امریکہ و مغرب اور انسانی حقوق

پر لکھے گئے ایک کالم پر تبصرہ
ابراہیم شہزاد


فاضل محقق، کالم نگار محترم بشیر دولتی صاحب کا کالم "ملالہ یوسفزئی ، ایلان کردی، مھسا امینی اور غزہ" پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وقت ہر چیز کی تفسیر بہت اچھے انداز میں کر رہا ہے۔ تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ تاریخ کے اوراق حق و باطل کے حامیوں کے کرداروں سے بھرے پڑے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ عالمی دوغلا پن کھل کر سامنے آ رہا ہے۔
محترم کالم نگار نے ایلان کُردی (جو کہ ایک شامی بچہ ہے، جنگ کے دنوں میں مہاجرت کرتے ہوئے اپنی فیملی سمیت سمندری طوفان کی نذر ہو جاتا ہے۔ قدرت کا کرنا کہ اس کا بے جان بدن سمندر کے ساحل پر اس انداز میں پڑا ہوا پایا جاتاہے کہ گویا وہ اب بھی اپنے بے روح بدن کے ساتھ اپنی ماں کا انتظار کر رہا ہو) کے ساتھ ہو انسانی ہمدردی اور عالمی اداروں کی آواز کا جائزہ لیا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے " مھسا امینی" کا ذکر چھیڑا۔ آپ مھسا امینی کے حوالے سے اصل حقیقت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کے جھوٹے پروپیگندوں کے بارے میں بھی لکھتے ہیں۔
مہسا امینی کے بعد محترم لکھاری نے ملالہ یوسفزئی کا نام بھی لیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آخر کس وجہ سے عالمی میڈیا اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے یہ بچی اتنی اہم بن گئی اور اتنی تفصیلات سے اس معاملے کا معائنہ ہوا کہ اس کے خون سے رنگین ڈائری کو بھی اچھال اچھال کر دنیا پر اس کی مظلومیت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

مندرجہ بالا مظالم کی درستی یا نادرستی سے قطع نظر انسانی حقوق پر ٹسوئے بہانے والے اس صدی کی سب سے بڑی نسل کُشی پر ایسے خاموش ہیں کہ جیسے ان کا کوئی وجود باقی ہی نہیں رہا۔

"غزہ" جہاں آئے روز انسانوں کا استحصال ہوتا ہے۔ جہاں بشری حقوق کی پائمالی ہوتی ہے۔ جہاں جنگل کا قانون راج کرتا ہے۔ جہاں طاقت رکھنے والی ناجائز ریاست اور اس کے اتحادی تمام تر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ جہاں گرم اسلحوں کا ایسا استعمال ہے کہ بڑی عمارتوں کو گرانے والے میزائلز صرف ایک انسان کو مارنے کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ جہاں ایلان کردی ، کی طرح گوشت پوست اور دو پاؤں سے چلنے والی مخلوق انتہائی لاچارگی اور بے بسی سے جان سے ہاتھ دھو رہی ہے جہاں مھسا امینی کی طرح کی مخلوقات اقوام عالم سے زندگی بچانے کی بھیک مانگ رہی ہے۔ جہاں ملالہ یوسف زئی کے خون کی طرح سرخ خون رکھنے والے انسانوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔
تاہم یہ معاملہ انسانی حقوق کی پائمالی پر بے چین ہونے والوں کے چین اور صحت پر کوئی اثر نہیں ڈال رہا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک انسان صرف وہی ہے جو ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنے میں معاون ثابت ہو، جو ان کے غلیظ اہداف کے لیے قربانی کا بکرا بن سکے۔
امریکہ اور مغرب کے انسانی حقوق فقط ان کے آلہ کاروں کیلئے ہیں۔ اس کی خاطراسمبلیوں میں بل پاس ہوتے ہیں، اقوام متحدہ میں دو منٹ کی خاموشی بھی ہوتی ہے۔ تاہم غزہ کے لوگ ان ساری مہربانیوں سے محروم ہیں۔ اہلِ غزہ کا قصور یہ ہے کہ وہ مغرب اور امریکہ کی اصلیت دنیا کو دکھا رہے ہیں، لہذا کسی کو اجازت نہیں کہ وہ اظہار افسوس کرے۔
ان سارے معاملات سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ حقوق بشر کے رکھوالے بشریت سے کتنے دور ہیں۔ اخلاقی اقدار سے کتنے عقب ماندہ ہیں۔ انسانی احساسات سے کس حد تک عاری ہیں۔ غزہ کی جنگ کو 200 دن سے زائد کا عرصہ گزر گیا۔ آئے روز ظلم و جنایت کی نئی نئی مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔ نام نہاد تمدن اور انسانی حقوق کے نعروں کی قلعی کھل رہی ہے دنیا کے معیارات کی دوغلا پنی آشکار ہورہی ہے ۔
اسلامی اخوت کا بھرم بھی نہیں رہا۔ مسلمان اپنے بھائیوں کی مدد تو در کنار، اپنے دشمنوں کے آلہ کار بنے پھر رہے ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین کہلانے والے اور سلطنت عثمانیہ کے وارث کہلانے والے وقت پڑنے پر مسلمانوں کے بجائے یہودیوں کے مدد گار نکلے ۔ انسانی مہذب معاشرے کا تصور بھی فلسطین کے معصوم بچوں کی لاشوں کے ساتھ دفن ہو گیا۔ انسانی حقوق کے لئے اٹھتی آوازیں بھی دم توڑ گئیں۔ فیمینزم کے نام پر دنیا میں خواتین کے حقوق کا پرچار کرنے والی خواتین بھی اپنے آقاؤں کی جفا پر مہر بہ لب ہیں۔ چھوٹے چھوٹے حادثات کو انسانیت کے ساتھ بڑا ظلم قرار دینے والے 40 ہزار سے زائد کی انسانی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔

مقبول ترین


افکار و نظریات: google, print, voice, nation