کیا اقبال مسیح فرزندِ پاکستان نہیں تھا؟


اقبال مسیح 1983ء میں ضلع گوجرانوالہ کے نواحی شہر مرید کے میں پیدا ہوا۔ اقبال کے والد نے اس کے بڑے بھائی کی شادی کے لیے چند سو روپے کا قرض ارشد نامی ایک مقامی تاجر سے لے رکھا تھا مگر ادھار ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے چار سالہ اقبال کو مزدوری کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔
چھ سال تک کے لیے اقبال دن میں چودہ گھنٹے تک کام کرتا رہا مگر قرض تھا کہ جوں کا توں موجود رہا۔ جب وہ دس سال کا ہوا تو اس عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھاگ کھڑا ہوا مگر پولیس کے مقامی افسران نے اس کو پکڑ کر دوبارہ اسی تاجر کے حوالے کر دیا۔ اب کی بار کام کا بوجھ مزید بڑھا دیا گیا مگر ایک ہی سال بعد اقبال پھر سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
اس دفعہ خوش قسمتی سے وہ ’چائلڈ لیبر‘ کے خلاف سرگرم تنظیم کے پاس جا پہنچا جنھوں نے پاکستانی قانون کی روشنی میں اسے غلامی کے طوق سے نجات دلائی۔ بعد ازاں اقبال مسیح اپنے ہی جیسے تقریباً تین ہزار ننھے مزدوروں کی رہائی کا سبب بنا۔ دنیا کو خبر ہوئی تو اقبال، جو گیارہ سال کی عمر میں بھی چار فٹ سے کم قد کا تھا، کی دھوم مچ گئی۔
اسے عالمی ری بک یوتھ ان ایکشن ایوارڈ سے نوازا گیا جس کے تحت سالانہ پندرہ ہزار امریکی ڈالر کی تعلیمی سکالر شپ دی گئی جبکہ برینڈیز یونیورسٹی نے اقبال کو کالج کی عمر تک پہنچنے پر مفت تعلیم دینے کا اعلان کیا۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے اس مجاہد کو پہلے سویڈن اور اس کے بعد امریکا میں اسکول کے بچوں سے بات چیت کرنے کے لیے بلایا جہاں مقامی اسکولوں کے طالب علموں نے اپنے جیب خرچ سے ایک فنڈ قائم کیا جو آج بھی پاکستان میں بچوں کے بیس اسکول چلا رہا ہے۔ اسی دوران میں اقبال نے دو سالوں میں چار سال کے برابر تعلیم حاصل کی حالانکہ وہ اپنے ہم عمر بچوں سے بہت ہی چھوٹا دکھائی دیتا تھا مگر اس کا عزم بہت بڑا تھا۔
سال 1995 میں جب اقبال امریکا سے واپس اپنے گاؤں رکھ باؤلی پہنچا تو 16 اپریل کو جب وہ سائیکل چلا رہا تھا تو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے اس معصوم فرشتے کی زندگی ختم کر ڈالی۔ یہ غریب کا خون تھا ہمیشہ کی طرح رزقِ خاک بن گیا۔ ہم تو دھرتی کے اس بیٹے کو بھول گئے لیکن اقبال کی موت کی خبر پر معروف امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے یہ خبر لگائی کہ آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کتنا بہادر تھا۔
سال 2009 میں امریکی کانگرس نے سالانہ اقبال مسیح ایوارڈ کا آغاز کیا جو دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد میں سے ہر سال کسی ایک کو دیا جاتا ہے۔ سال 2014 میں جب بھارتی شہری کیلاش ستیارتھی کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا تو انھوں نے بھی اپنی تقریر میں اقبال مسیح کو خراج عقیدت پیش کیا۔
جی ہاں وہ ہمارے اندازے سے زیادہ بہادر تھا اور بہادر لوگوں کوہم دفن کر دیا کرتے ہیں۔بہادروں کےمقدمات کی پیروی ہماری سرکار نہیں کیا کرتی وہ اقبال مسیح ہو یا کوئی نڈر صحافی ۔۔۔ اور اگر کوئی بہادر غیر مسلم ہو تو پھر تو اُس کی یاد منانا بھی کفر اور شرک ہے۔


افکار و نظریات: google, print, voice, nation