بزم انجم۔۔۔
رفیق انجم کی ڈائری

سینیٹر بننے کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کی پہلی مرتبہ قم المقدس میں آمد
_________


27 اپریل 2024 کی بات ہے۔ نماز مغربین کے بعد قم المقدس مدرسہ حجتیہ میں ایک عظیم الشان سیمنار منعقد ہوا۔ سیمینار کا اہتمام ایم ڈبلیو ایم قم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں چیئرمین ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کی سینیٹر بننے کی خوشی اور مبارکباد، ملکی سیاست میں ایم ڈبلیو ایم کا کردار ، ایرانی صدر کا دورہ پاکستان اور اسرائیل پر ایران کا جوابی حملہ ۔۔۔ سب کچھ تھا۔
سیمینار میں
قم المقدس کے علماء و طلاب اور زائرین نے بھرپور شرکت کر کے چیئرمین ایم ڈبلیو ایم سے اپنے والہانہ عشق کا اظہار کیا ۔ مہمان خصوصی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز اس آیت مجیدہ سے کیا ۔

لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ۔
بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی ہے تاکہ لوگ عدل قائم کریں۔
اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہم ایسے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ ایک عظیم رہنما و رہبر کا سایہ ہمیں نصیب ہے ۔ ایک ایسا فقیہ کہ جو دنیا کے تمام شیطانوں ، فرعونوں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہے ۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اسٹریٹجک رہنما ہمارا رہبر ہے۔ ہمارے لئے یہ رہبری بہت بڑی نعمت ہے۔

اسوقت دنیا کی پاور مغرب سے مشرق کی طرف شفٹ ہو رہی ہے اور امریکہ و اسرائیل کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں ۔ طوفان الاقصی کے بعد جیو پولیٹیکل چینج ہو رہا ہے ۔ امریکہ جس طرح سے شام ، یمن ، عراق ، سوریہ ، لبنان وغیرہ میں لڑائی کر کے جغرافیہ تبدیل کرنا چاہتا تھا اسے رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔
رہبر معظم کی سیاسی بصیرت نے اور ڈیفنس اسٹریٹجی نے ایران کو کتنا طاقتور بنایا ساتھ جو چھوٹے چھوٹے ممالک تھے ان کو بھی طاقتور بنا کر دنیا میں جو اپنے آپ کو سپر پاور کہتے تھے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔
امریکہ کا ممنصوبہ یہ تھا کہ وہ شیعہ اور ایران کو ایک طرف کرنا چاہتاتھا اور اہل سنت مسلمانوں کو اسرائیل کے ساتھ لیکن آپ نے دیکھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں شیعہ سنی دونوں اکھٹے ہو گئے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کو ناک زمین پر رگڑنے پر مجبور کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ شیعہ و سنی آپس میں بھائی بھائی اور اسلام کے دو بازو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وحدت المسلمین افکار شہید اور راہ امام خمینی رحمۃ اللہ پر چلتے ہوئے آج پاکستان میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ افکار شہید کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پہلا کام مظلومین کا ساتھ دینا اور ظالم سے نفرت کرنا ہے یہ مشن سب سے بڑی عزت ہے ۔ جب پاکستان میں طاہر القادری گروپ کی خواتین کو مارا گیا اور ان پر ظلم ہوا تو سب سے پہلے ہم نے ان کا ساتھ دیا اس لئے وہ بھی ہمارا ساتھ دیتے ہیں ۔ اسی طرح جب اس الیکشن میں پارہ چنار میں شیعہ سنی دونوں نے مل کر تکفیریوں کو شکست دی ۔ مزید پاکستان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کسی ملک کو یہ حق نہیں دیں گے کہ آ کر ہمارے سیاستدانوں کو پچھاڑ دے، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ وطن کا دفاع کرنا وطن سے محبت کی علامت ہے ۔

ہم نے پاکستان کو بنایا تھا اور ان شاءاللہ پاکستان کو بچائیں گے بھی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بچانے کیلئے اسلام سیاسی کو سمجھیں، فقہ مقارن اور فقہ تقریبی میں تخصص حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سنی اور شیعہ اگر اسلام سیاسی کو سمجھ لیں تو ہم ہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور ہم پاکستان کو اپنے اتحاد کے ساتھ ہر بحران سے بچا سکتے ہیں۔

مقبول ترین

رفیق انجم کی دیگر تحاریر


افکار و نظریات: google, print, voice, nation