اسرائیلی مصنوعات

اور

ہمارے بائیکاٹ کی تاثیر
بقلم: ابو محسن


آج کے زمانے میں ایک رسم چل نکلی ہے شاید پہلے بھی ہوئی ہو اور ہماریے علم میں نہ رہی ہو بہرحال آٹھ دس آدمی رات کی تاریکی میں کسی معروف جگہ پر آٹھ دس شمعیں جلا کر بیٹھ جاتے ہیں،اس کی ویڈئو بن کر پوری دنیا میں وائرل ہو جاتی ہے اور اسے علامتی ہمدردی (symbolic sympathy)کانام دیے دیا جاتا ہے۔

اگر یہی افراد کسی ملک یا اداریے کے پرچم کو الٹا کر کے رکھ دیں اور خود اس کی طرف پشت کر لیں تو اسے علامتی احتجاج(symbolic protest) سمجھا جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں موجودہ زمانے کی عالمی سیاست کا ایک انتہائی مؤثر کردار بلا شبہ مسلمان ہیں۔جنہیں نظر انداز کر کے عالمی سیاست کے فیصلے ناممکن ہیں۔چاہے یہ بات کسی کی سمجھ میں آئے اور چاہے نہ آئے، چاہے کسی کا دل مانے اور چاہے نہ مانے۔

دوسری طرف اس لشکر جرّار کے پرچمدار ،علمائے کرام، مفتیانِ دین اور خصوصاً شیعہ مجتہدین اور مراجع کرام ہے۔
اب جب یہی علمائے کرام اور مراجع تقلید و مفتیان دین اور مجتہدین ،اسرائیلی مصنوعات کی خرید و فروخت کے حرام ہونے کا فتوی دیتی ہے تو نہیں معلوم کن بنیادوں پہ ہماریے ذھن اس اقدام کو غیر مؤثِّر سمجھتے ہیں۔

کیا یہ اقدام ،علامتی ہمدردی(Symbolic Sympathy) یا علامتی اعتراض(Symbolic Protest)کی حد تک بھی مؤثِّر نہیں؟
بسا اوقات یہ مسئلہ اٹھایا جاتا ہے کہ فلاں مرجع تقلید نے تو فتوا ہی نہیں دیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تقریبا تمام مراجع عظام نے فتوا دیا۔

فرض کریں اگر نہیں بھی دیا تو یہ مسئلہ ایسا ہے ہی نہیں کہ جس کیلئیے فتویے کی ضرورت ہو اس لئے کہ تقریبا ہر فقہی باب میں کچھ مسائل ،ضروریاتِ دین یا ضروریاتِ مذھب میں سے شمار ہوتے ہیں اور ان میں اجتہاد اور تقلید کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ موجودہ حالات میں اسرائیل کا معاملہ بھی بالکل ایسے ہی ہے۔
دوسرا نکتہ یہ کہ اس فتویے کا معاشی پہلو سے قطعِ نظر قانونی پہلو ہے۔دوسریے لفظوں میں اگر ھم اس فتویے کے معاشی اثرات سے چشم پوشی بھی کر لیں تو یہ اقدام متعلقہ حکومت کی قانونی حیثیّت(legitimacy)کو چیلنج کرتا ہے۔قانونی حوالے سے ایک موثر سوچ کی طرف سے کسی ملک کی قانونی حیثیَّت کو چیلنج بین الاقوامی قانونی زبان اور رویّوں میں اس ملک کے لئیے انتہائی غیرمعمولی اقدام سمجھا جاتا ہے۔اورآپ کے تشخُّص کو نمایاں کرتا ہے

معاشی نقطہ نظر سے بائیکاٹ کی کامیابی یا ناکامی کو صرف اس پیمانے پر ہی نہیں پرکھا جاتا کہ یہ حریف کی معاشی صلاحیّتوں کو کس قدر مسمار (power of destruction)کر سکتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کے پرکھنے کا پیمانہ یہ ہوا کرتا ہے کہ اس سے حریف کی معیشت کس قدر کمزور ہوئی ہے اور نفسیاتی لحاظ سے اس کی کس قدر حوصلہ شکنی(demoralization)ہوئی ہے۔

لہذا یہ نکتہ نظر کہ اس سے دشمن کی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑتا درست نہیں ۔ہاں موجودہ صورتحال میں کم اثر ضرور ہے لیکن بے اثر نہیں ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فی الحال یہ تحریک ایک عوامی تحریک ہے اور حکومتی تحریک میں تبدیل نہیں ہوئی۔اور عوامی تحریک بھی ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل نہیں ہوئی۔

ایک وسیع عوامی تحریک ہی اسے حکومتی تحریک میں تبدیل کر سکتی ہے۔ چونکہsupplyعام طور پرdemandکی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ عوامی تحریک کے کم اثر ہونے کی وجہ سے سرمایہ دارانہ نظام پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑیے گا۔سادہ لفظوں میں سرمایہ دارانہ نظام کی مثال سنار کی ماں کی سی ہے۔

مشہور مثال ہے کہ کسی نے سنار سے کہا کہ تمہاری ماں راستے میں گری پڑی تھی تو سنار نے کسی پریشانی کا اظہار کئے بغیر کہا ماں بھی مجھ سنار کی ماں ہےوہ ایسے نہیں گرتی کچھ دیکھ کے ہی گری ہوگی۔

سرمایہ دارانہ نظام بھی سنار کی ماں کی طرح سب کچھ ہونے کے باوجود بھی جہاں معیشت کا ٹکے کا بھی فائدہ ہو اس سے چشم پوشی کو روا نہیں سمجھتا۔ لہذا تھوڑے نقصان کا بھی اس نظام کو دھچکہ لگتا ہے۔یہ ہماری سوچ ہے کہ کروڑوں بہا کر بھی ہمیں کوئی خاص پشیمانی نہیں ہوتی۔

اگر بھوکے لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی کئی ٹن گندم دریا بُرد کرتے ہیں تب بھی معاشی فائدہ ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔اسی طرح اگر کروڑوں روپےdonateکرتے ہیں تو تب بھی اربوں روپے اس کے پیچھے انہیں دکھائی دیے رہے ہوتے ہیں۔ممکن ہے ظاہری حساب و کتاب کے مطابق اور مسقبل قریب میں ہمیں کوئی فائدہ نظر نہ آ رہا ہو۔
لہذا اس سلسلے میں اپنی کوششوں کو کبھی بھی بے ثمر اور لا حاصل نہ سمجھیں۔ہاں بسا اوقات اس بائیکاٹ کے نتیجے میں بعض تنگدست اور غریب افراد کے بے کار ہو جانے کی داستانیں انسان کیلئیے دردناک ہوتی ہیں اس سے بالکل انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں وسیع تر مفاد کی خاطر ہمیں ان دردوں کو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔اگر وسیع تر مفاد پیشِ نظر نہ ہو تو ھم کبھی بھی انتہائی دردناک آپریشنز کیلئیے اپنے آپ کو ڈاکٹر کے سپرد نہ کریں۔

اس تحریک کی کامیابی کیلئیے مسلسل زور ڈالتے رہئیے تا کہ یہ ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل اختیار کر یے اور حکومتی تحریک میں تبدیل ہو جائے۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی شخص کے پاس یہ بہانہ باقی نہیں رہا کہ ہماریے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔یہی سوشل میڈیا اب ہرشخص کو دستیاب ہے۔ یقین جانئیے یہ ہر مثبت آواز کو دوسروں تک پہنچانے کاایک بہت مؤثر ذریعہ ہے۔


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face