فلسطین-اسرائیل جنگ کے فوائد
ابراہیم شہزاد

7 اکتوبر سے لیکر اب تک فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ عروج پر ہے۔ اس جنگ میں دنیا کی ادبیات میں مندرج سارے جرائم اور جنایتیں صہیونی رژیم کے ہاتھوں وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔ چلتے پھرتے انسانوں کی چیتھڑے اڑانے سے لیکر عام شہریوں پر میزائل بمباری تک۔ راہ چلتے لوگوں پر ہوائی حملے سے لیکر ہسپتال میں داخل مریضوں کو نشانہ بنانے تک۔ ماؤوں بہنوں کا قتل عام تو معمول بن چکا ہے بلکہ اب تو عورتوں کی ان کے محرم رشتہ داروں کی آنکھوں کے سامنے عصمت دری کی جانے لگی ہے۔ بچوں کے سامنے والدین کا قتل تو کبھی والدین کے سامنے ننھے منھے معصوم بچوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ نہ عوامی مقامات محفوظ ہیں اور نہ ہی ہسپتال یا کوئی عبادت گاہ۔
اس ظلم و ستم کی آگ میں ہم کچھ فوائد بھی دیکھ رہے ہیں۔ہم فلسطین و اسرائیل جنگ کے پانچ فوائد کا مختصراً تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔
پہلا فائدہ؛ انسانی حقوق کا صحیح ادراک:
آج جب مغربی دنیا اپنے آپ کو متمدن اور اپنے تمدن کے مخصوص پیرامیٹر میں شامل ہونے والے کو ہی متمدن شمار کرنے لگے تھے تو غزہ کی جنگ وقوع پذیر ہوئی۔ اس جنگ نے تمدن کے سارے پُر فریب، کھوکھلے اور جھوٹے نعروں کی اصلیت کو عام انسان کے سامنے واضح کر دیا۔ حقوق بشر، حقوق نسواں، بنیادی انسانی حقوق جیسے سارے نعروں کے ڈھونگ رچانے والے خود اپنے مقابلے میں آنے والے انسانوں کو کیڑے مکوڑے قرار دینے لگے ۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ہی انسانوں پر قیامت ڈھائی ہے۔
حقوق نسواں کے ذمہ داروں نے ہی خواتین کو جینے کے حق سے محروم کر دیا۔ خواتین کی تمام تر ممکنہ صورتوں میں تذلیل کی گئی۔ ریپ کے خلاف آواز اٹھانے کے دعویداروں نے ہی خواتین کی عصمت دری کی۔ بچوں کے حقوق کا خیال رکھ کر ملالہ کو امریکہ بلانے والوں نے غزہ کے معصوم بچوں پر میزائل داغے۔ لہذا واضح ہو گیا کہ یہ سب کے سب صرف کھوکھلے اور جھوٹے نعروں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ آج کے بعد کوئی بابصیرت انسان مغرب کو یا آج کی متمدن دنیا کو امن و آشتی اور انسانی اقدار کا محافظ تصور نہیں کرے گا۔
دوسرا فائدہ؛ خطے میں مزاحمتی بلاک کی اہمیت کا اندازہ
غزہ اسرائیل جنگ سے اقوام عالم پر اسرائیل اور استعمار کے خلاف موجود مقاومتی بلاک کی ضرورت اور اس کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہوا۔ اگر یہی مقاومتی بلاک نہ ہوتا تو یہ غاصب صہیونی ریاست اور اس کے اتحادی ایک ہفتے کے اندر فلسطینوں کا کام تمام کرتے۔ حماس کو مسلح بنانے سے لیکر یمنی انصار اللہ کو طاقتور بنانے تک۔ حزب اللہ لبنان کو جدید اسلحوں سے لیس کرنے اور سوریہ میں اسرائیلی بارڈر کو کنٹرول کرنے تک سب کے سب مقاومتی کارناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
یہی وہ کارنامے ہیں کہ جن سے آج نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا خائف ہے۔ آج یمن کی انصار اللہ تنظیم کی اجازت کے بغیر بحیرہ احمر سے ایک کشتی بھی نہیں گزر سکتی۔ آج دنیا کو "گلوبل ویلیج" بنانے والا انٹرنیٹ بھی یمنی انصار اللہ کے قابو میں ہے۔ جب چاہے وہ دنیا کے نظام کو تتر بتر کر سکتے ہیں۔
یہی وہ ڈھرکا ہے کہ جو مغرب کو مزید جنایتوں کا ارتکاب کرتے ہوئے لگا رہتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کے نظام کی باگ ڈور مزاحمتی بلاک کے ہاتھوں میں ہے۔ دنیا کی موجودہ صورتحال مزاحمتی بلاک کی اہمیت اور ضرورت کو خوب اجاگر کر رہی ہے۔
لہذا مقاومتی بلاک کی ضرورت پہلے بھی تھی۔ اب سارے لوگوں کے لئے مزید اس کی ضرورت واضح ہوگئی ہے۔
تیسرا فائدہ ؛ مزاحمتی بلاک کی طاقت کا اندازہ
اس جنگ میں مزاحمتی بلاک اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اترا ہے۔ اب یہ مزاحمتی بلاک اسرائیل کی توجہ تو منتشر کرنے کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کی سازشوں کو بھی ناکام بنا رہا ہے۔ اسرائیل کو کبھی حیفہ پر حزب اللہ لبنان کا سامنا ہے تو کہیں سوریہ بارڈر پر مزاحمتی گروہ کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ کبھی حماس اسرائیل کے اہم فوجی جگہوں پر میزائل داغتی ہے تو کبھی حزب اللہ ائیرپورٹس کو نیست و نابود کرتی ہے۔ مغربی دنیا سے سمندری راستے مدد پہنچانے کی کوششیں تو اب انصار اللہ یمن کے ڈر سے تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
مزاحمتی بلاک کی استقامت نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کل کو پتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے والا گروہ آج میزائیل سے حملہ آور ہوگا۔ کل کو سات دن میں فتح کرنے کا عزم رکھنے والا خطہ آج ان کو ناکوں چنے چبوائے گا۔ کل کو داعش کے ذریعے سے یلغار بنانے والا ملک آج ان کے ہر ارادے میں آڑے آئے گا۔ ہر سازش نقش بر آپ کر دے گا۔
غرض مزاحمتی بلاک کی اہمیت کے ساتھ ساتھ پوری دنیا پر ان کی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ پوری دنیا انگشت بدندان ہے کہ مستضعفین کا یہ گروہ کس قدر عالمی استعمار کو ذلیل و رسواء کر رہا ہے۔
چوتھا فائدہ؛ اسرائیل کی نقاب کشائی
ایک وقت تھا کہ لوگ اسرائیل کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے۔ ان کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس مشینیں، جنگ کی نئی روشوں کی تربیت یافتہ فوج، بحرانوں سے نکلنے کے نئے نئے طریقے وغیرہ کے ظاہر کو دیکھ کر لوگ ان کو زمینی خدا سمجھتے تھے۔ 7 اکتوبر سے لیکر اب تک مقاومتی بلاک نے انسانوں کے ذہن میں موجود اس خوف کے بت کو توڑ دیا۔ دنیا پر اسرائیل کی اصلیت کو واضح کر دیا ہے۔ دنیا پر ثابت کیا کہ یہ تو "مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے"۔ چند ستم دیدہ جوان جمع ہو کر ان کے تمام جدید مشینوں، اعلی درجے کا ایجنسی سسٹم، تربیت یافتہ فوج سب کے اوسان خطا کر دئیے۔
دوسروں کے لئے نیو ورلڈ آرڈر مرتب کرنے والے امریکہ اور اسرائیل اپنے بحرانوں پر بھی قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ آج اسرائیل نہ صرف بیرونی حملوں کے زد میں ہے بلکہ شدید اندرونی خلفشاروں کا بھی شکار ہے۔ یہ جتنے مظالم آج ڈھائے جا رہے ہیں، اسرائیل کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ ناتواں اور نا منظم غاصب ریاست اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے قریب ہے۔ انشاء اللہ
پانچواں فائدہ؛ امریکہ کی رسوائی
امریکہ ویسے تو دنیا بھر میں مختلف صورتوں اور مختلف موقعوں پر اپنی اہمیت کھو ہی رہا تھا لیکن فلسطین اسرائیل جنگ نے تو جیسے ان کی ذلالت کو پَر ہی لگا دئیے۔ آج دنیا بھر میں جہاں جہاں فلسطین کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں وہاں در حقیقت امریکہ سے بیزاری کا اعلان ہو رہا ہے۔ امریکہ اپنے تمام تر ظلم و استبداد کے ساتھ تاریخ کے کوڑا دان میں ہمیشہ کے لیے گرنے ہی والا ہے۔
یاد رکھئے!جنگ کے دو پہلو ہوتے ہیں: ظلم و بربریت کا پہلو اور مقاومت و شجاعت کا پہلو۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ جنگوں میں مظالم ہوتے ہیں، نا انصافیاں ہوتی ہیں تاہم جنگوں میں کھلنے والے مردوں کے جوہر، شجاعت کے مظاہرے اور انسانی بلند پایہ اقدار کے مظاہر بھی دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔تبھی تو کربلا کی شیر دل خاتون حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا نے "و ما رأیتُ الّا جمیلا" فرما دیا تھا۔
بھلا جنگوں کے بھی فائدے ہوتے ہیں؟۔جی ہاں! ہوتے ہیں۔ جنگیں ہی اہل حق اور اہل باطل کے درمیان فرق واضح کرتی ہیں۔ جنگیں ہی "بہادر" اور "بزدل" کے درمیان تمیز کرواتی ہیں۔ جنگیں ہی انسانوں کے خوشنما لبادے میں چھپے بھیڑیوں کی پہچان کرواتی ہیں۔۔۔


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly