ایرانی صدر کی شہادت اور لمحہ فکریہ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


19 مئی، 2024ء کو ایران کے صوبے مشرقی آذربایجان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور اُن کے وزیرِ خارجہ سمیت ایرانی آذربائجان کے گورنر کی شہادتوں سے اسرائیلی ٹیکنالوجی کی برتری اور مسلمانوں کی سائنس وٹیکنالوجی میں پسماندگی ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔
اسی لئے تو میں ہر وقت اِس بات کا رونا روتا رہتا ہوں کہ مسلمان اقوام اپنے بچوں کو ترجیحی طور پہ سائنس وٹیکنالوجی سکھائیں کیونکہ انسانوں کا مستقبل اور قوموں کی ترقی وبقأ سائنس وٹیکنالوجی کے ساتھ وابستہ ہے، اور مُسلم اُمہ اِس وقت سائنس وٹیکنالوجی میں باقی دنیا سے بہت پیچھے اور دفاعی طور پہ کمزور اور معاشی وسیاسی طور پہ پسماندہ ہے۔

ایرانی صدر کے سکواڈ میں کُل تین ہیلی کاپٹرز موجود تھے لیکن اسرائیلی انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی نے صرف اُسی ہیلی کاپٹر کو شناخت اور نشانہ بنایا ہے جس میں ایران کے صدر، وزیرِ خارجہ اور ایک گورنر موجود تھے۔

اس حادثے کے بارے میں ایک اسرائیلی ٹوِیٹ نے 19 مئی کی صبح کو ہی سب کچھ واضح کر دیا تھا کہ اُن کے کسی ہدف میں اُس دن کسی ہیلی کاپٹر کا شکار کرنا شامل تھا، لہذا اب کسی شک وشُبہے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی کہ کس نے، کیسے اس تخریب کاری پر عمل کروایا۔
اسرائیلی وار رُوم نے حادثے والے دن صبح 8 بج کے 58 منٹ پہ صرف ایک ہیلی کاپٹر کی ذُو معنی تصویر ٹوِیٹ کرکے اپنی ٹیکنالوجی کی برتری اور اپنے جنگی اہداف کا واضح طور پہ قبل از وقت اظہار کر دیا تھا کہ اُس دن کچھ نہ کچھ وہ کسی ہیلی کاپٹر کے ساتھ کرنے والے تھے۔ اور پھر ٹھیک اُسی دن سہ پہر کو، ٹھیک اُسی طرح ہوا جیسا ٹوِیٹ کرنے والے وار رُوم کو اپنے مشن کی کامیابی کا پورا یقین تھا۔

بلاشبہ موجودہ ایرانی صدر اور مستقبل کے سپریم لیڈر کو شہید کرکے اسرائیل نے ایران پر بہت کاری ضرب لگائی ہے۔

یہ موسم کی خرابی اور قدرتی حادثہ ہرگز نہیں ہے کیونکہ تین میں سے صرف خاص ہیلی کاپٹر کے ساتھ ہی ایسا حادثہ پیش آنا ہمارے بہاولپور واقعے کے مُماثِل ہے۔

ایرانی بھول گئے تھے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں اور اُن کی قیادت ہر وقت اسرا ئیل کے راڈار پہ رہتی ہے۔ ایسے میں آذربائیجان جیسے حساس علاقے میں کسی امکانی خطرے کی پرواہ کئے بغیر مستقبل کے سُپریم لیڈر کو بھجوانا ایرانی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔

انقلابِ ایران کے بعد سے ایران میں اِقتدارِ اعلیٰ کا اصل مالک شیعہ روحانی رہبرِ اعلیٰ کو سمجھا جاتا ہے، اور پہلے روحانی رہبرِ اعلیٰ امام خمینی کے بعد اُن کے جانشین کے طور پہ اب اِس منصب پہ علی خامنائی صاحب فائز ہیں، لیکن سابق چیف جسٹس آف ایران ابراہیم رئیسی کو صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران بنا کر علی خامنائی کا جانشین اور ایران کے تیسرے رہبرِ اعلیٰ کے طور پہ تیار کیا گیا تھا لیکن اسرائیل نے اپنی انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل کے ایرانی روحانی رہبر (سُپریم لیڈر) کو نشانہ بنا کر ایران میں قیادت کا بحران پیدا کر دیا ہے، اور اب ایران کو علی خامنائی کے جانشین کے طور پہ فوری طور پہ کسی اور شخصیت کی تلاش اور اُس کی گرُومِنگ کرنی پڑے گی جسے تیسرے ایرانی سپریم لیڈر کے طور پہ تیار کیا جا سکے۔


میری اپنی زندگی میں، میرے اپنے ملک پاکستان میں بھی دو بار ایسا ہو چکا ہے کہ ایک بار پاکستان کے ایک فوجی صدر جنرل ضیأالحق کے طیارے کو بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے بہاولپور کے علاقے میں تباہ کرکے پاکستان کی قیادت کرنی والی اُس وقت کی بہت سی شخصیات کو ٹھکانے لگا دیا گیا تھا، اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی ایسی ہی کسی ٹیکنالوجی (لیزر گن) سے راولپنڈی میں شہید کیا گیا۔
بہاولپور سے اُڑنے والے بھی دو طیارے تھے لیکن جنرل اسلم بیگ والے طیارے کو عالمی ایجنڈے کے عین مطابق اسلام آباد پہنچا کر پاکستان میں نئے انتخابات کروا کے بینظیر بھٹو کو پاکستان اور عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم بنوا دیا گیا جبکہ دوسرے طیارے کو تباہ کر کے پاکستان کے فوجی سربراہ اور اُس کے ہراول دستے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا سے ہی رخصت کر دیا گیا۔

ایران اپنی خِفت مٹانے اور دنیا حقائق پر پردہ ڈالنے کے لئے جو مرضی کہتی رہے، اور صدر رئیسی کی شہادت کو بے شک اب خراب موسمی حالات اور قدرتی حادثے کے کھاتے میں ڈال دے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تبریز میں بھی وہی کچھ ہوا ہے جو کچھ دنیا کے اکثر دہشت گر دی کے واقعات میں اس سے پہلے ہو چکا ہے۔

اس سے قبل ایک ایرانی نیوکلیئر سائنسدان کو بھی ایران کے اندر فیس ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی کی مدد سے آٹومیٹک ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا تھا۔ بغداد میں جنرل قاسم سُلیمانی کو بھی گائیڈِڈ ٹیکنالوجی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔


لہذا اب ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اور ٹیکنالوجی ہی آپ کی طاقت اور دوسری اقوام پہ آپ کی برتری اور دنیا میں آزادی کی گارنٹی ہے۔

اسلام اور پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آج سے ڈیڈھ ہزار سال پہلے اپنے جن گھوڑوں کو ہمہ وقت تیار رکھنے کا حکم دیا تھا، اُس سے مُراد عصرِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق جنگی تیاری اور سامانِ حرب وضرب میں کمال حاصل کرتے رہنا تھا تاکہ مسلمانوں کو کوئی دوسری قوم یرغمال یا غلام کبھی بھی نہ بنا سکے لیکن افسوس کہ عصرِ حاضر کے تقاضوں، جدید علُوم وفنُون اور سائنس وٹیکنالوجی سے بے خبر مسلمان آج عالمی سطح پہ انتہائی قابلِ رحم حالت میں دوسری قوموں کے سیاسی و معاشی طور پہ غلام اور اپنے دفاع میں انتہائی کمزور اسی لئے ہیں کیونکہ ہم نے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق اپنی طاقت یعنی سائنس وٹیکنالوجی حاصل نہیں کر رکھی جس کی وجہ سے ہمیں دشمن سے مات کھانی پڑ رہی ہے، اور چند لاکھ کی آبادی والا ایک صیہونی ملک دو ارب آبادی والے ساٹھ اسلامی ممالک پہ محض اپنی اِقتصاد اور ٹیکنالوجی کی برتری کی وجہ سے بھاری ہے۔

یہ واقعہ ہمیں بیدار کرتا ہے کہ اس وقت عالمِ اسلام کا کوئی ملک اور کوئی بڑی شخصیت صیہونیوں کی سٹیلائیٹ آنکھ، انٹیلیجنس سے پوشیدہ اور ٹیکنالوجی کی مار سے دور نہیں ہے، اور یہ تو کامن سینس کی بات تھی اسرائیل پر گزشتہ ماہ کے ڈرون حملوں کے بعد سے ایرانی قیادت چوبیس گھنٹے صیہونیوں کی نگرانی اور ہِٹ لِسٹ پہ موجود تھی۔


اب جبکہ ایک انتہائی افسوناک واقعہ جب ہو ہی چکا ہے تو لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لئے مسلمان ممالک کو بھی اب ٹیکنالوجی کا توڑ برتر ٹیکنالوجی حاصل کرکے کرنا پڑے گا پلیز، کیونکہ دشمن کے اوزاروں سے جب تک آپ کے اوزار بہتر نہیں ہوں گے، تب تک آپ کامیاب نہیں ہو سکتے، اور یہ چند لاکھ کی آبادی والے اسرائیل کی برتر ٹیکنالوجی ہی ہے کہ اُسے مسلمان دنیا پہ کافی ساری برتری حاصل ہے۔


لہذا اب مُسلم اُمہ کو بھی یہ سوچنا ہے کہ وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق سائنس وٹیکنالوجی والے اپنے گھوڑے تیار کر سکتے ہیں یا نہیں۔اگر تو جواب اب بھی "نہیں" میں ہے تو پھر مزید تباہی وبربادی، بدترین غلامی اور بالادست قوموں کے رحم وکرم پہ رہنے اور بہاولپور، بغداد، تہران اور تبریز جیسی ٹارگٹ کِلّنگ کا شکار ہوتے رہیں گے۔ایک کے بعد دوسرے کی باری آتی رہے گی، معافی کسی کے لیے بھی نہیں ہوگی، اور پھر:

تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

نوٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے محبوب صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی مشرقی آذربائیجان کے علاقے ورزغان میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں شہید ہوگئے۔

صدر کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں آیت اللہ سید محمد علی الہاشم، تبریز کے امام جمعہ، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور تبریز کے گورنر ملک رحمتی بھی موجود تھے اور وہ بھی شہید ہوئے۔ اس حادثے میں شہید ہونے والوں میں صدر پروٹیکشن یونٹ کے سربراہ سردار سید مہدی موسوی، انصار المہدی کور کے ایک رکن، ایک پائلٹ اور ایک کو پائلٹ اور ایک ٹیکنیکل آفیسر بھی شامل ہیں۔ آیت اللہ رئیسی اور ان کے ساتھی جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی موجودگی میں قزقلاسی ڈیم کے افتتاح کی تقریب کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے تبریز جا رہے تھے، لیکن راستے میں ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا، جو وارزغان کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔

کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly