خود اعتمادی

ایک ناپید ہوتا سماجی عنصر
ابو محسن

احساس کمتری،کسی بھی شخص میں خوداعتمادی کے کھو جانے کا سبب بنتی ہے۔بلکہ شاید یوں کہا جا سکتا ہو کہ احساس کمتری کا دوسرا رخ خوداعتمادی کا کھو جانا ہے۔ایسی فکری اور نفسیاتی مشکل سے دوچار شخص پہ آپ جتنی محنت کر لیں اس سے کسی قسم کی پیشرفت کی توقع نہیں رکھ سکتے۔

ہاں یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آپ اس فرد کی سوچ میں تبدیلی لے آئیں اگر اس شخص کی خوداعتمادی بحال ہو جائے اور اس کو یہ یقین ہو چلے کہ وہ ایک توانا فرد ہے تو یہی فرد عظیم کارنامے سرانجام دیے سکتا ہے۔
معاشرہ بھی بالکل ایسے ہی ہے یہ بھی احساس کمتری کی فکری۔نفسیاتی بیماری سے دوچار ہو سکتا ہے۔پھر فرد کی طرح اس معاشریے سے بھی آپ کسی قسم کی ترقی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔

اس سے یہ توقع صرف اسی صورت میں رکھی جا سکتی ہے جب اس کی فکری۔نفسیاتی بیماری کا علاج کر لیا جائے۔

بدقسمتی سے ہماریے معاشروں میں احسا کمتریکی اتنی پرچار کی جاتی ہے جس سے معاشرہ بالکل خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے۔معاشریے کے مختلف طبقوں کے افراد مختلف حوالوں سے اس میں اپنا کردار ادا کر کے ناامیدی کی فضا میں مزید اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔
مثال کے طور پر معاشرہ ایسے لطیفوں سے بھرا پڑا ہے جس میں ایک امریکی کردار،ایک جاپانی کردار اور پاکستانی کردار ہوتا ہے اور آخر میں پاکستانی کردار لطیفے میں لطف کا باعث بنتا ہے اس نوعیّت کے رویّوں سے یہ بیماری مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ احساس کمتری کی تلقین اور خود تنقیدی(self-criticism)میں فرق ہے پہلی خصوصیّت قوموں کے زوال اور دوسری قوموں کے عروج کا باعث بنتی ہے اور ایک مثبت خصوصیت ہے اور اس کو معاشروں میں عام ہونا چاہئیے۔
ہم عام طور پر اپنی پسندیدہ شخصیات سے عملی درس لینے کے بجائے ایک بت کے طور پر عملی طور پر ان کی پوجا کرتے ہیں۔یہی کچھ حال امام خمینی رض کے چاہنے والوں کی اکثریت کا ہے اس کی واضح دلیل ،اسلامی معاشروں میں اب بھی احساس کمتری کی غالبی فضا ہے۔ ہماریے زمانے میں امام خمینی رض جیسی عظیم شخصیت کی تعلیمات کا کلیدی جملہ یہ ہے:
”ہم بفضل الہی یہ کر سکتے ہیں اور کریں گے”
یعنی خوداعتمادی اور خداوند متعال کی ذات پر توکل ۔انہی تعلیمات کے ایک سچے پیروکار شہید سلیمانی تھے جن کی سب سے بڑی خصوصیّت خوداعتمادی اور خداوند کی ذات پر توکل تھا۔

ہم ان کے قصیدیے تو پڑھتے ہیں لیکن ان کی عملی سیرت سے کچھ سیکھنے کیلئیے تیار نہیں ہوتے۔ورنہ ھماریے معاشروں میںخوداعتمادی کا عنصر اتنی توانائیوں اور صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے کیوں غائب ہو۔
فرض کیجئیے اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ ایک ملک کو بنے پچہتّر سال بیت چکے ہیں۔ ان پچہتّر سالوں میں اس ملک میں سینتیس کے لگ بھگ حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں۔یعنی ہر حکومت کی متوسط مدت تقریبا دو سال بنتی ہے اور اس کا وزیراعظم دنیا کا کرپٹ ترین انسان ہے اسی کرپشن کی وجہ سے اسے برکنار ہونا پڑا اور کچھ عرصہ حکومت سے باہر رہنے کے بعد اس نے دوبارہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ الائنس بنا کر پھر حکومت بنا لی ہے تو بلاتردید ایک بڑی اکثریّت یہی کہتی کہ یہ ملک پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک نہیں ہوسکتا۔

جس ملک میں اتنی حکومتیں تبدیل ہو چکی ہوں اس میں سیاسی استحکام کا دیوالیہ نکل چکا ہونا چاہئیے۔ایسے مسلمہ کرپٹ سیاسی حکمران کا دوبارہ حاکم بن جانا اس ملک کے سیاسی تعطُّل(political deadlock )کی دلیل سمجھا جائے گا۔یہی حکمران دوبارہ وزیراعظم بنتے ہی عدالتی قوانین میں اپنے لئیے تبدیلیاں بھی لے آتا ہے۔اور کسی کے احتجاج کی کوئی پرواہ بھی نہیں کرتا۔
ہماری نظر میں اس پہیلی کا جواب پاکستان کے علاوہ اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا لیکن ایک بڑی اکثریت کے خیالات کے برعکس یہ ملک اسرائیل ہے اور ان کی اپنی عدلیہ کی نظروں میں کرپٹ ترین فرد اس ملک کا موجودہ وزیراعظم نٹنیاھو ہے۔عدالتی قوانین میں تبدیلی کا قانون،عوام،فوج اور مختلف ذمہ دار اداروں کی بھرپور کئی ماہ کی مخالفت کے باوجود”کنسٹ”یعنی اسرائیلی قانون ساز اداریے نے منظور کر لیا۔
مجھے اسرائیل کے اندرونی سیاسی استحکام کی حقیقت سے غرض نہیں۔صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی بین الاقوامی شہرت سیاسی اور اقتصادی حوالے سے کیسی ہے اور ھماری شہرت کیسی ہے؟آپ کا کیا خیال ہے اس ظاہری شہرت کا اس ملک اور معاشریے پہ مثبت اثر نہیں پڑتا ہو گا؟
اس کے مقابلے میں اپنے معاشریے میں انہی حالات کی بنیاد پہ کتنی ناامیدی پھیلاتے ہیں؟اور اس کے منفی اثرات ہم پہ اور ھماری نسلوں پہ کیسے پڑتے ہوں گے؟
اب ذرا سوچئے!احساس کمتری کیسا ناسور ہے؟اور کیا ہماریے اسلامی ممالک میں اس حد تک احساس کمتری ایک معمول کی سوچ کا نتیجہ ہے یا اس میں بیرونی عناصر کی مداخلت بھی ہے؟


افکار و نظریات: google, print, voice, nation