل انڈیا ریڈیو کے زیر انتظام ہونے والے کل ہندوستان مشاعرے میں اپنی غزل پڑھ کر ڈھیروں داد وصول کرنے کے ساتھ ساتھ مشہور و معروف شاعر استاد قمر جلالوی سے حوصلہ افزائی کی خصوصی تھپکی اور داد اعزاز سمجھ کر وصول کی اور جوانی ہی میں لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنا لی۔

مشاعرے میں پڑھی گئی غزل:

برہمی کا کوئی علاج کرو
میرے جی کا کوئی علاج کرو
آدمی، آدمی کو ڈستا ہے
آدمی کا کوئی علاج کرو

ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک پاکستان کے علاوہ ترویج ادب کی خاطر بھی دن رات کام کیا۔ بزم اقبال, ادارہ علم و فن کے علاوہ کئی ادبی تنظیموں کے روح رواں اور بانی تھے اور درجنوں یادگار اور عظیم الشان کل پاکستان مشاعروں کا انعقاد کیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے پہلی باقاعدہ سرائیکی ادبی تنظیم کی بنیاد رکھ کے سرائیکی شعراء کو ایک پلیٹ فارم پہ لانے کا سہرا بھی آپ ہی کے سر ہے۔

تقسیم پاکستان کے بعد ملکی سطح کی ادبی تنظیم بزم اقبال کے صدر کی حیثیت سے ٓپ نے یوم اقبال پر اسلامیہ سکول میں ایک سالانہ کل پاکستان مشاعرے کی بنیاد رکھی، اس مشاعرے کی خصوصی بات یہ ہوتی کے تمام شعراء کرام کو ایک جلوس کی شکل میں توپاں والے بازار سے گھاس منڈی، چوگلہ اور مسلم بازار کے راستے اسلامیہ سکول لایا جاتا تھا ۔

راستے میں لوگ باہر سے آئے ہوئے شعراء کا استقبال پھولوں اور ہاروں سے کرتے اور پھر عظیم الشان مشاعرہ شروع ہو جاتا۔
مولانا محسن علی عمرانی ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے،ایسی ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک تحریکی و ادبی شخصیت تھے بلکہ ایک مذہبی بلند پایہ خطیب، مبلغ، صاحب علم و عرفان اور روحانی شخصیت بھی تھے۔

محرم الحرام کے عشرے اور مجالس میں شیعہ سنی بلا تفریق مولانا محسن علی عمرانی کے علم اور انداز ِ خطابت کو سراہتے نظر آتے۔

آج بھی ان کے چاہنے والے انکے علم، انداز اور فن خطابت کو کبھی نہ بھول پائے۔

31 مارچ 1979 میں یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹاؤن ہال میں اپنے ہی منعقدہ کردہ مشاعرے کے بعد رات 12 بجے دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

التماسِ فاتحہ

انہوں نے کافی تعداد میں اپنا غیر مطبوعہ کلام چھوڑا جو انکی وفات کے بعد انکے بیٹوں نے کچھ کلام دو کتابوں ''سنبل و ریحان '' اور دوسری ''اداس کیوں ہو'' کی صورت میں پیش کیا۔ انکی 4 کتابوں کے غیر مطبوعہ کلام پر بھی کام جاری ہے، جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
سلسبیل و مؤدت (مناقب و سلام)
نکہت و نور (مناقب و سلام)
فرات ِ فکر (مناقب و سلام)
فکرَ محسن (مناقب و سلام)

مولانا کی وفات کے بعد تین چار سال تک تو باقاعدہ سرکاری و سیاسی طور پر انکی یاد میں تقریبات، سیمنار اور مشاعرے منعقد ہوتے رہے۔ لیکن اس کے بعد ہم ایسی عہد ساز شخصیت کو تاریخ کی گرد اور زمان و مکاں کی دھول کے غلاف میں لپیٹ کر بھول گئے۔

حالانکہ ہر قوم کو پہچان دینے والی اور خطے کی بنیاد پڑنے سے لے کر مختلف شعبہء ہائے زندگی میں اُس شہر اورمعاشرے کے لئے اپنی نمایاں خدمات کی وجہ سے اس درجہ ممتاز ہوجایا کرتی ہیں کہ وہ معاشرہ ان کی خدمات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رکھنے کا بالخصُوص اہتمام کیا کرتا ہے اور اس ضمن میں نہ صرف پہلے سے موجودعمارات، سڑکوں، راستوں وغیرہ کو ایسی شخصیات کے ناموں سے منسُوب کرتے ہیں بلکہ ایسی شخصیات کے نام پر نئے اداروں اور دیگر یادگاروں کی بنیاد ڈال کر، ایسی شخصیات کے کارناموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دیتے ہیں۔ زندہ اورخودمختار قومیں اپنی آزادی کا جشن شان و شوکت سے مناتی ہیں۔

ایسے موقع پر اپنے قومی مشاہیر کو یاد کرنا اورانہیں خراج تحسین پیش کرنا بھی زندہ قوموں کو نشانی ہے۔

اس جشن آزادی کے موقع پر حکومت وقت اور متعلقہ اداروں سے ہم بحیثیت ڈیرہ وال یہ پُر زور گزارش و درخواست کرتے ہیں کہ مولانا محسن علی عمرانی جیسے تحریک پاکستان کے مجاہد، اتحاد بین المسلمین کے داعی اور عظیم شخصیت مولانا محسن علی عمرانی کے نام پر کوئی سڑک، عمارت یا انہی کے آبائی محلہ کا نام باقاعدہ سرکاری طور انکے نام سے منسوب کیا جائے۔



اس تحقیقی مضمون کی تمام معلومات مولا داد خان بلوچ کی ڈیرہ کی تاریخ کے بارے کتاب "ڈیرہ کی کہانی، محترم حمید نظامی اور عبدالستار نیازی کی سرپرستی میں چھپنے والی کتاب "مسلم سٹوڈنٹس فیڈرشن کی خدمات" ، استاد تسلیم فیروز کی کتاب "ڈیرہ کی ادبی محفلیں " ، پروفیسر طاہر جاوید صاحب کا مشہور شاعر و محقق و ادیب قیصرنجفی پہ لکھا گیا ایم فل کا مقالہ، ماضی کے مقامی ہفت روزہ اخبارات غالب، مخلص، کوثر اور پیام نُو میں شائع معروف ادباء و محقیقین کے مختلف کالم و مضامین، معروف شاعر و ادیب بزرگوار عبداللہ خان یزدانی و دیگر تحریکی بزرگوں کے انٹرویوز اور وجاہت علی عمرانی کی مہیا کردہ مولانا ملک محسن علی عمرانی کی ہاتھ کی لکھی ہوئی ذاتی ڈائریوں سے لی گئی ہیں۔


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly