اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات اقبالؒ بمقابلہ اسرائیل
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
وسعت اللہ خان
پہلی عالمی جنگ کے خاتمے سے ایک برس قبل (دو نومبر انیس سو سترہ ) برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے یورپ کے سب سے بڑے بینکر خاندان کے سربراہ اور صیہونی رہنما لارڈ والٹر روتھ چائلڈز کو ایک سرکاری خط میں نوید دی کہ شہنشاہِ معظم کی وفادار کابینہ نے اس موقف کو تسلیم کر لیا ہے کہ فلسطین یہودیوں کا قومی وطن ہے اور اس کے حصول کے لیے برطانیہ عظمی ہر ممکن مدد کرے گا۔
تاریخ میں یہ خط بالفور ڈیکلریشن کے نام سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔اس وعدے کی شکل میں برطانیہ نے حلوائی کی دوکان پر دادا جی کی فاتحہ تب کی جب فلسطین خلافتِ عثمانیہ کا صوبہ تھا اور ابھی خلافتِ عمثانیہ کو جنگ میں شکست ہونی تھی اور اس کے بعد لیگ آف نیشنز قائم ہونی تھی اور لیگ کی جانب سے فلسطین کا انتظام بطور ٹرسٹی برطانیہ کے سپرد کیا جانا تھا۔
ابھی فلسطین میں یہودیوں کی باقاعدہ آبادکاری کا عمل تیز نہیں ہوا تھا اور وہاں ان کی مقامی آبادی محض تین فیصد تھی۔انیس سو سینتیس میں یہودی آبادکاری کے خلاف بڑھتی ہوئی عرب بے چینی کے پیشِ نظر برطانیہ نے دارالامرا کے رکن ولیم پیل کی سربراہی میں فلسطین کی دو حصوں میں تقسیم کی خاطر ایک جانچ کمیشن بھیجا۔تاریخ میں اسے پیل کمیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔
فلسطینی قیادت نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی مگر دس برس بعد اقوامِ متحدہ نے کم و بیش پیل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کی پانچ عالمی چوہدریوں ( امریکا ، برطانیہ ، فرانس ، سوویت یونین اور قوم پرست چین ) کی تائید سے منظوری دے دی۔اس منظوری کے چھ ماہ بعد چودہ مئی انیس سو اڑتالیس کے دن ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے باضابطہ قیام کا اعلان کر دیا اور اقوامِ متحدہ کی کھینچی گئی حدود میں صدیوں سے آباد فلسطینی آبادی کو کھدیڑنے کا جو کام شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے۔
چند عشرے پہلے تک اسرائیل اور صیہونی نظریے کی مخالفت اور یہودی قوم سے دشمنی کو دو الگ الگ خانوں میں رکھا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ اسرائیلی پالیسیوں اور صیہونی نظریے کی مخالفت بھی یہود دشمنی کے برابر قرار پائی ۔اس نئی تشریح کی روشنی میں دیکھا جائے کہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں کس کس پر یہود دشمنی کا ٹھپہ لگ سکتا ہے؟
سب سے پہلے اپنے گھر ( برصغیر) سے شروع کرتے ہیں۔جہاں کانگریس اور مسلم لیگ میں کسی اور نکتے پر اتفاق ہو نہ ہو۔فلسطین نوازی پر ضرور اتفاق تھا۔فلسطین کی تقسیم سے متعلق پیل کمیشن کا فارمولا پڑھ کے علامہ اقبال نے برطانیہ کی نیشنل لیگ کی رہنما لیڈی فرکشارسن کے نام اپنے خط میں لکھا۔
’’ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ فلسطین برطانیہ کا حصہ نہیں ہے بلکہ لیگ آف نیشنز نے اسے فلسطین کا امانت دار ( ٹرسٹی ) بنایا ہے۔حالانکہ ہندوستانی مسلمانوں کا خیال ہے کہ لیگ آف نیشنز بذاتِ خود مسلمان دنیا کی بندربانٹ کے لیے ایک نیا اینگلو فرنچ ہتھیار ہے۔ عربوں نے جب فلسطین فتح کیا تو اس فتح سے سیکڑوں برس پہلے یہودی وہاں سے نکل چکے تھے ‘‘۔چند دن بعد اقبال نے آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں کہا کہ
’’ اگر یہ یہودیوں سے وعدہ کردہ سرزمین ہوتی تو پھر یورپ کے مسیحی صلیبی جنگوں کے ذریعے اس سرزمین پر قبضہ کی لگاتار کوششیں نہ کرتے۔ ان کی مزاحمت کسی یہودی نے نہیں بلکہ صلاح الدین ایوبی نے کی۔لہٰذا آج کا فلسطین نہ تو یہودی مسئلہ ہے اور نہ ہی مسیحی ۔ یہ خالصتاً مسلمان مسئلہ ہے ‘‘۔
جولائی انیس سو انتالیس میں برطانوی حکومت نے فلسطین میں ایک یہودی مملکت کے قیام کی خاطر رائے عامہ کی ہمواری کے لیے ایک قرطاس ابیض شایع کیا۔اسے پڑھ کے مسلم لیگ کے قائد بیرسٹر محمد علی جناح نے وائسرائے لارڈ لنلتھگو کو خط لکھا کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران عربوں سے بعد از جنگ آزادی کے جو وعدے کیے گئے۔آخر انھیں کیوں پورا نہیں کیا جا رہا۔بصورتِ دیگر ہم موجودہ جنگ میں برطانیہ کی حمائیت کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی اور ان صوبوں میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں جہاں جہاں ہماری حکومت قائم ہے۔
جناح صاحب نے چوہدری خلیق الزماں اور عبدالرحمان صدیقی کو حالات معلوم کرنے کے لیے فلسطین بھیجا۔جناح صاحب نے ان متاثرہ فلسطینی خاندانوں کی مدد کے لیے ایک فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا جن کے لوگ انیس سو سینتیس تا انتالیس برطانیہ کی سامراجی پالیسی کے خلاف مزاحمتی تحریک میں شہید یا متاثر ہوئے تھے۔
قیامِ پاکستان کے تین ماہ بعد جب نومبر انیس سو سینتالیس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فلسطین کی دو حصوں میں تقسیم کی قرار داد منظور کی تو اس قرار داد کے سب سے بڑِے حمائیتی امریکا کے صدر ہیری ٹرومین کو پاکستان کے گورنر جنرل نے خط لکھا کہ ’’ یہ قرار داد اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
یہودی قوم ہٹلر کے ہاتھوں پہلے ہی بہت مظالم سہہ چکی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ ان مظالم کے بدلے فلسطینیوں سے جو ناانصافی کی جا رہی ہے اس کے نتائج بھی انھی کو سہنے پڑیں گے ’’۔بی بی سی کے نامہ نگار رابرٹ سائمن کو انٹرویو دیتے ہوئے جناح صاحب نے فلسطین کی تقسیم کے فیصلے کو نامنصفانہ و ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ زخم بہت تکلیف دہ ثابت ہوگا۔
چھبیس نومبر انیس سو اڑتیس کے ہریجن اخبار میں گاندھی جی کا ایک مضمون شایع ہوا۔اس کے دو تین پیرے پیشِ خدمت ہیں۔’’ فلسطین اسی طرح فلسطینیوں کا ہے جیسے برطانیہ انگریزوں کا اور فرانس فرانسیسیوں کا۔ وہاں کے عربوں پر یہودیوں کا تسلط ایک غیر انسانی فعل ہوگا۔
آج جو کچھ فلسطین میں ہو رہا ہے اس کی کوئی اخلاقی تاویل نہیں ہو سکتی۔یہ انسانیت کے خلاف جرم ہوگا اگر اس علاقے میں فلسطینیوں کی تعداد جبراً کم کر کے اس کا جزوی یا کلی انتظام بطور قومی وطن یہودیوں کے سپرد کردیا جائے۔شریفانہ اقدام تو یہی ہوگا کہ جن جن مغربی ممالک میں یہودی آباد ہیں وہاں وہاں ان کے ساتھ مقامی سطح پر منصفانہ اور برابری کے سلوک پر زور دیا جائے۔فرانسیسی یہودی اتنے ہی فرانسیسی ہیں جتنے کے فرانس میں رہنے والے مسیحی۔مقدس یہودی صحیفوں میں اسرائیل کا تصور جغرافیائی نہیں روحانی شکل میں ہے۔
بالفرض اگر وہ فلسطین کے موجودہ جغرافیے کو ہی اپنا قومی وطن مانتے ہیں تب بھی برطانوی بندوقوں کے سائے میں وہاں داخل ہونا زیادتی ہے۔ایک مذہبی فریضہ بموں اور بندوقوں کے سائے میں کیسے انجام پا سکتا ہے ؟ یہودی صرف عربوں کے دل جیت کے ہی وہاں آباد ہو سکتے ہیں۔
طاقت کا سہارا لیے بغیر بھی مدِمقابل کو قائل کرنے کے ہزار طریقے ہیں۔اس کے لیے برطانوی سامراجی قوت کی مدد سے مقامی لوگوں کو زمین سے اکھاڑنا ضروری نہیں۔ ان لوگوں کی یہودی قوم سے کوئی دشمنی بھی تو نہیں ہے۔میں چاہتا ہوں کہ عرب بھی اپنی مزاحمت عدم تشدد کے اصولوں پر استوار کریں۔مگر اس وقت وہاں ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیشِ نظر میں عرب مزاحمت کی سمت کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کرنا چاہتا ‘‘۔
اگرچہ انیس سو پچاس میں ممبئی میں اسرائیل کا قونصل خانہ کھل گیا مگر نہرو اور اندرا گاندھی کے دور تک بھارت کی فلسطین پالیسی کم و بیش گاندھیانہ نظریہ فلسطین کی شکل میں برقرار رہی۔انیس سو چوہتر میں پی ایل او کو تسلیم کرنے والا پہلا غیر عرب ملک بھارت تھا۔اقوامِ متحدہ اور غیرجانبدار تحریک کے پلیٹ فارم پر جو ممالک فلسطینی کاز کی مسلسل حمائیتی تھی ان میں بھارت بھی شامل تھا۔
انیس سو بانوے میں اسرائیل اور بھارت کے مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے جب پی ایل او نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔مگر نریندر مودی کے آتے ہی گاندھی واد پالیسی پوری طرح لپیٹ دی گئی اور بھارت مکمل طور پر اسرائیلی کیمپ میں چلا گیا۔جب کہ پاکستان کی فلسطین پالیسی آج بھی جناح صاحب کے طے کردہ موقف کی روشنی میں مرتب ہے۔بس اتنی تبدیلی آئی ہے کہ اب پاکستان میں بھی یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے کیا کیا فائدے اور نقصانات ہو سکتے ہیں ؟
افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں