دو عوامی تحریکوں کا ٹکراو
تحریر:محمد بشیر دولتی

عوامی تحریکوں کا ٹکراو دیکھئے۔ دونوں امریکہ و یورپ میں مد مقابل ہیں۔ دونوں کا عروج ہے۔ایک تحریک غزہ میں اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف امریکی یونیورسٹیز میں اسرائیل مخالف تحریک اب طلبہ تحریک کے دائرے سے نکل کر اساتیذہ ،دانشوروں،سیاست دانوں اور دیگر عوام تک پھیل چکی ہے۔
اس تحریک سے پہلے امریکہ میں موجود متعصب یہودی صیہیونی لابی غزہ پر وحشیانہ بمباری،ہزاروں مردوں،عورتوں اور بچوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ امریکہ و یورپ سمیت عالمی میڈیا کو اسرائیل کے حق میں کنٹرول کررہی تھی۔ اس صہیونی تحریک کو "آئی پیک" کہا جاتا ہے۔
اس صہیونی تحریک نے امریکہ میں ایسا قانون منظور کروایا ہے جس کے مطابق صہیونیت کے خلاف لکھنے اور بولنے کو یہودیت کے خلاف لکھنا اور بولنا قرار دیا گیا ہے۔

امریکی حکومت کے ذریعے اگرچہ یہ قانون بن چکا ہے مگر غیر متعصب یہودی خود ان مظاہروں میں شرکت کرکے یہودیت اور صہیونیت کے درمیان خط فاصل کو واضح کررہےہیں ۔۔ائی پیک نے پہلے ان مظاہروں میں اپنے بندے شامل کئے پھر یہودیت کے خلاف نعرے لگوائے اور بعد میں ایسا قانون بنوا یا۔
آئی پیک کا یہ قانون خود ساختہ ہولوکاسٹ اور اس سے متعلق غیر منصفانہ قانون کی برگشت و احیاء ہے۔

دیکھا جائے تو ابتداء میں امریکی ریاست کولمبیا کی ایک معروف یونیورسٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف سب سے پہلے معمولی مظاہرہ ہواتھا۔
یہ معمولی مظاہرہ امریکی حکومت کو برداشت نہ کر سکی۔
امریکہ جو ہمیشہ اسرائیل کے مظالم کا نہ فقط حا می رہا بلکہ اس کی پشت پناہ بھی بنارہا ۔ماضی میں اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی تمام قرارداد کو ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے امریکی حکومت اسرائیلی مظالم کی حمایت کرتی رہی ۔
امریکی حکومتوں کی طرف سے اسرائیل کو شروع سے اب تک جنگی جہازوں سے لے کر خطرناک کیمیائی ہتھیاروں میزائلوں اور بموں کے علاؤہ اربوں ڈالر کی امداد بھی ہوتی رہی جو کہ سب بھی جاری ہے۔امریکی حکومت نے کولمبیا یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے جبری استعفی تک لےلیا۔
حکومت کی اس غیر منصفانہ روش کے خلاف طلبہ تحریک دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کی دیگر یونیورسٹیوں اور یورپ سے ہوتی ہوئی اب دوبارہ مشرق کی طرف پہنچی ہے۔
2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے لئے گرین پارٹی سے وابستہ صدارتی امیدوار جل آسٹن نے بھی شرکت کی اور اسی شرکت کے جرم میں پولیس نے انہیں چند ساتھیوں سمیت گرفتار کیا۔
طلباء،اساتید دانشوروں ، سیاست دان اور عام عوامی حمایت کے سبب امریکہ و اسرائیل اس تحریک سے بہت خوفزدہ ہیں۔ آخر کیوں؟

یہ تحریک اس وقت امریکہ کی چالیس یونیورسٹیوں میں زور شور سے جاری ہے۔ان میں دس یونیورسٹیاں امریکہ کی ٹاپ یونیورسٹیاں ہیں جہاں امریکی اشرافیہ کی اولادیں زیر تعلیم ہیں۔جہاں وہ افراد تعلیم حاصل کررہے ہیں جنہوں نے آگے بڑھ کر سیاست دان ،تاجر اور سائنسدان بننا ہے اس وجہ سے امریکہ و اسرائیل کا خوفزدہ ہونا بے سبب نہیں۔
آزادی اور انسانی حقوق کے علمبردار اس تحریک کو انتہائی بےدردی سے کچلنے میں مصروف ہیں ۔دروازہ توڑ آپریشن اب طالبات کو بالوں سے گھسیٹنے،زمین پر پٹخنے،سرپھاڑنے،گلا دبانے ،لاٹھیاں برسانے سے ہوتا ہوا زہریلی و کیمیائی پانی کے حملوں تک جا پہنچا ہے۔
اس تحریک کو کچلنے کے لئے اس وقت سوشل میڈیا کے کئی ذرائع پر پابندی لگائی گئ ہے جن میں ٹک ٹاک بھی شامل ہے۔
غزہ اور فلسطینی حمایت اور اسرائیلی پروڈکٹس کے بائیکاٹ جیسی خالص انسانی ہمدردی کی تحریک میں تحریک کے حوالے سے عرب ممالک میں ابھی تک مکمل خاموشی ہے ۔ یہ فقط خاموشی ہی نہیں بلکہ عرب ملکوں میں اگلی سات نسلوں تک ذہنی و فکری غلامی کی طرف واضح اشارہ ہے۔

طالب علموں اور دانشوروں کی اس تحریک نے دنیا کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا ہے
جبکہ دوسرا گروہ انسانیت کا علمبردار اور مظلوموں کا حامی ہے۔ایک گروہ ظلم بربریت،طاقت اور غیر انسانی رویوں کا حامی ہے ۔
انسانیت کے علمبرداری اور ظالموں کی مخالفت کرنے والے گروہ یا بلاک کی علمبداری ایران کے ہاتھ میں ہے۔امریکہ میں جاری احتجاجات میں طلبہ و طالبات اور عام عوام ایران اور حزب اللہ کے جھنڈوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی تصاویر اٹھانے کے ساتھ ساتھ ایران کی انسانی ہمدردی و مظلومین جہاں کی حمایت و مدد کے گن گائےجارہے ہیں۔ایران کی انسان دوستی پر مشتمل خارجہ پالیسی کے حامی افراد امریکی یونیورسٹیوں کے علاؤہ دنیا کے کونے کونے میں نظر آتے ہیں۔
گویا ایران اس وقت دنیا میں انسانی حقوق کا علمبردار ہے۔
دوسری طرف دنیا میں ظلم و بربریت کے علمبردار امریکہ و اسرائیل ہیں۔
ایران نے اقوام عالم کے ضمیر جگانے کی بھی اچھی کوشش کی ہے یہی وجہ ہے کہ
اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں اکثر ممالک نے بڑے مارجن کے ساتھ فلسطین کو ایک آزاد خود مختار ملک اور اقوام متحدہ کے مستقل رکن کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد کو منظور کیا ہے۔اس قرار داد کے بعد اسرائیلی نمائندہ سیخ پا ہوتے ہوئے اقوام متحدہ میں قرارداد کے کاغذ پھاڑتے ہوئے اسکرین پر نظر آیا۔ البتہ یہ یاد رکھیں کہ کاغذات پھاڑنے سے حقائق بدل نہیں جاتے۔


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly