اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مولانا ملک محسن علی عمرانی مرحوم تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے مجاہد، نظریہ پاکستان کے نقیب ، ادیب، محقق، دانشور، شعری مجموعے "سنبل و ریحان" اور " اداس کیوں ہو " کے خالق اور ایک عہد ساز شخصیت ۔ تحریک آزادی پاکستان کے ہراول دستے کے مجاہد، نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کے نقیب، ادیب اور دانشور، علمی، فکری و ادبی اور ایک عہد ساز و نابغہ روزگار شخصیت مولانا ملک محسن علی عمرانی1917 کو سرائیکی وسیب کے عظیم مرثیہ نگار شاعر و عالم دین حضرت مولانا محمود مولائی ؒ کے خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بعد 1935میں آپ کے والد مرحوم مولانا خدابخش نے آپ کو عربی, فارسی اور مولوی فاضل کی تعلیم کے لئیے برصغیر کے مشہور و معروف دینی درسگاہ مدرستہ الواعظین لکھنؤ میں داخل کرا دیا۔ مولانا محسن علی عمرانی 1917 کو سرائیکی وسیب کے عظیم مرثیہ نگار شاعر و عالم دین حضرت مولانا محمود مولائی ؒ کے خانوادے میں پیدا ہوئے۔ آیت اللہ قبلہ سید عدیل اختر نے مولانا محسن علی کو "عمرانی" کے لقب سے نوازا جو بعد ازاں ان کا تخلص ٹھہرا جو کہ خاندان کی وجہ ِ شہرت بنا۔ مولانا محسن علی عمرانی نے اپنے دروس اور تحقیقی کاموں کے نتیجے میں جوانی میں ہی کلام ،فلسفہ،منطق، ادب،فقہ، حدیث اور تفسیر کی دنیا میں کئی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ جلد ہی علی گڑھ میں مسلمان طلبہ کا ایک کیمپ منعقد ہوا جس میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر راجہ صاحب محمود آباد بھی شریک ہوئے۔ وہیں پر مولانا محسن علی عمرانی کی ملاقات علامہ راغب احسن سے ہوئی۔ دونوں کی ملاقاتوں اور ایک جیسی فکر و سوچ کی بدولت جلد ہی یہ تعلق دوستی میں تبدیل ہو گیا۔ بتاتا چلوں کہ علامہ راغب احسن وہ عہد ساز شخصیت تھیں کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح 1935ء میں برطانیہ سے ہندوستان تشریف لائے تو دلی کی سرزمین پر تین اہم شخصیتوں محمد علی جناح، علامہ اقبال اور علامہ راغب احسن نے ایک کمرے میں بیٹھ کر گھنٹوں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار اور عالمی حالات و واقعات پر باتیں کیں۔ مولانا محسن علی عمرانی ایک شعلہ بیاں مقرر، بلا کے خطیب اور غضب کی زبان آور گفتگو کرنے والے تھے۔ تقریر کے دوران اپنے لکھے ہوئے قطعات جب جلسوں میں پڑھتے تو لوگوں کے جوش و خروش میں اضافہ کردیتے۔ جب ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک پاکستان کے حوالے سے سوّل نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی اور روزانہ کی بنیاد پہ جب حافظ جمال والے میدان سے احتجاجی اور گرفتاری پیش کرنے کا جلوس نکلتا تو چوگلے کے نیچے لوگ انتظار میں خود بخود رُک جاتے کہ مولانا محسن عمرانی نے تقریر کرنی ہے۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے ایسی مدلل تقریر ہوتی کہ لوگوں میں مذید جذبہ پیدا ہوتا اور روزانہ کی بنیاد پر درجنوں اشخاص گرفتاری پیش کرتے۔ اکابرین اور مسلم لیگ کے رہنماؤں سے مسلسل رابطہ اور خط و کتابت مولانا محسن علی عمرانی کی ہی زمہ داری تھی اور اکابرین کے حکم کے علاوہ پیر زلطیف خان زکوڑی، حاجی محمد رمضان ایڈووکیٹ، فضل الرحمن خواجکزئی اور مولا داد خان کے مشورہ کے مطابق کہ آپ نے اپنی گرفتاری پیش نہیں کرنی بلکہ روزانہ کی بنیاد پر نکلنے والے جلوسوں اور جلسوں کے انتظامات اور گرفتار ہونے والوں کی فہرستیں بنانا اور پشاور و علی گڑھ بھیجنا اور تمام دفتری امور آپ کی زمہ داری ہیں۔ لاکھوں میں فقط ایک مسلماں دیکھا میدانِ سیاست میں نمائیاں دیکھا اے قائدِ اعظم تیرا ایماں دیکھا 1945-46ء کے انتخابات کے سلسلے میں عبدالرحیم خان سدوزئی، اللہ بخش چوڑیگر، ڈاکٹر میر عالم خان راقب، نوابزادہ ذوالفقار خان اور سردار ربنوازکوکب سرحدی کے ساتھ مل کر بحثیت سٹی لیگ نمائیندے مسلم لیگ کے لیئے مسلسل گھر گھر جا کر لوگوں کو قائل کیا اور آگاہی دی اور ووٹ مانگتے رہے۔ انہی انتخابات میں مسلم لیگ کی شاندار کامیابی کے بعد قائدِ اعظم کی صدارت میں 1946ء میں منتخب نمائندوں کا دہلی میں کنونشن منعقد ہوا اور علامہ راغب احسن نے مولانا محسن علی عمرانی کواس کنونشن میں شرکت کی خصوصی دعوت دی جس میں علاقائی مسائل اور دوسری زمہ داریوں کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ 1965میں خطابت کے سلسلے میں علامہ مرزا یوسف کے ساتھ کھاریاں گئے ہوئے تھے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کر دیا اور اس وقت صدر ایوب خان کی اپیل کہ ”ایک پیسہ۔ 2ٹینک“ کی مہم میں اسی وقت چودھری محمد اکرام ایڈووکیٹ جو اس وقت ضلع کھاریاں کی مسلم لیگ کے صدر تھے کے ساتھ کھاریاں شہر کے کونے کونے سے ملک کی حفاظت اور پاک فوج کے لیے چندہ اور اشیاء حاصل کیں۔۔ واپس ڈیرہ آکربھی اسی مہم کو زور و شور سے جاری رکھا ڈیرہ کے غیرت مند لوگوں نے قومی جوش جذبہ کے ساتھ دفاعی فنڈ میں عطیات کے ڈھیر لگا دیے۔ لکھنؤ جیسی ادب کی سر زمین پر جانے اور وہاں کی ادبی محفلوں میں شرکت اور وہاں کے شعرا سے دوستی کی وجہ سے اس وقت لکھنٗو کے مشہور و معروف شاعر جناب بہزاد لکھنؤی کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی اور ان سے اصلاح لیتے تھے جو اس وقت آل انڈیا ریڈیو سے منسلک تھے۔ انہی کے توسط سے 1938میں آل انڈیا ریڈیو کے زیر انتظام ہونے والے کل ہندوستان مشاعرے میں اپنی غزل پڑھ کر ڈھیروں داد وصول کرنے کے ساتھ ساتھ مشہور و معروف شاعر استاد قمر جلالوی سے حوصلہ افزائی کی خصوصی تھپکی اور داد اعزاز سمجھ کر وصول کی اور جوانی ہی میں لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنا لی۔ مشاعرے میں پڑھی گئی غزل: برہمی کا کوئی علاج کرو ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک پاکستان کے علاوہ ترویج ادب کی خاطر بھی دن رات کام کیا۔ بزم اقبال, ادارہ علم و فن کے علاوہ کئی ادبی تنظیموں کے روح رواں اور بانی تھے اور درجنوں یادگار اور عظیم الشان کل پاکستان مشاعروں کا انعقاد کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے پہلی باقاعدہ سرائیکی ادبی تنظیم کی بنیاد رکھ کے سرائیکی شعراء کو ایک پلیٹ فارم پہ لانے کا سہرا بھی آپ ہی کے سر ہے۔ تقسیم پاکستان کے بعد ملکی سطح کی ادبی تنظیم بزم اقبال کے صدر کی حیثیت سے ٓپ نے یوم اقبال پر اسلامیہ سکول میں ایک سالانہ کل پاکستان مشاعرے کی بنیاد رکھی، اس مشاعرے کی خصوصی بات یہ ہوتی کے تمام شعراء کرام کو ایک جلوس کی شکل میں توپاں والے بازار سے گھاس منڈی، چوگلہ اور مسلم بازار کے راستے اسلامیہ سکول لایا جاتا تھا ۔ راستے میں لوگ باہر سے آئے ہوئے شعراء کا استقبال پھولوں اور ہاروں سے کرتے اور پھر عظیم الشان مشاعرہ شروع ہو جاتا۔ محرم الحرام کے عشرے اور مجالس میں شیعہ سنی بلا تفریق مولانا محسن علی عمرانی کے علم اور انداز ِ خطابت کو سراہتے نظر آتے۔ آج بھی ان کے چاہنے والے انکے علم، انداز اور فن خطابت کو کبھی نہ بھول پائے۔ 31 مارچ 1979 میں یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹاؤن ہال میں اپنے ہی منعقدہ کردہ مشاعرے کے بعد رات 12 بجے دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ التماسِ فاتحہ انہوں نے کافی تعداد میں اپنا غیر مطبوعہ کلام چھوڑا جو انکی وفات کے بعد انکے بیٹوں نے کچھ کلام دو کتابوں ''سنبل و ریحان '' اور دوسری ''اداس کیوں ہو'' کی صورت میں پیش کیا۔ انکی 4 کتابوں کے غیر مطبوعہ کلام پر بھی کام جاری ہے، جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں: مولانا کی وفات کے بعد تین چار سال تک تو باقاعدہ سرکاری و سیاسی طور پر انکی یاد میں تقریبات، سیمنار اور مشاعرے منعقد ہوتے رہے۔ لیکن اس کے بعد ہم ایسی عہد ساز شخصیت کو تاریخ کی گرد اور زمان و مکاں کی دھول کے غلاف میں لپیٹ کر بھول گئے۔ حالانکہ ہر قوم کو پہچان دینے والی اور خطے کی بنیاد پڑنے سے لے کر مختلف شعبہء ہائے زندگی میں اُس شہر اورمعاشرے کے لئے اپنی نمایاں خدمات کی وجہ سے اس درجہ ممتاز ہوجایا کرتی ہیں کہ وہ معاشرہ ان کی خدمات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رکھنے کا بالخصُوص اہتمام کیا کرتا ہے اور اس ضمن میں نہ صرف پہلے سے موجودعمارات، سڑکوں، راستوں وغیرہ کو ایسی شخصیات کے ناموں سے منسُوب کرتے ہیں بلکہ ایسی شخصیات کے نام پر نئے اداروں اور دیگر یادگاروں کی بنیاد ڈال کر، ایسی شخصیات کے کارناموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دیتے ہیں۔ زندہ اورخودمختار قومیں اپنی آزادی کا جشن شان و شوکت سے مناتی ہیں۔ ایسے موقع پر اپنے قومی مشاہیر کو یاد کرنا اورانہیں خراج تحسین پیش کرنا بھی زندہ قوموں کو نشانی ہے۔ اس جشن آزادی کے موقع پر حکومت وقت اور متعلقہ اداروں سے ہم بحیثیت ڈیرہ وال یہ پُر زور گزارش و درخواست کرتے ہیں کہ مولانا محسن علی عمرانی جیسے تحریک پاکستان کے مجاہد، اتحاد بین المسلمین کے داعی اور عظیم شخصیت مولانا محسن علی عمرانی کے نام پر کوئی سڑک، عمارت یا انہی کے آبائی محلہ کا نام باقاعدہ سرکاری طور انکے نام سے منسوب کیا جائے۔ اس تحقیقی مضمون کی تمام معلومات مولا داد خان بلوچ کی ڈیرہ کی تاریخ کے بارے کتاب "ڈیرہ کی کہانی، محترم حمید نظامی اور عبدالستار نیازی کی سرپرستی میں چھپنے والی کتاب "مسلم سٹوڈنٹس فیڈرشن کی خدمات" ، استاد تسلیم فیروز کی کتاب "ڈیرہ کی ادبی محفلیں " ، پروفیسر طاہر جاوید صاحب کا مشہور شاعر و محقق و ادیب قیصرنجفی پہ لکھا گیا ایم فل کا مقالہ، ماضی کے مقامی ہفت روزہ اخبارات غالب، مخلص، کوثر اور پیام نُو میں شائع معروف ادباء و محقیقین کے مختلف کالم و مضامین، معروف شاعر و ادیب بزرگوار عبداللہ خان یزدانی و دیگر تحریکی بزرگوں کے انٹرویوز اور وجاہت علی عمرانی کی مہیا کردہ مولانا ملک محسن علی عمرانی کی ہاتھ کی لکھی ہوئی ذاتی ڈائریوں سے لی گئی ہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

تحقیق و تحریر :گلزار احمد
ریٹائرڈ ڈائریکٹر نیوز ریڈیو پاکستان، مصنف و کالم نگار
یوں تو اس روئے زمین پر ہر دن نہ جانے کتنی شخصیات پیدا ہوتی ہیں اور کتنے افراد اپنی عارضی زندگی کے لمحات پوری کر کے راہیئ ملک عدم ہو جاتے ہیں۔ لیکن انسانوں کی اس بھیڑ میں کچھ ایسے بھی افراد ہوتے ہیں جو اپنی گوں نا گوں خصوصیات اور عظیم الشان خدمات کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں پر مرتسم ہو کر رہ جاتے ہیں۔مولانا ملک محسن علی عمرانی بھی ایسی ہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔
ابتدائی و ثانوی تعلیم ڈیرہ اسماعیل خان میں مکمل کرنے کے بعد 1935میں آپ کے والد مرحوم مولانا خدابخش مولائی نے آپ کو عربی، فارسی اور مولوی فاضل کی تعلیم کے لیے برصغیر کے مشہور و معروف دینی درسگاہ مدرستہ الواعظین لکھنؤ میں داخل کرا دیا۔
آپ نے سلطان ُ المدارس لکھنؤ سے 1938میں منشی فاضل (عربی فارسی) کی سند حاصل کی۔ پھر مدرستہ الواعظین میں چلے گئے۔ خوش قسمتی سے اس مدرسہ میں رہائش کے لیے آپکو اور علامہ نجم الحسن کراروی کو ایک ہی کمرہ دیا گیا۔ اس وقت آیت اللہ قبلہ سید عدیل اختر مدرستہ الواعظین کے مدیر تھے جو آپ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
آپ نے وہاں سے صدر الافاضل کی سند حاصل کی۔ صدر الافاضل کی سند اس عہد میں حوزہ علمیہ لکھنؤ کی اعلیٰ ترین سند تھی۔ جو حوزہ علمیہ نجف میں اجازہ اجتہاد کے ہم پلہ شمار ہوتی تھی۔ 
صدر الافاضل کی سند حاصل کرنے کے بعد بعدمسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے مذید تعلیم حاصل کرنے کی خاطر منسلک ہو گئے۔
علی گڑھ مسلم طلبہ کا سب سے بڑا مرکز تھا اور قومی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرنے کی استعداد رکھتا تھا۔ پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو بہت سے طلبہ جو برصغیر کے مختلف حصوں سے آئے تھے شامل ہونے لگے۔
1940 میں تعلیم مکمل کرنے بعد جب ڈیرہ اسماعیل خان واپس آئے تو لکھنؤ اور علیگڑھ میں تحریک پاکستان اور مختلف شخصیات خصوصا علامہ راغب احسن سے متاثر ہو کر مقامی نوجوانوں کو جمع کر کے علامہ راغب احسن کے حکم پر اور شہزادہ فضل داد خان جو کہ بحیثیت صدر مسلم لیگ، محمد نواز خان اور جنرل سیکریٹری مولا داد خان بلوچ کام کررہے تھے کہ مکمل تعاون اور سرپرستی کے نوجوانان ِمسلم لیگ کی بنیاد ڈالی اور سب سے پہلے جنرل سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور جوانوں کو یکجا کر کے بزرگوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔
قائد اعظم محمد علی جناح جب چند گھنٹوں کے لیئے ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تو نوجوانان مسلم لیگ کی طرف سے محترمہ فاطمہ جناح اور عبدالقیوم خان کی موجودگی میں قائد اعظم کو سپاس نامہ پیش کرنے کا اعزاز بھی مولانا محسن علی عمرانی کو حاصل ہے آج بھی ڈیرہ کے بزرگ اور تحریکی سپاہی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مولانا محسن عمرانی نے سپاس نامہ پیش کرنے اور تقریرکے دوران قائد اعظم کے بارے جو رباعی پڑھی تو وہ اتنی مقبول ہوئی کہ گلی محلوں اور جلسوں میں لوگ بار بار دہراتے۔
جو بِک نہ سکا غیر کے ہاتھوں محسن ؔ 
1945میں جب بلوچستان میں تباہ کُن زلزلہ آیا تھا تو والد مرحوم کی سربراہی میں سردار ربنواز کوکب، عبد الکریم صابر، عطاء اللہ خان عطاء اور دیگر تحریکی ولیگی اور ادبا دوستوں نے متاثرین کی امداد کے لیے ایک بھر پور مہم چلائی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ہر بازار اور محلہ سے امدادی سامان اکٹھا کیا اور مطلوبہ علاقوں میں پہنچانے کی خاطر استاد جمعہ خان مقامی ٹرانسپورٹر نے اپنے دو ٹرک بغیر معاوضے کے سامان لے جانے کے لیے فی سبیل اللہ دیے.
1947 میں قیام پاکستان کے بعد اکابرین ومشاہیر کے حکم پر ہجرت کر کے ڈیرہ اسماعیل خان میں آنے والے مسلمانوں کی رہائش، طعام، خدمت اور بحالی کے لیے بے لوث اور بغیر کسی لالچ و صلہ و ستائش کے دن رات کام کیا۔
1950میں جب ملک خدا بخش ایڈووکیٹ دستور ساز اسمبلی کے ارکان تھے اور زکواۃ کے بارے کچھ تضادات اور دشواری پیش آئی تو ملک خدا بخش ایڈووکیٹ نے قران و سنت واحادیث کی روشنی میں ان تضادات کو ختم کرنے کے لیے مولانا محسن علی عمرانی کی مشاورت سے قران و احادیث کی روشنی میں ایک سوالنامہ ترتیب دیا جسے اس وقت کے تمام جید علما کو بھیجا گیا تاکہ ان تضادات کا خاتمہ کیا جا سکے جو زکواۃ کے معاملے میں دشواری پیدا کر رہے تھے۔
1954میں جب پاکستان کا سرکاری طور پر قومی ترانہ نشر کیا گیا تو اگلے سال 1955 میں یوم آزادی کے موقع پر مولانا محسن علی عمرانی کی سربراہی میں اسلامیہ اسکول سے ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا اور سرزمینِ ڈیرہ اسماعیل خان میں پہلی دفعہ جلوس نکلنے سے پہلے اوراپنی تقریر سے پہلے تمام مہمانان و اکابرین کو بطور ادب اپنی نشتوں پر کھڑا کر کے قومی ترانہ پڑھنے کا اعزاز بھی مولانا محسن علی عمرانی کو حاصل ہے۔
ادبی خدمات
ویسے تو خاندانی ادبی و تحقیقی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے کمسنی ہی سے شاعری کا آغاز کیا اور اپنے والد مولانا خدا بخش مرحوم سے اصلاح لیتے۔
میرے جی کا کوئی علاج کرو
آدمی، آدمی کو ڈستا ہے
آدمی کا کوئی علاج کرو
مولانا محسن علی عمرانی ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے،ایسی ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک تحریکی و ادبی شخصیت تھے بلکہ ایک مذہبی بلند پایہ خطیب، مبلغ، صاحب علم و عرفان اور روحانی شخصیت بھی تھے۔
سلسبیل و مؤدت (مناقب و سلام)
نکہت و نور (مناقب و سلام)
فرات ِ فکر (مناقب و سلام)
فکرَ محسن (مناقب و سلام)

افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں