سپورٹ کشمیر آنلائن سیشن
رپورٹ: علی مرتضیٰ حیدری

بروز سوموار 13 مئ 2024 کو "سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم" کی طرف سے ایک سیشن منعقد ہوا۔ جس کا عنوان "مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کردار" رکھا گیا تھا۔ اس سیشن کے مہمان خصوصی جناب بشیر دولتی صاحب تھے۔

انہوں نے اس موضوع پر مفید، مدلل اور جامع گفتگو کی۔ سامعین کی کثیر تعداد نے سوالات کئے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بشیر دولتی صاحب کا کہنا تھا کہ1948 سے لیکر اب تک کشمیر کی مظلوم عوام نے تقریباً 2لاکھ سے زیادہ شہادتیں دی ہیں۔ اس کے باوجود اقوام متحدہ کوئی کردار ادا نہیں کررہا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ راہ حل نکالنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

موصوف نے مزید کہا کہ جب کشمیری عوام چاہتی ہے کہ اپنی آزادی حاصل کریں تو اقوام متحدہ کو چاہئیے کہ کشمیری عوام کی رائے کو قبول کریں۔ اگر ایسا نہ کرے تو وہ بھی مقاومتی تنظیموں کی طرح اپنا حقِ حاصل کرسکتی ہے۔ جبکہ وہ لوگ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ریفرینڈم کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔

آپ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ نے مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں کا کردار ادا کیا ہے۔ ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اقوام متحدہ نے عیسایوں کے مسائل کو حل کیا ہے۔ جیسے سوڈان کے جنوبی عیسایوں کو آزادی دلای اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی حل کرسکتی تھی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

اس مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیکر جانے والے ہی ہندوستانی ہیں۔ اس میں ریفرنڈم کے ذریعے سے ہی فیصلہ ممکن ہے عوام سے ہی پوچھیں کہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا ایک خودمختار ریاست بنانا چاہتی ہے؟
اس کے مطابق حل بھی ہو ابھی بھی وہ چارٹر اور قانون اقوام متحدہ کے پاس ہے لیکن خود ہندوستانی رجیم کشمیریوں پر ظلم بربریت کی انتہا کر رہی ہے اور اقوام متحدہ اس کو روکنے سے قاصر نظر آرہا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر حداقل بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر کرتا تو کم ازکم یہ ظلم بربریت رک جاتی جبکہ ہم دیکھتے ہیں ظلم ستم عروج پر ہے اور اس کو روکنے سے اقوام متحدہ بلکل ناکام نظر آرہی ہے۔

طوفان اقصیٰ کے بعد اس مسئلے کو حل کرنے کا طریقہ واضح ہوگیا۔ وہ اسرائیل جو اپنے آپ کو بڑا دیو سمجھ رہا تھا اس کا غرور خاک میں مل گیا۔ ایک چھوٹی سی تنظیم نے اسرائیل کو دن میں تارے دکھا دیئے۔ طوفان الاقصی کشیمیریوں سمیت دنیا کے ہر مظلوم کیلئے ایک بہترین درس ہے۔

مقبول ترین


افکار و نظریات: google, print, voice, nation