یوم القدس

ایک تحریک، ایک جائزہ
سید فصیح کاظمی


گزشتہ روز ایم ڈبلیو ایم قم کی طرف سے ایک اہم نشست منعقد ہوئی۔ نشست کا عنوان "یوم القدس ایک تحریک، ایک جائزہ" تھا۔ متعدد علماء و دانشوروں نے مختلف زاویوں سے یوم القدس کی اہمیّت پر روشنی ڈالی۔۔ مذکورہ تحلیلی نشست کے مرکزی تجزیہ کار مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ امور خارجہ کے مسئول حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت شیرازی صاحب تھے۔
انہوں نے سب سے پہلے مختصر وقت میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ملت شیع کی تاریخ جدوجہد اور خدمات کا ایک جائزہ پیش کیا۔ اس کے بعد انقلاب اسلامی ایران کے وجود میں آنے کے بعد کی صورتحال کو اعدادوشمار کے ساتھ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۹ میں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو اُس وقت تک عرب ریاستیں اسرائیل کی بالادستی کو قبول کر چکی تھیں اور مسئلہ فلسطین پر شکست مان چکی تھیں۔ انقلاب اسلامی کے آتے ہی اگست ۱۹۷۹ میں حضرت امام خمینی ؒ نے یوم القدس منانے کا اعلان کیا۔
یہ انقلاب کی کامیابی کی شروعات تھیں، اس کے باوجود حضرت امام خمینی نے کسی مصلحت سے کام نہیں لیا۔ یوم القدس کے اعلان نے فلسطینیوں کو دوبارہ امید بخشی اور وہ غلیلوں کے ساتھ ٹینکوں کے مقابلے میں آ گئے۔ اس کے بعد شہید فتحی شقاشی کی جهاد اسلامی فلسطین، حماس اور حزب اللہ جیسی مقاومتی تنظیمیں وجود میں آئیں۔ یوم القدس ایک ایسی تحریک ہے کہ جس نے آج فلسطین میں طوفان الاقصی کو جنم دیا ہے۔ یہ یوم القدس کی تحریک دنیا کے ہر مظلوم کیلئے امید اور جدوجہد کا پیغام رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل یا امریکہ جب مقاومتی بلاک کے کسی جنرل یا کمانڈر کو شہید کر دے تو گھبرائیے نہیں کیونکہ وہ وہاں موجود ہی شہادت کیلئے ہیں۔ شہید قاسم سلیمانی موٹر اگلے مورچوں پر موجود رہتےتھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شہادت کے طلبگار تھے۔
یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں کہ وہ شہید ہوئے۔ یوم القدس کی تحریک شہادتوں کے راستے کی راہی ہے۔ حالیہ دنوں میں دمشق کے اندر اسرائیل کی طرف سے جو ایران کی ایمبیسی پر حملہ ہوا اور اہم شخصیات شہید ہوئیں، یہ سب قدس کی تاریخ کا حصہ ہے۔
یہ اس راستے کی ایک کڑی ہے اور الحمد اللہ مقاومتی محاز کے پاس بہت سی ایسی شخصیات ہیں جو ہر وقت شہید ہونے کی دعائیں مانگ رہی ہیں، اس لئے آپ مطمئن رہیں۔ اسرائیل جتنا کمزور موجودہ وقت میں ہے تاریخ میں اتنا کمزور کبھی نہیں تھا۔ وہ اپنی اسی کمزوری کو چھپانے کیلئے ظلم و بربریّت کی انتہا کر چکا ہے ۔ تاہم اس کا اختتام بہت نزدیک ہے، صاحبانِ ایمان مطمئن رہیں۔
اس نشست میں مجھے یہ محسوس ہوا کہ ہم بہت جذباتی قوم ہیں۔ فلسطین کی حمایت میں ہم ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں، اس روز جلوس بھی نکلتے ہیں اور نعرے بھی لگتے ہیں تاہم ایسی بصیرت افروزنشستوں کی اشد کمی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے جذبات کو یوم القدس کی معلومات کے ساتھ آمیختہ کریں۔یوم القدس کو ایسے آگاہ، آشنا اور بابصیرت مسلمانوں کی ضرورت ہے کہ جو اس تحریک کا پرچم آگاہی اور شعور کے ساتھ اگلی نسلوں کو منتقل کریں۔

متعلقہ موضوع

یوم القدس


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly