اللہیاری اور اسرائیلی مصنوعات

تنویر مطہری✒️

جو مسلمان ہے وہ کبھی بھی محفوظ نہیں۔ ڈاکٹرشہید ابراہیم رئیسی کی شہادت قربانیوں کے ایک تسلسل کی کڑی ہے۔چودہ سو سال سے منافقین و حاسدین مسلمانوں کے پیچھے پڑے ہیں۔ لباس انسانیت میں چھپے درندے حقیقی مسلمانوں کا تعاقب جگہ جگہ کر رہے ہیں۔ان درندوں کا کام اللہ کے صالح بندوں کی توہین کرنا ہے۔

آپ نے حسن الہیاری کے کلپس ضرور دیکھے ہونگے۔اس نے پرچم اسلام کا اور ایجنڈا کفار کا اٹھایا ہوا ہے ۔ یہ مسلمانوں کے درمیان ہی نفرتیں بانٹ رہا ہے۔اس کے شر سے سُنّی و شیعہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔یہ اسرائیل و امریکہ کے تلوے چاٹتا ہے جبکہ علمائے کرام اور مجتہدین کو گمراہ کہتا ہے۔ اسی طرح حضرت عمر و ابوبکر کو کافر کہتا ہے۔یہ اسلام کے خلاف ہارس ٹرجن تھیوری کا عملی مجسمہ ہے۔ نام اسلام اور اہلبیت کا استعمال کرتا ہے جبکہ اندر سے کام یورپ، امریکہ و اسرائیل کے منافع کیلئے انجام دے رہا ہے۔

ڈاکٹرشہید ابراہیم رئیسی اور انکے ساتھیوں کی شہادت سے امریکہ و اسرائیل اور ان کے پالتو و نمک خوار چیلوں کو بہت خوشی ہوئی۔اس خوشی کا اظہار اللہیاری نے بھی کیا۔ جس وقت ہیلی کاپٹر کے گم ہونے کی خبر چلی تو ساری رات مسلمان آقای رئیسی کی سلامتی کی دعائیں کرتے رہے جبکہ اللہیاری سمیت اسرائیلی و امریکی لے پالک خوشیاں مناتے رہے۔

یہاں پر یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ بہت سارے برادران اہلسنت سمجھتے ہیں کہ اللہیاری کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شیعہ دل و جان سے اتحاد کے قائل ہیں، شیعہ مراجع عظام نے دوسروں کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔اہل تشیع اہل سنت کے ساتھ برادرانہ اور فرعی اختلاف رکھتے ہیں جبکہ اللہیاری حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور امہات المومنین کی تکفیر اورتوہین کرتا ہے۔ یہ فلسطینی مسلمانوں کے بجائےاسرائیلی صہیونیوں کیلئے راہ عامہ ہموار کرنے میں مشغول ہے۔

یہ نا تو شیعہ ہے اور نہ ہی سُنی بلکہ یہ استعمار اور طاغوت کا ایجنٹ ہے۔ یہی بات حضرت امام خمینی نے انقلاب اسلامی کے آغاز میں کہی تھی کہ جو سُنّی اور شیعہ کے درمیان فرقہ واریت پھیلائے وہ نہ سنی ہے اور نہ شیعہ بلکہ وہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔ اس ملعون اللہیاری کی بد زبانی سے سارا جہان اسلام غیر محفوظ ہے۔

وہ مسلمان جن کو قران میں اللہ پاک نے ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔یہ انہیں لڑوا رہا ہے اور ان کے درمیان نفرت کو پھیلا رہا ہے۔ اگر ہم کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم اللہیاری کی ویڈیو ز وائرل کرنا ہی چھوڑ دیں۔ آپ چاہے سُنی ہیں یا شیعہ اگر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو اللہ یاری کے کلپس اور ویڈیوز کا بائیکاٹ کیجئے، فیس بک ہو یا وٹس ایپ اور یا یوٹیوب چینل۔۔۔ ہر جگہ اس کا بائیکاٹ کیجئے، اس کی رپورٹ کیجئے، اسے بے نقاب کیجئے۔۔۔یہی وقت ہے سوشل میڈیا پر اس دشمن اسلام سے جنگ کا، وہ سارے مسلمانوں پر حملہ آور ہے لہذا سب کو مل کر اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

صحابہ کرام کی توہین اور تکفیر سے لے کر آقای رئیسی کی توہین اور اہانت تک اس نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ اب ہم سب پر لازم ہے کہ ہم بھی اسکے کسی ویڈیو کلپ کو اپنے گروپس میں وائرل نہ ہونے دیں اور اس کے چینل کی اور وٹس ایپ گروپس نیز فیسبک اکاونٹس کی رپورٹ کریں۔اس وقت یہ رپورٹ کرنا، یہ بائیکاٹ کرنا کسی طرح بھی اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ سے کم نہیں۔کاش ہم سمجھ جائیں اور دوسروں کو یہ سمجھا سکیں کہ اللہیاری خود اسرائیلی مصنوعات میں سے ایک ہے۔


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly