علامہ اقبالؒ اور مشرق کا جنیوا
🖊️🖊️ مقدر عباس


علامہ اقبالؒ ایک مفکر ،فلسفی اور ولی کا مقام رکھنے والی شخصیت ہیں۔انہوں نے بہت سے خواب دیکھے اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے امت مسلمہ کو بہت سے نسخے بھی بتائے لیکن امت نے انہیں مفکر بھی مانا،علامہ بھی کہا،ان کی ولادت و وفات بھی دھوم دھام سے منائی لیکن ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ کرسکے۔اقبالؒ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مشرق و مغرب کی تہذیب کا بغور جائزہ لینے کے بعد امت مسلمہ کو ایک نقشۂ راہ فراہم کیا۔مختلف زبانوں میں اپنے اشعار کے ذریعے امت کو یکجا ہونے، بصیرت کے ساتھ آگے بڑھنے کا پیغام دیا۔
مسلمانوں کے لیے ایک الگ ایسی ریاست جو اسلامی اصولوں پر قائم ہو اور مدینہ فاضلہ کی تصویر پیش کرے وہ خواب تھا جس کی تعبیر تو ہوئی مگر جیسی علامہ ؒ مرحوم چاہتے تھے ویسی نہیں ہوئی۔علامہ نے مغرب کو نزدیک سے دیکھا ،ان کے منصوبوں کو سمجھا اور امت مسلمہ کو مغرب کی تہذیب اور کھوکھلے نعروں سے آشنا کروانے کی کوشش کی۔ دشمن بڑا عیار نکلا۔ ہماری آنے والی نسلوں کا رابطہ ہی علامہ اقبالؒ سے کاٹ دیا۔
یہ نہیں کہا کہ علامہ اقبالؒ بری شخصیت ہیں ان کے اشعار کا مطالعہ نہ کیا جائے بلکہ وہ ذریعہ ہی ختم کردیا جس کے ذریعے ہم نے علامہ مرحوم سے متصل ہونا تھا۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں زبان ہی تبدیل کردی۔اب ہم اس اولاد کی مانند ہیں جو اپنے بزرگ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے تو جاتی ہے لیکن جو اس کی قبر پر وصیت درج ہے اسے پڑھنے سے قاصر ہے۔
علامہ اقبالؒ کے روز وفات اور ولادت منانے کا حق تب ادا ہو گا جب ہم حقیقی طور پر ان کی تعلیمات سے موجودہ نسل کو آشنا کروائیں گے۔علامہ اقبال ؒ نے مغرب کی چالوں سے اہل مشرق کو آگاہ کیا تھا مگر ہم نے اقبال ؒکو تو مانا لیکن اقبالؒ کی ایک نہیں مانی۔آج شدت سے اس بات کو محسوس کیا جارہا ہے کہ اب بھی وقت ہے ہم اپنا قبلہ درست کرکے دیر آید درست آید پر عمل پیرا ہوجائیں۔جو نسخہ مفکر پاکستان نے دیا تھا اس پر عمل کرلیں تو ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ورنہ ایام وفات و ولادت کو فقط رسم کے طور پر منانے سے نہ علامہ اقبالؒ کی روح کو سکون پہنچے گا اور نہ ہمیں کامیابی ملے گی۔بہترین اور ماہر طبیب کا نسخہ ہاتھ میں پکڑ کر بے شک بلند و بالا نعرے لگاتے رہیں اور اس حکیم و طبیب کو خراج عقیدت پیش کرتے رہیں لیکن جو اس نے نسخہ دیا ہے اس پر عمل نہ کریں تو کبھی بھی شفا نہیں ہوگی۔
ہمیں اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ علامہ اقبالؒ فقط ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک بابصیرت ولی خدا تھے جنہوں نے اپنے زمانے میں آنے والی تبدیلیوں کو گہری نگاہوں سے دیکھا اور امت کو آگاہ بھی فرمایا کہ جس شاخ پر اہل مغرب آشیانہ بنانے جارہے ہیں وہ ناپائیدا ر ہے۔جب جنگ عظیم اول کے بعد لیگ آف نیشن کا قیام عمل میں آیا تو لوگوں نے اس سے امیدیں وابستہ کرلیں لیکن علامہ اقبال ؒ کیونکہ ایک بابصیرت انسان تھے انہوں نے اسی وقت بیدار کرنے کی کوشش کی کہ یہ جو جمعیت اقوام کا نعرہ بلند کررہے ہیں یہ فقط اپنے مفاد کے پیچھے ہیں۔فرمایا تھا!جنگ کی ریت(روش)کو اگرچہ ختم کرنے کے لیےدنیا کے چند دردمندوں نے ایک منصوبہ بنایا ہے لیکن میری(علامہ اقبالؒ) نظر میں!
من ازیں بیش نہ دانم کہ کفن دزدے چند
بہرِ تقسیمِ قبور انجمنے ساختہ اند
ترجمہ:۔ میں اس کے سوا کچھ بھی نہیں جانتا ہوں کہ قبروں کو آپس میں مل بیٹھ کر بانٹنے کے لئے چند (عالمی) کفن چوروں نے ایک تنظیم بنا لی ہے۔علامہ اقبالؒ نے اس کے ساتھ ساتھ عالم مشرق کو ایک فارمولا بھی بتایا تھا کہ جس پر عمل کرنے کا وقت ہے۔دنیائے اسلام کی حالت ہمارے سامنے ہے اور موجودہ زمانے میں کون کہاں کھڑا ہے یہ بھی اہل نظر جانتے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ علامہ اقبالؒ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے عالم مشرق اپنے جنیوا کا انتخاب کرے اور اپنا قبلہ درست کرلے ورنہ صرف روز وفات و ولادت منانے سے ان کی روح کو سکون نہیں ملے گا۔ ہاں اگر علامہ اقبال ؒ کی روح کو سکوں دینا ہے ہے تو ان کی وصیت پر عمل کیا جائے۔
پانی بھی مسخر ہے، ہوا بھی ہے مسخر
کیا ہو جو نگاہِ فلکِ پیر بدل جائے
دیکھا ہے ملوکیتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے
طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بد ل جائے


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly